حوروں کے تذکروں اور حکمرانوں کی خوشامد سے شہرت پانے والے مولانا طارق جمیل ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ کہنا چاہئے کہ انہیں خبرمیں رہنے کا ڈھنگ آتا ہے۔ جس طرح بکنے والی یا مقبول ہونے والی خبر پر ہر ’صحافی‘ کی نگاہ ہوتی ہے ، بالکل اسی طرح میڈیا کے ذریعےمقبولیت حاصل کرنے والے کرداروں کو بھی ایسے میڈیا شوز اور سماجی مواقع کی تلاش رہتی ہے جن کے ذریعے ان کی شہرت کا گراف قائم رہے۔ میڈیا اور یہ کردار ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ اگر ایک جھوٹا ہے تو دوسرا جھوٹ کو پھیلانے والا۔
پاکستان میں شہرت کے خواہاں کرداروں کی کمی نہیں لیکن عوامی قبولیت کے گراف پر مسلسل اونچی سطح پر قائم رہنے کے لئے سخت محنت اور مسلسل ’جہاد‘ کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ مقابلہ سخت ہے اور ایک وقت میں مارکیٹ ایک خاص تعداد میں ہی مقبول کرداروں کا سکہ چل سکتا ہے۔ اسی لئے چہرے بدلتے رہتے ہیں لیکن دھندا پرانا ہی ہوتا ہے۔ پاکستان میں شہرت کے نصف النہار پر برقرار رہنے والے مولانا طارق جمیل اس میڈیا میکنزم کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ میڈیا میں وہی چلتا ہے جو بکتا ہے۔ اور مولانا جب تک بیچنے کی صلاحیت سے مالامال ہیں، ملک کا میڈیا اور دنیا بھر کے سپانسرز انہیں منہ مانگے دام دے کر بلانے پر مجبور رہیں گے۔ گزشتہ روز ’احساس ٹیلی تھون ‘ کے نام سے کورونا وائرس متاثرین کے لئے چندہ مہم میں وزیر اعظم کے علاوہ مولانا طارق جمیل بھی موجود تھے۔ انہوں نے اس موقع پر رقت آمیز خطاب بھی کیا اور اشک بار آنکھوں سے دعا بھی مانگی۔
اس خطاب میں مولانا طارق جمیل نے میڈیا کو جھوٹا قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ صرف پاکستان ہی نہیں ، دنیا بھر کا میڈیا جھوٹ بولتا ہے۔ اب یہ فیصلہ تو مولانا خود ہی کرسکتے ہیں کہ میڈیامیں کچھ سچ بھی ہے یا ان کی تقریر سمیت سب کچھ ہی جھوٹ اور دھوکہ دہی ہوتی ہے۔ تاہم اپنی بات میں زور پیدا کرنے کے لئے انہوں نے ایک قصہ بھی سنایا کہ ’ایک بہت بڑے چینل کے مالک نے مجھ سے کہا کہ کوئی نصیحت کریں۔ میں نے کہا کہ چینل سے جھوٹ ختم کر دو۔ کہا کہ چینل ختم ہو سکتا ہے جھوٹ ختم نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف پاکستان کی بات نہیں، پوری دنیا کا میڈیا جھوٹا ہے اور سب سے زیادہ جھوٹ بولا جاتا ہے‘۔ مولانا چونکہ فن خطابت میں طاق ہیں اس لئے انہوں نے یہ دلفریب قصہ سناتے ہوئے ایک بہت بڑا چینل کہا اور ایک دلچسپ قصہ سنایا لیکن صداقت کا زعم رکھنے کے باوجود یہ بتانے کا حوصلہ نہیں کیا کہ وہ کون سا چینل تھا جس کا مالک منہ در منہ مولانا کے سامنے یہ اعتراف کررہا ہے کہ جھوٹ کے بغیر کوئی ٹی وی چینل چل نہیں سکتا؟
گزشتہ روز کی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا نے کچھ دعوے اور انکشافات بھی کئے ہیں۔ عام طور سے کسی فرد واحد کی باتوں کو اختلاف کے باوجود اس کی ذاتی رائے سمجھ کر آگے بڑھ جانا سہل طریقہ ہوتا ہے۔ لیکن جب گفتگو کرنے والا مولانا طارق جمیل ہو، اس کے سامعین میں ملک کا وزیر اعظم بھی موجود ہو اور وہ ایک عالمی وبا کے بارے میں ’مستند ہے میرا فرمایا ہؤا‘ قسم کے دعوے کرنے کے علاوہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کے کردار پر حرف زنی کررہے ہوں تو اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مولانا طارق جمیل نے اس گفتگو میں کورونا وبا کو فحاشی اور بے حیائی کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ اس وبا سے لڑا نہیں جاسکتا بلکہ عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ سے اس آفت سے نجات حاصل کرنے کی دعا مانگی جاسکتی ہے۔ وبا سے لڑنا یوں غلط قرار دیا گیا ہے کہ مولانا کے بقول یہ آفت قوم کی غلط کاری اور جھوٹ کی وجہ سے نازل ہوئی ہے اس لئے رو دھو کر معافی مانگنا ہی اس مسئلہ کا حل ہے۔
اس بیان میں کئے گئے دعوؤں پر گفتگو سے پہلے یہ نوٹ کرنا چاہئے کہ مولانا طارق جمیل اسی ملک کے عوام کو جھوٹا اور بدکردار ثابت کررہے تھے جن کی حمایت اور قدر افزائی کی وجہ سے انہیں موجودہ مرتبہ و مقام حاصل ہؤا ہے۔ یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ مولانا طارق جمیل نے پاکستان کے مقبول ترین مولوی ہونے کا اعزاز اپنی علمیت، تحقیق یا کسی نئے فلسفہ اور سوچ کی نئی راہیں متعین کرکے حاصل نہیں کیا ہے بلکہ انہیں یہ مرتبہ ان کی چرب زبانی، شاہ پرستی اور خطاب میں جنت کے دلنشین مناظر کے علاوہ حوروں کے خد و خال کے بارے میں جھوٹ کی حدوں سے ماورا طرز تکلم کی وجہ سے حاصل ہؤاہے۔ اگر عقیدہ کی بحث کو ایک طرف رکھ کر دیکھا جائے تو حوروں کی تجسیم کرتے ہوئے وہ جو اسم ہائے صفت استعمال کرتے ہیں، وہ کوئی ایسا شخص ہی استعمال کرنے کا مجاز ہوسکتا ہے جس نے خود اپنی آنکھوں سے ان کا مشاہدہ کیا ہو۔جو مولانا اپنی ارضی زندگی میں تو کرنے کے اہل نہیں ہوسکتے۔ اس لئے اس قسم کے مبالغہ آمیز اور فحاشی کی حدود کو چھوتے ہوئے بیانات دروغ گوئی بھی ہیں اور فحاشی و بے حیائی بھی۔ پاکستانی قوم میں انہی دو خصائص کی تشخیص کرتے ہوئے مولانا نے کورونا کو عذاب الہیٰ قرار دیا ہے اور اللہ سے معافی مانگنے کا مشورہ دیا ہے۔
مولانا طارق جمیل نے اشک بار آنکھوں اور بھرائی آواز سے یہ دعا کی کہ ’میری قوم جھوٹ چھوڑ دے۔ میری قوم بددیانتی چھوڑ دے۔ میری قوم بے حیائی چھوڑ دے‘۔ بہتر ہوتا کہ وہ قوم کو ان عوارض سے نجات دلانے کی بات کرنے سے پہلے خود یہ اعلان کرتے کہ میں آج اللہ سے معافی مانگتے ہوئے اعلان کرتا ہوں کہ آج کے بعد زیب داستان کے لئے نہ جھوٹ بولوں گا اور نہ ہی حکمرانوں کے منہ پر ان کی تعریف کروں گا۔ مولانا کو یقین کرنا چاہئے کہ ان کے اس ’اعتراف‘ کی باکس آفس ویلیو قوم کو گالیاں دینے سے زیادہ ہوتی اور ان کے شیدائیوں کی تعداد میں پہلے سے کئی گنا اضافہ ہوجاتا۔
ان جملہ ہائے معترضہ سے قطع نظر مولانا نے اس تقریر میں سچ اپنانے کی بات کرتے ہوئے ملک کے بائیس کروڑ لوگوں سے سوال کیا کہ ان میں کتنے سچے اور دیانت دار ہیں؟ یعنی پورے یقین سے کہا کہ پاکستانی عوام کی بہت بڑی اکثریت جھوٹ بولتی ہے اور بددیانت ہے۔ سوال ہے کہ وہ کس تحقیق یا جائزے کی بنیاد پر یہ بیان جاری کررہے ہیں۔ وہ عالم دین ہیں ۔ کیا وہ کسی پر الزام لگانے کی حرمت سے آگاہ ہیں؟ کیا انہوں نے ملک کے ہر گھر جا کر اس کے ہر فرد سے یہ پوچھا ہے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے یا سچا ہے اور کیا ان لوگوں کی واضح اکثریت نے مولانا کے روبرو یہ اعتراف کیا ہے کہ جھوٹ ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے؟ اور اس عمل میں کیا مولانا نے اپنی کسی کرامت سے شیر خوار اور کم سن بچوں سے بھی ان کے ’گناہ‘ کا اعتراف کروا لیا تھا۔ کیا معذور و محتاج لوگوں، بیماروں اور دنیا سے کنارہ کش لوگوں سے بھی استفسار کرلیا گیا تھا۔ یا یہ مولانا کا صرف قیاس ہے اور اسے گفتگو میں زور پیدا کرنے اور پاکستانیوں کو احساس ندامت کے نفسیاتی ہتھکنڈے سے زیر کرنے لئے استعمال کیا گیا تھا؟
مولانا سمیت کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ ایک قوم کے کردار ، خوبیوں یا کمزوریوں کے بارے میں ایسا بیان دے جس میں ہر کس و ناکس کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہوئے ، ان پر ایک طرح کا الزام تھوپ دیاجائے۔ حیرت ہے کہ ملک کا منتخب وزیر اعظم اس موقع پر موجود تھا اور عقیدت و احترام سے طارق جمیل کی بے بنیاد اور لغو گفتگو سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ عمران خان کو اسی وقت یا اس واقعہ کے بعد کسی بیان یا ٹوئٹ میں یہ واضح کرنا چاہئے تھا کہ ملک کے سارے عوام بے ایمان یا جھوٹے نہیں ہیں اور کسی ملک کے سارے لوگوں کے بارے میں ایسا بیان ناقابل قبول اور افسوسناک ہے۔
مولانا نے عمران خان کو ان کے سامنے بیٹھ کر ملک کا واحد سچا انسان قرار دیا تھا۔ خوشامد کے اس نشے میں عمران خان یہ سمجھنا بھول گئے کہ مولانا طارق جمیل انہیں سچا انسان سے زیادہ ’جھوٹوں کا سردار‘ کہہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جو شخص اپنی صداقت کلام کی ضمانت فراہم نہ کرسکتا ہو ، اس کے جاری کئے ہوئے سچ کے سرٹیفکیٹ کو خوشامد سے زیادہ کیا کہا جاسکتا ہے۔
حیرت ہے مولانا اپنا تعلق تبلیغی جماعت سے جوڑتے ہیں جس کے بزرگوں نے ہمیشہ میڈیا میں شہرت سے گریز کیا اور اپنی ذات کو فوکس کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ تبلیغی جماعت نے دعوت کا سلسلہ شروع کیا اور سیاست سے مکمل پرہیز کرتے ہوئے لوگوں تک اسلام کی بنیادی تعلیمات پہنچانے کا اہتمام کیا ہے۔ اس جماعت سے تعلق کے باوصف مولانا طارق جمیل میں ان میں سے کوئی بھی خوبی موجود نہیں ہے۔ وہ اگر بوجوہ اداکاروں یا کھلاڑیوں تک رسائی حاصل کرکے انہیں اپنے حلقہ اثر میں شامل کرنے میں کامیاب رہے ہیں تو یہ ان کی ذاتی دیانت یا دعوت کی صداقت سے زیادہ بیان پر خدا کی عطا کی ہوئی صلاحیت کا کمال ہے۔
دیگر سب لوگوں کی طرح وزیر اعظم کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ جس سے ’فیض‘ حاصل کرنا چاہتے ہیں، کریں اور جس کی صحبت انہیں لطف دیتی ہے ، اس سے ملیں لیکن انہیں کسی پبلک اجتماع میں کسی شخص کو پاکستانی عوام کو جھوٹا اور بے حیا کہنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ اسی طرح ملک کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر عمران خان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ واضح کریں کہ ان کی حکومت کورونا کو اللہ کا عذاب سمجھ کر خاموش نہیں بیٹھی رہے گی بلکہ اسے ایک وبا اور مرض سمجھ کر اس کے علاج اور سد باب کے مسلمہ طریقوں کو اختیار کرے گی۔ طبی معاملات میں کسی عالم دین کی بجائے ڈاکٹروں اور محققین کی صحبت زیادہ مفید ہوگی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

