ایم ایم ادیبکالملکھاری

میاں نواز شریف کا خودکش خطاب ۔۔ ایم ایم ادیب

ابھی تک کوئی مائی کا لال یہ بھید نہیں جان پایا کہ میاں نواز شریف کو پاک فوج کے خلاف اتنی واشگاف اور کھلم کھلا نفرت کا اظہار کرنے کی کی کیا ضرورت پڑ گئی ۔بادی النظرمیں ان کے بہی خواہ ایسے بغض وعناد کے میسج اپنے ملنے والوں کو سینڈکرتے ہی رہتے ہیں ،یہ الگ بات کہ ایک لاشعوری خوف ان کے لفظ لفظ سے عیاں ہوتا ہے ۔
اپنی خود ساختہ جلا وطنی کے دنوں میں جب میاں صاحب دبئی تشریف لاتے تو طبلچی کے طور پر لاہور کے ایک کالم نگار کو بالخصوص بلایا جاتا کہ میاں صاحب کو گرمانے کے لئے ضروری ہوتا تھا ،دوسرا یہ کہ میاں صاحب جب کوئی لطیفہ چھوڑیں تو طبلچی اور اس کے ہمنوا ان کے پھسپھسے لطیفے پر بھی قہقہوں کا طوفان کھڑا کر کے انہیں یقین دلائیں کہ لطیفہ خوب تھا ۔
یہی حادثہ میاں نواز شریف صاحب کی اسلام آباد اے پی سی میں پیش آیا ،جہاں کہاں سے چُنے ہوئے الفاظ جوانہوں نے خطاب کی زینت بنائے ان پر ان کے ایک بہی خواہ کالم نگار نے اپنے یوٹیوب چینل پر اعتراف کیا ،جس کا مفہوم یہی تھا کہ لالہ و گل اور بلبل نے ملکر سب اوراق جمع کئے ۔بہر حال پاک فوج کے خلاف بغض وعناد کا جو وطیرہ بارہ اکتوبر 1999ءمیں سو صندوق کے ہمراہ کی گئی نام نہاد جلا وطنی کے بعد میاں صاحب جسے حرزجاں جاں بنایا ہوا ہے اسی کا دیرینہ اظہار فرمانے میں انہوں نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور ثابت قدمی کا شاندار مظاہرہ کرکے خوب داد پائی۔
20ستمبر کو میں اسلام آباد ہی میں تھا کہ فاطمہ بیٹی کی یو ینورسٹی 21ستمبر کو کھلنا تھی ،دوسرا یہ کہ چھوٹی بہو کو بھی ان کی والدہ سے ملانا تھا ،سو اسی بہانے اے پی سی کی گہما گہمی liveدیکھنے کا موقع مل گیا اور جڑواں شہر کے دانشوروں کی آرا direct
جاننے کو مل گئیں ،یہ کیا کم خوش نصیبی تھی (حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے سیکریٹری اور معروف شاعر خلیق الرحمان کی محبت و کاوش کا صلہ تھا ) ہاں مگر ایک بات جو سمجھ سے بالاتر تھی اور ہے کہ آخر اس کھیل کے رچانے کی ضرورت کیا تھی؟
اگر حاصل گفتگو میاں نواز شریف کی تقریر ہی نے بننا تھا تو ایم کیوایم کے سرخیل الطاف حسین کی طرح ٹیلی فونک خطاب کے ذریعے مسلم لیگ ن و دیگر سیاسی جماعتوں کے سربر آوردہ رہنماﺅں اور سرگرم سیاسی کارکنوں کو سنائی جاسکتی تھی ،اتنے
بڑے تردد کی چنداں ضرورت نہ تھی ،ساتھ ہی مریم نواز کا خطاب بھی رکھ دیا جاتا تو کھڑکی توڑ شو ہوسکتا تھا،مگر ایسا نہیں ہوا۔
