Browsing: ضیاء الحق

وہ ضیاء الحق سے ملا تو انہوں نے کہا مجھے آپ جیسے نوجوانوں پر فخر ہے جو لیڈر شپ کی خوبیاں رکھتے ہیں تاہم آپ اب چونکہ تعلیم مکمل کر چکے ہیں اِس لئے بتائیں میں آپ کے لئے کیا کر سکتا ہوں۔ فاروق تسنیم کے ذہن میں کوئی بڑے بڑے خواب نہیں تھے۔وہ یہ بھول گیا کہ ایک بادشاہ کے سامنے کھڑا ہے، جو پاکستان کا مالک و مختار ہے۔اُس نے بادشاہ کی بساط کو سامنے رکھ کر مانگنے کی بجائے اپنی سادگی کو سامنے رکھتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا اُسے کسٹم میں انسپکٹر بنا دیا جائے۔یہ تو معلوم نہیں اُس وقت یہ سن کر ضیاء الحق کی کیا کیفیت ہو گی تاہم اُنہوں نے فوری طور پر فاروق تسنیم کی بطور انسپکٹر کسٹم تقرری کا حکم جاری کر دیا۔