کورونا وباءنے پوری دنیا کوبدترین معاشی بحران سے دو چار کردیا ہے وہیں اس کی وجہ سے پاکستان کا غریب دیہاڑی دار طبقہ انتہائی کسپمسری کا شکارہے۔ وزیراعظم پاکستان نے اس معاشی بحران پر قابو پانے کےلئے عالمی دنیا اور پاکستان سے باہر رہنے والے پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں پاکستانیوں کی مدد کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستانی مخیر حضرات سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ غریب افراد کا خیال رکھیں ۔ موجودہ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے سب سے زیا دہ متاثر دیہاڑی دارطبقہ ہوا ہے۔ وزیراعظم ان کی اس تکلیف پر پریشان بھی دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے 1200ارب روپے کی امداد ایک کروڑ 30لاکھ غریب خاندانوں میں فی کس 12ہزار روپے کا اعلان کیا ۔ اس امداد کےلئے عوام کوا پنا شناختی کارڈ نمبر ، فون نمبر اور نام کے ساتھ 8171پر ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنے کا کہاگیا ۔وہ افراد جو اہل ہوں گے ان کے موبائل پر رقم کے حصول کے لیے پیغام پر رقم کی وصولی ممکن ہوسکے گی۔ وزیراعظم صاحب یہ بھول گئے کہ نادراابھی تک پورے پاکستان کا ڈیٹا مرتب نہیں کرسکی کیونکہ لاکھوں وہ افراد جو خط غربت سے نیچے زندگی گزارر ہے ہیں۔ انہوں نے ابھی تک شناختی کارڈ بنوائے ہی نہیں۔ اس طرح پاکستان میں رہنے والے وہ پاکستانی جنہوں نے شناختی کارڈ نہیں بنوائے وہ اس امداد سے محروم رہیں گے اور انتہائی زبوں حالی کا شکارہوجائیں گے۔
یہ تو وہ ہیں جن کا کوئی ڈیٹاحکومتی اداروں کے پاس نہیں اب بات کریں ان کی جنہوں نے موجودہ ہیلپ لائن پر مسیج کیا مگر تاحال حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ایسے چند افراد سے جب بات کی تو انہوں نے کہاکہ وہ حکومت کی اس احساس پروگرام سے ملنے والی رقم کے حوالے سے انتہائی مایوس ہوچکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ امداد بھی ماضی کی طرح غیر شفاف ہے۔ نجانے حکومتی ادارں نے کسی میرٹ کی بنیاد پر یہ امداد کی رقم تقسیم کی ہے ہم نہیں جانتے ان کاکہنا ہے کہ ہم دیہاڑی دارہیں گھر کا گزار ا روز کی آنے والی آمدنی سے بمشکل کرتے ہیں اب ایک ماہ سے گھربیٹھے ہیں ۔گھر میں جوجمع پونجی تھی وہ بھی خرچ ہوگئی۔ اس ضمن میں ایک رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ اپنی والدہ، بیوی اورچھ بچوں کے ہمراہ دوکمرے کے کرائے کے مکان میں رہتا ہے آج کل انتہائی بے بسی کے دن گزار رہے ہیں ۔دن میں ایک وقت کا کھانا بھی مشکل سے ملتا ہے۔ رکشہ کے مالک اب رکشہ دینے بھی کتراتے ہیں کیوں کہ قانون بنانے والے ادارے اس حوالے سے آڑے آتے ہیں ۔یوں اس حوالے سے حالات فاقوں کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ حکومت اس حوالے سے کچھ کرتی دکھائی نہیں دے رہی۔ حکومت نے امداد کےلئے کیا معیارمقرر کیاہے کوئی نہیں جانتا ۔
ایک اورضروری بات جو قابل ذکرہے کہ کیااس حکومتی سکیم کا آڈٹ موجودہ حکومت میں ممکن ہوگا یا ماضی کی طرح اگلی حکومتیں اس سکیم کا آڈٹ کرائیں گے جس سے اس سکیم کی شفافیت کا پتہ چل سکے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ امداد کے منتظر افراد کا کہنا ہے کہ یہ حکومتی امداد کسی کوہ نور ہیرے کی مانند ہے جوہرکسی کی قسمت میں نہیں ہوتا۔
فیس بک کمینٹ

