نظم : ہر اک۔۔ اک دوسرے سے ڈر رہا ہے ۔۔ کوثر ثمرین
کرونا گود سونی کر رہا ہے
کرونا سر سے چادر کھیننچتا ہے.
کرونا مامتا اور باپتا دونوں کا دشمن ہے
نجانے کتنے رشتے ختم کرتا جا رہاہے
جہاں بچوں کی آوازوں کی خوشبو گونجتی تھی کل
انہی تفریح گاہوں کے سبھی پھولوں کی رنگت اڑ رہی ہے
سبھی پیڑوں کے سائے چپ کھڑے ہیں….
سبھی سڑکیں سبھی رستے… بہت ویران ہوتے جا رہے ہیں
اداسی روگ بنتی جا رہی ہے…
محبت قحط بنتی جا رہی ہے
یہ دوری کیسی دوری ہے؟
کہ جو اتنی ضروری ہے
ہر اک… اک دوسرے سے ڈر رہا ہے
اور اس ڈر سے ہی آخر مر رہا ہے
ہر اک سُو… نا امیدی کے اندھیرے کیوں
اٹھو. …ہاتھوں کو پھیلاؤ
دعا مانگو!!!!
کہ پھر جیون کےپھیرے ہوں
خوشی کے رنگ ڈیرے ہوں
مقدر میں سویرے ہوں
نہ پھر غم کے اندھیرے ہوں
فیس بک کمینٹ