دراصل کچھ لوگ یہ باور کرنے لگے تھے کہ میاں نواز شریف کے ایما پر یا کم ازکم میاں شہباز شریف ،احسن اقبال ،خواجہ آصف اورسابق گورنر سندھ زبیر صاحب کی ذاتی تگ و تازجو عسکری حلقوں میں جگہ بنانے اور مسلم لیگ ن کا اعتماد پھر سے بحال کرنے کے لئے کی جا رہی تھی اسے سبوتاژ کیا جائے ،فاصلوں کو مٹانے کی کوششوں کو بار آور نہ ہونے دیا جائے یوں بھی مسلم لیگ ن کی جڑیں جی ایچ کیو میں ہی ہیں وہ جب بھی کمزور ہونے لگتی ہیں ،مراجعت کا آخری راستہ اس کے لئے وہی ہوتا ہے جس پرچلکر صبح کابھولا شام کو آخر کار گھر کی راہ پا ہی لیتا ہے ۔تاہم اس بار بلاول زرداری جن کے پیچھے اکیسویں صدی کے میکاﺅلی کے آہنی ہاتھ تھے ،وہ جس کی دور اندیش نگاہیں حالات کے دھارے کو خوب خوب پہچانتی ہیں ،انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ نواز شریف فوج کی نفرت کو درون دل سنبھال نہیں پاتے اور بِنا سوچے ،سمجھے آپے سے باہر ہوکر ہی رہتے ہیں کہ آخر کو انہیں میاں شریف صاحب کا ” بھولا پتر“ ہونے کا اعزاز بھی تو حاصل ہے ۔
یوں بھی نفرت ایسا جذبہ ہے جوہر ظرف میں سما جانے اور مستقل پناہ لے لینے کی سکت نہیں رکھتا ،بہت کم لوگ اس پر قابو پالینے کی ہمت سے سرشار ہوتے ہیں ،جو ضبط کر لینے کا ہنر جانتے ہیں وہ زمانے بھر کی صعوبتیں اٹھالینے کی ہمت بھی رکھتے ہیں ۔جو میاں صاحب کے بس کی بات نہیں ہے ،وہ پہلے بھی عوام سے دامن چھڑا کر سعودیہ آسودہ حال جا ہوئے تھے اور اب بھی یہی کچھ کیا ۔وہ جسے اپنی قائم مقام بنانے کے دل و جان سے آرزومندہیں ،اسے بھی بہت جلدی ہے اس لئے اس نے اپنی سیاست کی بنیاد ہی پے در پے دروغ گوئیوں پر رکھی ہے ،اس لئے اس کے امنگوں بھرے سارے امکانات کے دروازے ایک ایک کر کے بند ہوتے جارہے ہیں ۔سیاست کی بساط کے پٹے ہوئے مہرے اس کے لئے کیا کر سکتے ہیں ،یہی کہ اسے خوش فہمیوں کی بلند تریں عمارت پر چڑھا کر نیچے سے سیڑھی ہٹالیں ۔
اے پی سی کا اصل مقصد و مدعا کیا تھا ؟ اہل خرد اس کے سامنے سوالیہ نشان سجائے ہوئے ہیں ،تاہم یارانِ سرپل کا مقصد پورا ہوا یا نہیں ،میاں نواز شریف کے صاحب ِ فراش ہونے کے راز پر سے پردہ اٹھ گیا کہ دورانِ خطاب وہ ہشاش بشاش
اور ایک کامل صحتمند انسان لگ رہے تھے ،ان کا لہجہ بھی بیمار آدمی کا سا نہیں تھا۔
یہاں مولانا کی نیک خواہشات کا ذکر بھی بہت ضروری ہے جو تحریک انصاف حکومت کو اول دن سے ٹف ٹائم دینے کی تگ و دو میں رہے ہیں ۔اے پی سی کے پلیٹ فارم پر وہ پر مسرت تو بہت دکھائی دیئے ،مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان دو سالوں میں ان کی ہر مسرت چہرہ بدل لیتی رہی ہے ،2oستمبرکی تابڑ توڑ کوششیں بھی ابھی شاید ہی ثمربار ثابت ہوں کہ دوراندیش لوگ ابھی مسلم لیگ ن پر اعتماد کرنے کے جذبے سے تہی ہیں ،ان کی معنی خیز مسکراہٹ ابھی بھی پر اطمینان دکھائی نہیں دیتی اور مولانا کو بھی یقین کر لینا چاہئے کہ ابھی وہ گھڑی نہیں آئی جو آپ کی پتلیوں میں ایک خواب کی طرح اٹکی ہوئی ہے۔
چلے چلو کہ ابھی وہ منزل نہیں آئی

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker