ادبرضی الدین رضیلکھاری

ڈاکٹر انورزاہدی کے بائسکوپ میں ہمارے حصے کے مناظر ۔۔ رضی الدین رضی

ڈاکٹرانورزاہدی سے ہماری پہلی ملاقات 1980ءکے عشرے کے اوائل میں ہوئی تھی ۔ ملتان کینٹ کے صدر بازارمیں ڈاکٹرمقصودزاہدی کاہومیوپیتھک کلینک بھی اس زمانے میں ایک ادبی بیٹھک کی حیثیت رکھتاتھا ۔وہاں دن کے مختلف اوقات میں ادیبوں ،شاعروں اورمریضوں کی بیک وقت آمدورفت جاری رہتی تھی (بسااوقات ادیب اورمریض میں تمیزکرنابھی مشکل ہوجاتاتھا)اسی ادبی بیٹھک نماکلینک کے ایک کونے میں ڈاکٹرانورزاہدی نے بھی ایک بیٹھک قائم کرلی ۔وہ اس زمانے میں ایران سے واپس آئے تھے اوروہاں سے ہمارے لئے ”دریچوں میں ہوا“بھی لائے تھے ۔وہ مارشل لاءکازمانہ تھاصدر بازار کی اس ادبی بیٹھک میں جنرل ضیاءکی آمریت زیربحث رہتی تھی اورساتھ ساتھ اس بات پربھی غورکیاجاتاتھاکہ صدر بازارکانام آخر صدر بازار کس نے رکھا اورکیوں رکھا ؟اوریہ سوال اس لئے زیربحث آتاتھا کہ جنرل ضیاءنے صدر کاعہدہ بھی سنبھال رکھاتھا۔حبس کے اس موسم میں انورزاہدی کی کتاب ”دریچوں میں ہوا“ایک استعارہ تھی گھٹن کے خلاف مزاحمت کا۔نامورمصورذوالفقاربھٹی نے سفیدکاغذ پراس کاسیاہی مائل سرورق بنایااورکلینک پرمریضوں کے انتظارکے دوران ڈاکٹرانورزاہدی نے بٹرپیپرپرپیلیکن کی سیاہی کے ساتھ اپنی نظمیں انتہائی خوشخط لکھیں ۔اورمجھے یادہے کہ میں نے ڈاکٹرانورزاہدی سے کہاتھاکہ آپ نے یہ تاثرغلط ثابت کردیاکہ ڈاکٹربدخط ہوتاہے ڈاکٹرکے پاس اگرمریضوں کاہجوم نہ ہوتووہ بھی بہت خوشخط ہوسکتاہے ۔”دریچوں میں ہوا“کی کتابت سے طباعت تک کے مراحل میں ڈاکٹرانورزاہدی کے ساتھ ساتھ اظہرسلیم مجوکہ ،شاکرحسین شاکر اورخودمیں بھی شریک رہا۔اسی زمانے میں وہ ”سنہرے دنوں کی شاعری “لائے ۔یہ ڈاکٹرانورزاہدی کے ادبی سفرکاآغازتھا۔
وہ بہت خوبصورت زمانہ تھا۔خوابوں اورتعبیروں کازمانہ۔ آج کم وبیش چالیس برس بعد پلٹ کردیکھتاہوںتومحسوس ہوتاہے کہ جیسے تعبیریں توکہیں راستے میں کھوگئیں اب صرف جھلسے ہوئے خواب ہی ہمارے دامن میں باقی رہ گئے ہیں اورتواوروہ سنہرے دن بھی اب ہمارے خوابوں کاحصہ بن چکے ہیں جن میں ہم بے فکری کے ساتھ شہرمیں گھومتے تھے اوران سنہرے دنوں کو بھی سنہرانہیں سمجھتے تھے ۔
اٹھارہ سے زیادہ کتابوں کے مصنف ڈاکٹرانورزاہدی نے چندبرس قبل مجھے اپنی کہانیوں کامجموعہ ”مندروالی گلی “ارسال کیاتومیں نے ان سے کہاتھاکہ ”مندروالی گلی “میں تومجھے جابجاپرہلادجی اورسورج کنڈکے مندروں والا ملتان دکھائی دیتاہے۔مجھے پرانے ملتان میں واقع نواں شہر کے منظرنامے جابجااپنی جانب متوجہ کرتے ہیں ۔ڈاکٹرانورزاہدی نے اب یوں کیاکہ وہ مندروالی گلی سے ”بائیسکوپ دن“ اٹھالائے ۔”بائیسکوپ دن “دراصل خواب ہوتے اورہواہوتے دنوں کی کہانی ہے ۔کہنے کو تویہ کہانیاں ہیں لیکن ان کہانیوں میں ڈاکٹرانورزاہدی نے سنہرے دنوں کی بہت سے یادوں کو یکجاکردیاہے ۔ایک بھرپورناسٹیلجیاہے جوہمیں ان کہانیوں میں ملتاہے ۔کتاب میں اگرچہ تیرہ کہانیاں شامل ہیں لیکن دراصل یہ ایک ہی کہانی ہے ۔ہرکہانی کہیں نہ کہیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ۔بہت سے کرداروں میں مرکزی کردار انورزاہدی کاہے جس کانام توکوئی اورہے لیکن جب وہ گئے دنوں کی راکھ کریدتاہے توہمیں اس کاچہرہ واضح طورپردکھائی دینے لگتاہے ۔وہ مندروالی گلی میں گھومتاہے ۔وہ بائیسکوپ پربارہ من کی دھوبن دیکھتاہے ،وہ پرانے کاغذوں میں اپنے خوبصورت ماضی کوتلاش کرتاہے اورپھروہ گلیوں میں گم ہوتاہے توبابومحلے میں جانکلتاہے وہی بابومحلہ جہاں میرابچپن گزراتھاوہ وہاں کے ایک ایک کوچے ایک ایک گلی اورایک ایک باسی کاذکرکرتاہے ۔انورزاہدی کہانی لکھنے کاہنرجانتے ہیں ،مندروالی گلی کے پیش لفظ میں انہوں نے کہانی کی تکنیک کے حوالے سے نامورافسانہ نگارڈاکٹرعرش صدیقی کی گفتگوکاحوالہ دیا،عرش صاحب کہتے ہیں ۔
”ہسپتال میں لیبرروم کے باہر منتظرعزیزوں کو جب نرس آکریہ بتاتی ہے کہ ”مبارک ہو۔۔ بچہ ہواہے “توکہانی نہیں بنتی ۔۔کہانی تودرحقیقت اس وقت شروع ہوتی ہے جب نرس لیبرروم سے باہر آکریہ کہتی ہے کہ ”دعاکریں ۔۔کچھ پتہ نہیں کیاہوگا“۔
یہی غیریقینی صورتحال ہمیں ڈاکٹرانورزاہدی کی کہانیوں میں ملتی ہے ۔رواں دواں ،تخلیقی جملے اورحیران کردینے والے مناظر۔وہ کہانی کو ایک ڈرامائی موڑ دے کربہت سے سوال قاری کے لئے چھوڑدیتے ہیں ۔یہ تحیر،یہ تسلسل اورتخلیقی حسن انہیں معاصرافسانہ نگاروں میں ایک ممتاز اورمعتبرمقام دیتاہے ۔آئیے بائیسکوپ دن کامطالعہ کرتے ہیں ،انورزاہدی کے بائسکوپ میں ہمارے حصے کے مناظربھی دکھائی دیں گے ،اپنی اپنی کہانیاں بھی سنائی دیں گی ۔کہانی تو انورزاہدی کی ہوگی لیکن مناظراورکردارہمارے ہوں گے اورماسی فجاکاطوطاہمیں طوطاکہانی سنائے گا۔شاید فیری ٹیلزوالی پری کی ہی کہانی سنادے پھرہم اپنے اپنے بائسکوپ لے کر انورزاہدی کے ہمراہ گلیوں میں جائیں گے اوراس لئے جائیں گے کہ آخرہم سب نے بائیسکوپ والے کی طرح اپنی اپنی بینائی سے محروم ہوناہے اور کہانی کاحصہ ہوناہے ۔

( دو جنوری 2014 ء ۔۔ ادبی بیٹھک میں بائسکوپ دن کی تعارفی تقریب میں پڑھا گیا )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker