لاہور:کالعدم تنظیم تحریکِ لبیک پاکستان کے ’لانگ مارچ‘ کے شرکا کو لاہور میں روکنے کی کوششیں ناکام رہی ہیں اور اب یہ قافلہ لاہور کی حدود سے نکل کر جی ٹی روڈ کے راستے اسلام آباد کی جانب بڑھ رہا ہے۔
پولیس کی جانب سے اس قافلے کو روکنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں اور اس دوران جھڑپوں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قافلے کے شرکا کی جانب سے شدید پتھراؤ سے ایک ڈی ایس پی اور دو ایس ایچ اوز سمیت 50 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق اس وقت مارچ کے شرکا لاہور کی حدود سے نکل کر ضلع شیخوپورہ میں کالا شاہ کاکو کے مقام پر موجود ہیں۔ جہاں پولیس کی جانب سے ان کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی جا رہی ہے جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر موجود ہے۔
اس قافلے کے لاہور سے نکلنے کے بعد جہاں لاہور میں معطل کی گئی انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے وہیں حکام نے کالا شاہ کاکو کے علاوہ ضلع گوجرانوالہ میں گوجرانوالہ شہر کے علاوہ مریدکے، کامونکی اور وزیرآباد اور ضلع گجرات میں انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
ادھر تحریکِ لبیک سے مذاکرات کے لیے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید لاہور پہنچے ہیں۔ یہ مذاکرات سنیچر کو ہی متوقع ہیں اور ان میں صوبائی حکومتی وفد بھی شامل ہو گا۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)
فیس بک کمینٹ

