Browsing: لاہور

میٹرو، لارڈز، شیزان ، وائی ایم سی اے ، پاک ٹی ہاؤس ، ٹولنٹن اور ناصر باغ ….اور ہاتھ بھر کے فاصلے پر کرشن نگر کی گلیاں ۔ اس راستے کی کون سی اینٹ ہے جسے انتظار حسین کے سجل پاؤں نصیب نہیں ہوئے۔ خاک کا اتنا چمک جانا ذرا دشوار تھا…. یہاں کون سی عمارت ہے جسے انتظار حسین نے بیتے ہوئے لاہور کی تصویر بنا کے نہیں رکھ دیا۔ کوئی ٹھیلے والا ایسا نہیں ، یہاں کوئی پان فروش ایسا نہیں جسے انتظار حسین نے محبت کی آنکھ سے نہ دیکھا ہو اور اسے ایک گزر تے ہوئے عہد کا جیتا جاگتا کردار نہ بنا دیا ہو۔

میں نے اس بی بی کو دلاسہ دیا اور اسے یقین دلایا کے ان شااللہ اسے ’راہ راست‘ پر لے آؤں گا۔ اس کے بعد میں نے سیریلین کو مخاطب کیا اور کہا تمہارے دروازے کے ساتھ میرا دروازہ ہے بجائے گھر پر بیٹھے رہنےکے تم میری طرف آ جایا کرو۔ پھر میں نے اسے وہ اوقات بتادیئے جن میں میں گھر پر ہوتا ہوں۔ سو اس نے میری طرف آنا جانا شروع کر دیا اور الحمدللہ صرف ایک ماہ میں وہ راہ راست پر آگئی۔ جس پر اس کی والدہ نے روز میری طرف آکر شکریہ ادا کرنا شروع کر دیا۔ شاید وہ خود بھی راہ راست پر آنا چاہتی تھی مگر میں نے پورے امریکہ کا ٹھیکہ تو نہیں لیا ہوا تھا۔