تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : وزیر اعظم کتنے لاکھ لوگ قربان کرنا چاہتے ہیں؟

عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر کے ملکوں کو کورونا وائرس کے بارے میں لاپرواہی برتنے سے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وائرس جلدی ختم ہونے والا نہیں ہے بلکہ ویکسین دستیاب ہونے تک موجود رہے گا۔ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے احتیاط اور ضروری اقدامات کو پس پشت نہ ڈالا جائے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور انسانی حقوق کمیشن نے بھی حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کے معاملہ کی اہمیت کو نظر انداز نہ کرے ۔ ان دونوں اداروں نے خاص طور سے رمضان المبارک کے دوران مساجد میں عبادات کا اہتمام کرنے کو غلط فیصلہ قرار دیا اور حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس فیصلہ کو واپس لے۔
وزیر اعظم عمران خان البتہ اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم ہاؤس میں ’احساس ٹیلی تھون‘ کے تحت چندہ اکٹھا کرنے کی مہم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سندھ میں شدید لاک ڈاؤن کو ’کم ہمتی‘ سے تعبیر کیا اور دعویٰ کیا کہ ’اگر خود پر اعتماد ہو تو لیڈر کمزور فیصلے نہیں کرتے‘۔ اس بیان سے سندھ حکومت کے ساتھ سیاسی حساب برابر کرنے کے سوا کوئی دوسرامقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ وزیر اعظم بدستور یا تو کورونا وائرس کی سنگینی کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا وہ چند ہزار یا لاکھ لوگوں کی ہلاکت کو بڑا نقصان نہیں مانتے بلکہ اسے اس وائرس کی قیمت سمجھ کر ادا کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ یہ وہی سوچ ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اختیار کی ہے۔ وہ سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے معاشی سرگرمیاں بحال کرنا چاہتے ہیں تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری میں ٹھہراؤ پیدا ہو اور نومبر میں صدارتی انتخاب میں وہ ووٹروں رجھا سکیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ لوگ معاشی بہتری کی قیمت پر چند ہزار یا لاکھ افراد کی ہلاکت کو بھول کر جوق در جوق انہیں دوبارہ منتخب کرلیں گے۔
عمران خان نے اپنے مخصوص انداز میں پاکستان کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے دراصل اپنے ووٹ بنک کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ عمران خان کا خیال ہے کہ ملک پہلے ہی معاشی ابتری کا شکار ہے۔ اب کورونا وائرس کی وجہ سے ملکی معیشت پر بوجھ میں غیر معمولی اضافہ ہؤا ہے۔ امریکہ ہو یا پاکستان جب سماج کے کم آمدنی والے طبقہ کو مالی مشکلات کا سامنا ہوگا اور وہ اپنے گھر کا خرچ چلانے میں مشکل کا سامنا کرے گا تو اس کا غصہ فطری طور سے حکمران پر نکالے گا۔ سنجیدہ اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کرنے والی حکومتیں مختصر المدت سیاسی فائدے کی بجائے طویل المدت نتائج کو پیش نطر رکھتی ہیں اور قومی نوعیت کے مسائل حل کرتے ہوئے پارٹی پالیٹکس یا ذاتی مقبولیت کو اہمیت نہیں دی جاتی ۔ مقبولیت اور سستی شہرت کی بنیاد پر برسر اقتدار آنے والے لیڈر البتہ اس کلاسیکل اور جمہوری طریقہ کو اپنی ذاتی مقبولیت کے لئے مناسب نہیں سمجھتے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال امریکہ کے صدر ٹرمپ ہیں۔ ان کی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے امریکہ میں مناسب وقت پر کورونا کی روک تھام کے انتظامات نہیں کئے جاسکے اور جب حالات قابو سے باہر ہوگئے تو صدر ٹرمپ نے مخالف سیاست دانوں سے لے کر میڈیا، ماہرین ، عالمی ادارہ صحت اور چین تک کو اس ناکامی کا ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی۔ اب ان کی خواہش ہے کہ کسی طرح معیشت کا جام پہیہ چلنے لگے تاکہ انہیں اپنی انتخابی مہم کے لئے کچھ دعوے میسر آسکیں۔
حیرت انگیز طور پر عمران خان امریکی لیڈر جیسا طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہیں اور آج اپنی گفتگو میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر اپنی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ چالیس ہزار اموات کے باوجود معیشت کھولنے کی بات کررہا ہے تو پاکستان جیسا بے وسیلہ اور غریب آبادی کا حامل ملک کیسے طویل دورانیے کا لاک ڈاؤن کرسکتا ہے۔ یہ بیان دیتے ہوئے وہ یہ بھول رہے تھے کہ ٹرمپ کے اس مؤقف کو وہاں کی اپوزیشن ، ماہرین اور میڈیا بیک زبان مسترد کررہا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ اپنی بات منوانے کے لئے اب اپنے حامی گروہوں کے ذریعے احتجاج منظم کروانے کا اہتمام کررہے ہیں تاکہ ریاستی گورنروں کو تجارتی ادارے کھولنے پر مجبور کیا جاسکے۔
پاکستان میں عمران خان کو ایسا پریشر گروپ بنانے کی ضرورت پیش نہیں آئی بلکہ ملک کے مذہبی لیڈروں نے خود ہی بڑھ کر اپنی خدمات پیش کردیں۔ اب وزیر اعظم ایک طرف یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے ملک کے عوام کو جانتے ہیں۔ انہوں نے ہر پابندی کے باوجود رمضان میں مساجد میں جمع ہونا تھا اس لئے علما کے ساتھ مل کر مصالحانہ راستہ تلاش کیا گیاہے۔ تاہم اسی سانس میں وہ لوگوں کو گھروں پر رہنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں اور علما کو متنبہ کرتے ہیں کہ مساجد میں قواعد پر عمل کروانا ان کی ذمہ داری ہے۔ وزیر اعظم اگر عوام کو اتنا ہی جانتے ہیں تو وہ یہ بھی جانتے ہوں گے جن پابندیوں کا صدر مملکت اور علما کے معاہدہ میں ذکر ہے ، پاکستان کی شاید ہی کسی مسجد میں اس پر عمل ممکن بنایا جاسکے۔
اسی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان میڈیکل کونسل کے رہنماؤں نے رمضان المبارک میں مساجد کھولنے کا فیصلہ واپس لینے کی اپیل کی ہے اور کہا کہ یہ دلیل درست نہیں ہے کہ اگر لوگ کورونا سے نہیں مریں گے تو بھوک سے مر جائیں گے۔ پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی نے کہا کہ اگر زندگی باقی رہے تو انسان امکانات پیدا کرسکتا ہے لیکن اگر کورونا وائرس کی صورت میں انسانی زندگیوں کو لاحق اس سنگین خطرے سے درست طریقے سے نہ نمٹا گیا تو پاکستان کو ایسی تکلیف دہ صورت حال کا سامنا ہوسکتا ہے جس سے نمٹنا پاکستانی نظام کے بس میں نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر نظامی کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد افراد کورونا وائرس کا شکار ہیں۔ البتہ یہ لوگ اس لئے اعداد و شمار میں شامل نہیں ہیں کیوں کہ ملک میں صرف ان لوگوں کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے جن میں بیماری کی علامات ظاہر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ کورونا سے متاثر ہونے والے 80 فیصد لوگوں میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ اس طرح ہم ملک میں کورونا متاثرین کی اصل تعداد سے بے خبر ہیں لیکن یہ خاموش وائرس کیرئیرز دوسرے لوگوں کو وائرس منتقل کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اسی لئے لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلہ پر سختی سے عمل کروانا بے حد ضروری ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چئیرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن نے بھی ایک بیان میں اسی قسم کی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومت کی پالیسی غیر واضح ہے اور فیصلے کرنے کی شدید کمی محسوس کی جارہی ہے۔ ڈاکٹر مہدی حسن نے اس بات پر شدید پریشانی کا اظہار کیا ہے کہ’ ملکی آبادی کے بڑے حصے کو سنگین خطرہ لاحق ہے لیکن حکومت مساجد کھولنے اور عبادات کا اہتمام کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔ حکومت کے طرز عمل سے لگتا ہے کہ وہ سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لئے ایک صوبے کی حکومت کو تختہ مشق بنا کر سرمایہ داروں اور مذہبی گروہوں کے دباؤ میں کام کررہی ہے‘۔
وزیر اعظم کے علاوہ ان کے نمائیندے کورونا وائرس کے بارے میں سندھ حکومت کے خلاف بیان بازی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ پاکستان میڈیکل کونسل کے انتباہ سے پہلے کراچی کے چند سینئر ڈاکٹروں نے وزیر اعظم کے علاوہ علما کے نام ایک خط میں رمضان المبارک میں مساجد کھولنے کا فیصلہ تبدیل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اس سے پیدا ہونے والے خطرات سے آگاہ کیا تھا۔ تاہم تحریک انصاف کے لیڈر ڈاکٹر شہباز گل نے اسے سندھ حکومت کا سیاسی ہتھکنڈا قرار دیتے ہوئے ان ڈاکٹروں پر الزام لگایا تھا وہ وائرس کے نام پر سیاست کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سندھ حکومت اپنا مؤقف ثابت کرنے میں ناکام ہوگئی تو ڈاکٹروں کو آگے کردیا۔ بار بار اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کے اختیارات کی دہائی دینے کے باوجود وفاقی حکومت نے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی طرف سے سندھ میں لاک ڈاؤن جاری رکھنے اور اسے سخت کرکے وائرس کے حملہ سے بچاؤ کی تمام کوششوں کو ناکام کیا۔ اس دوران وزیر اعظم کے ساتھی مسلسل مراد علی شاہ کی کردار کشی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ جیسے آج وزیر اعظم نے سندھ حکومت کے فیصلہ کو خود پر اعتماد میں کمی کا نتیجہ قرار دیا۔
کورونا کے بارے میں تقریر کرتے ہوئے عمران خان کی باتوں میں کوئی ربط نہیں ہوتا۔ وہ اس معاملہ کے طبی پہلوؤں کو جانچنے اور حکومت کی دوٹوک پالیسی سامنے لانے میں ناکام ہیں ۔ ٹرمپ کی طرح وہ ایک وائرس کو سیاسی حیلوں کے لئے استعمال کرکے کسی طرح خود کو عوام کا سب سے بڑا ہمدرد ثابت کرنے کوشش میں مصروف ہیں۔ وزیر اعظم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ نہ وہ انتخابی مہم چلارہے ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی سیاسی خطرہ درپیش ہے۔ اس کے باوجود وہ کورونا بحران سے نمٹنے کی بجائے سیاسی اپوزیشن پر حملہ آور ہونے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ آج بھی انہوں نے موجودہ بحران میں شہباز شریف اور آصف زرداری کے ساتھ تعاون کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح چندہ مہم متاثر ہوگی اور لوگ اس میں زیادہ رقم نہیں دیں گے‘۔ اس بیان سے نہ جانے وہ اپوزیشن لیڈروں پر بدعنوانی کا ٹکسالی الزام ثابت کرنے میں کتنا کامیاب ہوئے تاہم کورونا سے پیدا ہونے والے مالی بحران کا مقابلہ کرنے کے لئے چندہ مہم چلاتے ہوئے وہ یقیناً یہ بات فراموش کررہے ہیں کہ کسی ملک کا سماجی بہبودی پروگرام چندے جمع کر کے نہیں چلایا جاسکتا۔
عمران خان کو دو ٹوک لفظوں میں بتانا چاہئے کہ وہ غریبوں کی ہمدردی کے نام پر کاروبار اور مساجد کھولنے جیسے اقدامات کرکے چند لاکھ بوڑھے اور لاغر لوگوں کی موت کا خطرہ مول لینے کو تیار ہیں۔ تاکہ ملکی منڈیوں کی رونق واپس آجائے۔ وزیر اعظم کو یہ بھی بتا دینا چاہئے کہ وہ کورونا وائرس کے بارے میں مولانا طارق جمیل کے ’آسمانی آفت ‘ والے فلسفہ کو درست مانتے ہیں یا اسے ایک بیماری سمجھ کر اس سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ عمران خان کا غیر سنجیدہ اور مضحکہ خیز مؤقف ملک کے لاتعداد لوگوں کی زندگی اور موت کا سوال بن چکاہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker