تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : فوج کے نئے نویلے ’انچارج‘ کی خدمت میں چند معروضات

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فوج ان کی تابع فرمان ہے اور وہی پاک فوج کے انچارج ہیں۔ چند پاکستانی ٹیلی ویژن اسٹیشنوں کے نیوز ڈائیریکٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ فوج کی ہر نقل و حرکت سے آگاہ ہوتے ہیں اور انہیں سیاسی لیڈروں سے فوجی قیادت کی ہمہ قسم ملاقاتوں کی خبر ہوتی ہے۔
یہ بہت دلچسپ اظہاریہ ہے جس کا اعلان سرکاری طور پر کرنے کی بجائے اجلاس کے شرکا کے بیانات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بیان کی گئی باتوں سے کسی بھی وقت یہ کہہ کر انکار کیا جاسکتا ہے کہ بیان کرنے والے نے سمجھنے میں غلطی کی ہے ، ورنہ وزیر اعظم کے کہنے کا یہ مقصد تو نہیں تھا۔ حالانکہ سیاست میں فوج کی مداخلت کے بارے میں نواز شریف کی تقریر کے بعد ہر طرف سے یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ اس بات کی تردید یا تصدیق کی جائے کہ یہ الزامات درست ہیں یا غلط۔ کیا ملک میں ریاست کے اوپر کوئی ریاست کام کررہی ہے اور کیا وزیر اعظم محض کٹھ پتلی ہیں۔
گزشتہ اتوار کو ویڈیو لنک پر کی گئی نواز شریف کی تقریر اس قدر واضح اور براہ راست تھی کہ اس پر ذو معنی ہونے کا الزام نہیں دھرا جاسکتا۔ نواز شریف نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا کہ ملک میں جمہوریت کو تماشا بنا دیا گیا ہے۔ انتخابات سے پہلے ہی فیصلہ کرلیا جاتا ہے کہ کسے اقتدار سونپا جائے گا۔ اختیارات کا مرکز پارلیمنٹ کو ہونا چاہئے لیکن اسے بے اختیار بنا دیا گیا ہے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ اب اس صورت حال کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اسے تبدیل ہونا ہوگا۔ اسی لئے انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی جد و جہد عمران خان کے خلاف نہیں ہے بلکہ انہیں اقتدار میں لانے والوں کے خلاف ہے۔ تین بار ملک کا وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کے اس بیان کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں کسی خاص عہد کی بات کرنے یا کسی خاص پارٹی کو اقتدار تک پہنچانے میں فوج کے کردار کا ذکر کرنے کی بجائے ، اس صورت حال یا طریقہ کار کا ذکر تھا جو ملکی سیاست میں کارفرما رہا ہے۔ نواز شریف نے خاص تحریک انصاف کو اقتدار تک پہنچانے میں فوج کے کردار کا ذکر نہیں کیا بلکہ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اگرچہ آئین موجود ہے اور پارلیمنٹ منتخب کی جاتی ہے لیکن اصل اختیار بادشاہ گروں کے پاس رہتا ہے۔ انہوں نے بادشاہ گری کے اس طریقہ کو ختم کرنے کے لئے آواز بلند کی تھی۔ حالانکہ اس ’ اعتراف حقیقت‘ کے بعد سب سے زیادہ خود ان کی پوزیشن اور ماضی میں اقتدار تک پہنچنے کے طریقے پر گفتگو ہونا فطری تھا۔ یہ ایک طرح سے ملک پر تین بار حکومت کرنے والی پارٹی کے سربراہ اور وزیر اعظم کا اعتراف تھا جس میں غلطیوں کی اصلاح کی بات کی گئی تھی تاکہ ملک کو آئین کی روح اور عوام کی مرضی کے مطابق چلایا جاسکے۔ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ سیاست میں عسکری مداخلت کے تجربوں سے نہ تو جمہوریت مستحکم ہوسکی ہے اور نہ ہی ملک میں کوئی ایسا قابل عمل سماجی بہبود کی بنیاد پر مبنی نظام استوار ہؤا ہے جو عام لوگوں کو سہولت بہم پہنچاتا اور ملکی معیشت خوشحالی کی طرف گامزن ہوتی۔ یہ صورت حال اس طریقہ کار کی ناکامی ہے۔ اس لئے کسی بھی سیاست دان کی طرف سے اس طریقہ کو ترک کرنے کا مطالبہ یا مشورہ فطری اور ضروری ہے۔
اس واشگاف چارج شیٹ کا جواب بھی اتنا ہی غیر متزلزل، واضح اور صاف ہونا چاہئے تھا۔ یہ ضروری تھا کہ پاک فوج کا ترجمان اور وزیر اعظم ہاؤس اس بارے میں اپنی پوزیشن واضح کرتے۔ نواز شریف نے ملک میں سیاسی انتظام کی جو تصویر کشی کی ہے ، اسے تسلیم کرتے اور یہ اقرار کیا جاتا کہ اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور اس کے طریقہ کار پر مل جل کر بات کرلی جائے۔ یہ رویہ موجودہ بحران سے نکلنے کا سب سے مناسب اور قابل عمل راستہ ہوسکتا تھا۔ اب بھی یہ طریقہ اختیار کرنے کا امکان موجود ہے ۔لیکن نواز شریف کی تقریر اور اس پر رد عمل دینے اور سیاست دانوں کی کریڈیبلٹی ختم کرنے کے لئے پہلے بالواسطہ کوششوں کا آغاز ہؤا جس میں وزیر ریلوے شیخ رشید نے بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے سوال پر پارلیمانی لیڈروں سے فوجی قیادت کی ملاقات کا انکشاف کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ سیاسی لیڈر دراصل فوج سے سہولت لینے کے لئے آرمی چیف سے ملنے گئے تھے۔
شیخ رشید کی یہ رنگ آمیزی کام نہیں آئی کیوں کہ جلد ہی یہ تفصیلات سامنے آگئیں کہ یہ ملاقات آرمی چیف کی دعوت پر ہوئی تھی اور اسے ان کیمرا یعنی خفیہ قرار دیا گیا تھا ۔ یعنی نہ تو اس ملاقات کا اعلان ہوگا اور نہ ہی اس بارے میں میڈیا سے بات کی جائے گی۔ نواز شریف کی تقریر کے بعد کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق شیخ رشید کو آگے کرکے ملک کے سیاسی ماحول میں سراسیمگی اور شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ جب اس غبارے سے ہوا نکل گئی اور نواز شریف کی تقریر کو بے اثر کرنے کا مقصد حاصل نہیں ہوسکا تو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے خود ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ ’انکشاف ‘ کرنا عین قومی مفاد کے مطابق سمجھا کہ مسلم لیگ (ن) کے لیڈر اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی اگست کے آخری اور ستمبر کے پہلے ہفتے میں آرمی چیف سے دو ملاقاتوں کا حال بتائیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کریں کہ یہ ملاقاتیں نواز شریف اور مریم نواز کے معاملات پر ریلیف لینے کے لئے کی گئی تھیں۔ اس تاثر اور دعوے کی تردید کے بعد بھی انکشافات اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے، جس میں آخری اور سب سے زوردار پتہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر عبدالغفور حیدری نے پھینکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ سال آزادی مارچ کے موقع پر آرمی چیف نے انہیں ملاقات کے لئے بلایا تھا اور مارچ نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا تھا کہ فوج جو کچھ نواز شریف کے ساتھ کررہی ہے ، مولانا فضل الرحمان اور جمیعت علمائے اسلام اس میں مداخلت نہ کریں۔
سیاست میں فوجی مداخلت کی اس عینی شہادت کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع پر چند ٹی وی چینلز کے نیوز ڈائیریکٹرز کو ملاقات کے لئے بلایا اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ وہی فوج کے نگران ہیں۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی ہے کہ ان کی پارٹی بدعنوان نہیں ہے ، اس لئے فوج تحریک انصاف کے منشور پر عمل کرتی ہے اور میری پالیساں نافذ کرتی ہے۔ اس بات کو اگر اس کی فیس ویلیو پر بھی مان لیا جائے تو بھی اسے سیاست میں فوجی مداخلت کی تصدیق ہی مانا جائے گا۔ یہ بیان کسی طور بھی فوج کے اس کردار کی تصویر پیش نہیں کرتا جو ملک کا آئین اس کے لئے متعین کرتا ہے۔
کسی بھی پارٹی کا منشور سیاسی، سماجی، معاشی، سلامتی ، سفارتی اور خارجہ امور سے متعلق ہوتا ہے اور کوئی بھی پارٹی برسر اقتدار آکر پارلیمنٹ کے تعاون اور حکومتی ڈھانچے کے ذریعے اس پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اقتدار میں آکر کوئی وزیر اعظم ، فوج کو یہ ذمہ داری تفویض نہیں کرتا کہ وہ اس کے منشور پر عمل کرے۔ اگر عمران خان کے لئے فوج ایسا کام کررہی ہے تو اسے ماورائے آئین انتظام ہی کہا جائے گا۔ نواز شریف کے اعتراض کا جواب اسی صورت دیا جاسکتا ہے اگر اس انتظام کو قانونی حیثیت دینے کے لئے پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم پیش کی جائے۔ بصورت دیگر فوج کی پوزیشن اور عمران خان کی حیثیت کے بارے میں شبہات ختم نہیں ہوں گے۔
کمال سادگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان نے اعتراف کیا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) فوج نے قائم کی تھیں۔ گویا وہ نواز شریف کے اس بیان کی تصدیق کررہے ہیں کہ فوج ملکی سیاست میں مہرے آگے پیچھے کرتی ہے۔ اگر ساٹھ کی دہائی میں پیپلز پارٹی اور نوے کی دہائی میں مسلم لیگ (ن) کو فوج نے کھڑا کیا تھا تو اس بات پر کیوں اعتبار کیا جائے کہ عمران خان کی تحریک انصاف کو اقتدار تک پہنچانے میں فوج نے کوئی کردار ادا نہیں کیا جبکہ اس کے چئیرمین اور وزیر اعظم یہ اعتراف بھی کررہے ہیں کہ فوج ان کی پارٹی کے منشور پر عمل کررہی ہے۔ عمران خان کو جاننا چاہئے کہ اس طرح ملکی فوج پر اپنے اختیار کی کہانی کو قابل اعتبار نہیں بنایا جاسکتا۔ اور فوج کو یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہوتا ہے۔
نواز شریف کی تقریر کے بعد سیاست میں فوج کی مداخلت کا معاملہ ملک کے سیاسی مباحث میں سر فہرست ہے۔ عمران خان نے اقتدار کے دو برسوں میں کرپشن اور احتساب کے نعروں کو بیچا ہے، اب یہ نعرے اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔ اسی لئے اب عمران خان اور تحریک انصاف کا نیا نعرہ بھارت میں اسلاموفوبیا اور پاکستان میں فحاشی کی وجہ سے جنسی جرائم میں اضافہ ہے۔ یہ نعرے بھی حکومت کی بے عملی اور بے تدبیری کی وجہ سے جلد ہی اپنی اہمیت کھو دیں گے۔ عمران خان کو اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لئے فوج اور سیاست کے تعلق پر واضح اور صاف مؤقف اختیار کرنا پڑے گا۔ فوج کے اقدامات کو اپنا کارنامہ بتا کر عمران خان کی سیاسی اہمیت میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔
دہائیوں سے فوج نے بھارت اور افغانستان کے بارے میں ملکی پالیسی مرتب کی ہے۔ اب اسے عمران خان اپنا کارنامہ بتا رہے ہیں۔ جنرل باجوہ، عمران خان کی تقریب حلف برداری میں میں بھارتی مندوب نوجوت سنگھ سدھو سے بات کرتے ہوئے کرتار پور راہداری کھولنے کا وعدہ کرچکے تھے۔ اب اس کی اونر شپ کا اعلان کرکے عمران خان کو شرمندگی اور ہزیمت کے علاوہ کچھ نہیں مل سکے گا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker