یہ ڈی ایس ایف کی فتح تھی ۔ اگرچہ اسے اپنے کئی ساتھیوں کی زندگی کی قربانی دینے کے بعد حاصل کیا گیا ۔ کئی سال تک جلسے اور جلوسوں سے کراچی میں 8 جنوری کا دن ان طلبا کی شہادتوں کے طور پر منایا جاتا رہا اوران ریلیوں کے آگے خون آلودا یک جھنڈا ضرور ہوتا تھا ۔
کراچی یونیورسٹی نے ایک ٹیچنگ یونیورسٹی کے طور پر کام شروع کردیا اور اس میں محدود پیمانے پر ریسرچ کی سرگرمیاں ہونے لگیں ۔
بدھ, اپریل 29, 2026
تازہ خبریں:
- عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم
- قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے
- جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم
- ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
- کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- صحافی کی گرفتاری اور رہائی : پاکستانی میڈیا کے لیے غیر ضروری خبر : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
- اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری
- ایران میں 4 مبینہ جاسوس گرفتار : ایک شخص کو پھانسی
