تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ:کورونا وائرس: پاکستانیوں کو تنہا چھوڑ نے کا غیر ذمہ دارانہ رویہ

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ایک بار پھر چین میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لانے کا اہتمام کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام نہ صرف اہل پاکستان کی بہتری کے لئے کیاگیا ہے بلکہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایت کی روشنی میں صورت حال کا ذمہ دارانہ مقابلہ کرنے کے لئے بھی ضروری ہے۔
چین کے ووہان علاقے سے پھیلنے والے کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک 259 اموات ہوچکی ہیں جبکہ 12 ہزار کے لگ بھگ شہریوں میں اس وائرس کا سراغ لگایا جاچکا ہے۔ دنیا کے متعدد ملکوں نے چین کے لئے پروازیں بند کردی ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ امریکہ نے گزشتہ دو ہفتے کے دوران چین کا دورہ کرنے والے تمام غیر ملکیوں کے ملک میں داخلہ پر پابندی لگا دی ہے جبکہ وائرس سے متاثرہ چینی علاقوں سے امریکہ آنے والے امریکی شہریوں کو دو ہفتے کے لئے قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے امریکی پابندیوں کو ’سخت گیر‘ قرار دیا لیکن دنیا کے اکثر ممالک کرونا وائرس کے پھیلنے سے خوفزدہ ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کرونا وائرس کو عالمی ایمرجنسی قرار دیا ہے تاہم چین کا سفر ترک کرنے کا مشورہ دینے سے گریز کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود چین جانے والی چار ہزار سے زائد پروازیں معطل ہوچکی ہیں جبکہ متعدد ائیرلائنز چین کے لئے اپنے فلائٹ شیڈول تبدیل کررہی ہیں۔
دنیا کے دو درجن سے زائد ملکوں میں اس خطرناک وائرس کے مریض شناخت کئے گئے ہیں۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور دنیا کا ہر ملک تجارتی لین دین میں چین پر انحصار کرتا ہے۔ اس لئے کورونا وائرس کی وجہ سے عائد ہونے والی پابندیوں کا اقتصادی سرگرمیوں اور متعدد ممالک میں روزگار کی صورت حال پر اثر مرتب ہونے کا اندیشہ بھی ہے۔ چینی حکام بھی اس صورت حال کو بخوبی سمجھتے ہیں اور اس وبا کی روک تھام کے لئے کثیر وسائل اور ماہرین فراہم کئے گئے ہیں۔ صوبہ ہوبائی کے دارالحکومت ووہان کو مکمل طور سے سیل کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کی آمد و رفت روک کر اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب اس وائرس کو پھیلنے سے روک لیا ہے تاہم اس بارے میں دنیا کے ممالک اور ماہرین کوئی حتمی رائے دینے کے اہل نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے صورت حال کا لمحہ بہ لمحہ جائزہ لیا جارہا ہے ۔ کورونا نام کے وائرس کا سراغ دسمبر کے دوران لگایا گیا تھا ۔ چینی حکام نے اس کی تفصیل جاننے کے بعد فوری اقدامات کئے تھے۔ اس لئے یہ ممکن ہے کہ اس وقت جن متاثرین کا سراغ لگایا جارہا ہے انہیں یہ وبا ابتدائی دنوں میں لاحق ہوئی ہو۔ اس وائرس سے لاحق ہونے والی بیماری کی وجہ سے ہونے والی اموات بھی زیادہ تر ووہان شہر میں ہی رجسٹر کی گئی ہیں جہاں سب سے پہلے اس وائرس کا پتہ چلا تھا۔
کورونا دائرس چونکہ تیزی سے ایک سے دوسرے انسان تک منتقل ہوتا ہے اور نقل و حرکت کی وجہ سے اس کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے اسی لئے چین کے متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور دنیا کے ممالک اور حکومتیں بھی چین سے آنے والے مسافروں کو روکنے یا ان کا مکمل طبی معائنہ کرنے کا اہتمام کررہی ہیں۔ اس مقصد کے لئے ہسپتالوں میں خصوصی مراکز بنائے گئے ہیں اور چین سے واپس آنے والے لوگوں کو قرنطینہ میں رکھنے کا انتظام کیا جارہاہے ۔ تاہم سب ممالک اپنے شہریوں کی حفاظت کے نقطہ نظر سے متاثرہ علاقوں سے اپنے شہریوں کے انخلا کا انتظام بھی کررہے ہیں ۔ پاکستان کے علاوہ ابھی تک کسی ملک نے یہ نہیں کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں وہ اپنے شہریوں کو تنہا چھوڑ رہا ہے۔ بلکہ عام پروازیں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے شہریوں کو نکالنے اور وائرس کنٹرول کرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔
اس کے برعکس پاکستانی حکومت نے کورونا وائرس کی معلومات عام ہونے کے بعد سے یہی مؤقف اختیا رکیا ہے کہ چین میں موجود پاکستانی شہریوں کو وہیں رہنا چاہئے۔ تاکہ کسی طرح یہ مرض پاکستان نہ پہنچ جائے۔ اس غیر ذمہ دارانہ رویہ کو حکومت کبھی چین دوستی کا نام دیتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر چین کا ساتھ دینا ضروری ہے ۔ اور کبھی یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے چین میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو واپس نہ لاکر پاکستان میں آباد لوگوں کی حفاظت کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ اب ڈاکٹر ظفر مرزا نے یہ بھی کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق یہ فیصلہ ضروری تھا ۔ حالانکہ ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کو عالمی ایمرجنسی قرار دینے کے باوجود چین کے سفر پر پابندی کا مشورہ نہیں دیا ہے۔
پاکستانی سینیٹ میں اپوزیشن پارٹیوں نے گزشتہ روز اس حکومتی فیصلہ پر تند و تیز تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ان شہریوں کو بے سہارا نہ چھوڑا جائے بلکہ انہیں متاثرہ علاقوں سے نکالنے کا انتظام کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس وقت متاثرہ ووہان میں کم از کم 500 پاکستانی طالب علم موجود ہیں۔ چین کے مختلف علاقوں میں ایک اندازے کے مطابق اس وقت تیس ہزار کے لگ بھگ پاکستانی شہری مقیم ہیں ۔ ان میں سے اکثریت طالب علموں کی ہے لیکن متعدد لوگ سیاحت یا تاجرانہ سرگرمیوں کے سلسلہ میں بھی چین گئے ہوئے تھے جو اب پروازوں کی منسوخی کے علاوہ حکومت کی لاتعلقی کی وجہ سے بے یار و مددگار ہیں۔ ڈیڑھ سو افراد پر مشتمل ایسے ہی پاکستانیوں کا ایک گروہ شمال مغربی صوبہ ژنگ جیانگ کے شہر اورومکی کے ائیرپورٹ پر پھنسا ہؤا ہے۔ یہ لوگ سوشل میڈیا پر پاکستان واپسی کے لئے مدد مانگ رہے ہیں لیکن وزارت خارجہ نے شاہ محمود قریشی کی چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ ٹیلی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے یہ یقین دہانی کروانے پر اکتفا کیا ہے کہ چین کی حکومت پاکستانی شہریوں کا بھی اپنے ہم وطنوں کی طرح خیال رکھ رہی ہے۔
اس بحران میں البتہ سب سے اہم سوال یہ کہ کیا پاکستانی حکومت اپنے شہریوں کی ذمہ داری ایک دوست ملک کو دے کر شہریوں کے لئے اپنے فرائض سے عہدہ برآ ہو سکتی ہے؟ حکومت کا یہ مؤقف تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ اگر متاثرہ علاقوں میں موجود پاکستانی شہری وہیں رہیں گے تب ہی پاکستان کو وبا سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ یہ اپنی ذمہ داری کسی دوسرے کے کاندھے پر ڈالنے اور ایک بحران میں اپنے شہریوں کو نظر انداز کرنے کی بدترین مثال ہے۔ چین میں مقیم پاکستانی ہی اس وقت مشکل اور بے یقینی کا شکار نہیں ہیں بلکہ ملک میں ان کے لاکھوں عزیز رشتے دار بھی شدید کرب اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔ بظاہر حکومت پاکستان کے پاس ان لوگوں کے اطمینان کے لئے بیان دینے اور چین کی دوستی پر فخر کرنے کے سوا کوئی چارہ دکھائی نہیں دیتا۔
پاکستانی حکومت کے اس رویہ کو کسی طرح بھی ایک مہذب اور ذمہ دار حکومت کا طریقہ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ درست ہے کہ چین سے آنے والے شہریوں کی وجہ سے یہ خطرناک وائرس پاکستان پہنچ سکتا ہے لیکن کسی وائرس سے بچاؤ کا یہ طریقہ فول پروف نہیں ہوسکتا۔ بلکہ کسی دوسرے ملک سے سفر کرنے والے اور کسی طرح اس وائرس کا شکار ہونے والا کوئی بھی شخص اس وائرس کو پاکستان یا کسی دوسرے ملک میں پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے محفوظ رہنے کا بہترین طریقہ یہ کہ حفاظتی انتظامات کئے جائیں۔ طبی شعبہ کو الرٹ کیا جائے اور تمام ہوائی اڈوں پر نگرانی اور قرنطینہ کا مناسب انتظام کیا جائے۔
چین سے اپنے شہریوں کو نکالنے والا کوئی بھی ملک اس وائرس کو اپنے ہاں پھیلتا نہیں دیکھنا چاہتا لیکن اس خوف میں کوئی بھی ملک اپنے شہریوں کو بے آسرا نہیں چھوڑ تا۔ مدینہ ریاست کا خواب دکھا کر شہریوں کو ترجیح دینے کا دعویٰ کرنے والی تحریک انصاف کی حکومت کا یہ واحد فیصلہ ہی یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ عمران خان کے ایجنڈے کی بنیاد صرف نعرے بازی ہے۔ وہ مقبوضہ کشمیر کے علاوہ بھارتی مسلمانوں کی تکلیفوں کو بھی پر زور بیانات سے ہی دور کرتے رہے ہیں۔ اگر کوئی بھارتی لیڈر عمران خان سے یہ پوچھ لے کہ جو حکومت اپنے شہریوں کا درد محسوس نہیں کرتی اور ایک سنگین مشکل میں انہیں تنہا چھوڑ رہی ہے، وہ کسی دوسرے ملک کے شہریوں کی تکلیف کیسے سمجھ سکتی ہے؟ عمران خان یا تحریک انصاف کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوگا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker