امریکی صدر ٹرمپ نے دنیا کا نظام بدلنے کے لیے ترقی یافتہ ملکوں کی سرحدیں بند کرنے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے ’جھوٹ‘ کو مسترد کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے اسی ادارے کو ناکارہ اور غیر ضروری قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ نےمغربی ممالک میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی امداد کرکے مسائل پیدا کیے ہیں۔
امریکی صدر کی تقریر کے لیے پندرہ منٹ مختص کیے گئے تھے لیکن انہوں نے 57 منٹ تک خطاب کیا ۔یوں وہ اقوام متحدہ میں سب سے طویل تقریر کرنے والے رہنماؤں میں شامل ہوگئے۔ تاہم ان کی تقریر کا محور اپنی توصیف، نوبل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش کے اظہار، جنگیں بند کرانے کے دعوؤں، روسی صدر سے دوستی پر فخر کے اظہار اور اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر مشتمل تھی۔ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ جو ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کررہے ہیں، وہ درحقیقت حماس کی جارحیت کو تسلیم کرکے اس کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ دوسری مرتبہ صدر بننے کے بعد انہوں نے 7 جنگیں بند کرائیں لیکن اقوام متحدہ ان میں سے کسی موقع پر دکھائی نہیں دی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اقوام متحدہ جنگیں بند کرانے کی بجائے ایک سوشل کلب بن چکا ہے جو مغربی ممالک کی طرف غیر قانونی طور سے آنے والے تارکین وطن کی امداد کرتی ہے۔ اس طرح یہ ادارہ ان ملکوں کی بہبود و سلامتی کے لیے خطرہ بن چکاہے۔ صدر ٹرمپ نے ’خوشحال‘ دنیا کے جس تصور کا ذکر کیا اور اس کے لیے جو بنیادی نکات پیش کیے ہیں، بیشتر یورپی ممالک کے لیڈر ان سے متفق نہیں ہیں۔ ناروے کے وزیر اعظم یوناس گار ستورے نے تقریر کے بعد ایک نارویجن اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹرمپ کے مؤقف سے متفق نہیں ہیں۔ موسمی تبدیلیوں کے انتباہ کو مضحکہ خیز قرار دینا ناقابل قبول طرز عمل ہے۔
اسی طرح برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک نے گزشتہ چند دنوں کے دوران فلسطینی ریاست کو باقاعدہ تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس طریقے سے درحقیقت یہ ممالک اسرائیل اور امریکہ پر دباؤ ڈال کر فلسطین کا مسئلہ حل کرانے، غزہ میں انسانیت سوز جنگ رکوانے اور مشرق وسطیٰ میں سب لوگوں کو امن و امان سے رہنے کا حق دینے کی بات کررہے ہیں۔ اب یہ بات بالکل واضح ہوچکی ہے کہ نیتن یاہو کے دور حکومت میں جس جارحیت، جنگ جوئی اور توسیع پسندی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل کی سلامتی کو مسلسل خطرات لاحق رہیں گے۔ یہ درشت اور سخت گیر رویہ کسی معمولی غلطی کی وجہ سے کسی بھی وقت بڑی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے جو اسرائیل کی سلامتی اور وجود کے لیے نئے خطرات کا سبب بن سکتی ہے۔ دانش مندی کا تقاضہ ہے کہ اوسلو معاہدہ میں جس دوریاستی حل کے بارے میں اتفاق کیا گیا تھا، اس پر عمل کرنے کے لیے کام کیا جائے۔ غزہ میں جنگ بندی کے ذریعے یرغمالیوں کو رہا کرایا جائے اور مظلوم فلسطینیوں کو روزانہ کی بنیاد پر ہلاک کرنے کا سلسلہ بند ہو۔
امریکی صدر خود پسند اور ناانصافی کو اپنی کامیابی سمجھنے کے زعم میں مبتلا رہنے والے شخص ہیں۔ غزہ میں اسرائیل کی یک طرفہ جنگ اور معصوم بچوں و خواتین سمیت 64 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت، درحقیقت انسان دوستی کے اصول کا پرچار کرنے والے تمام طاقت ور ملکوں کے منہ پر طمانچہ ہے ۔لیکن مہذب دنیا کا نام نہاد لیڈر امریکہ اور اس کا صدر اس ظلم کی پشت پناہی کرتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہیں کرتا۔ آج اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے تقریر کرتے ہوئے انہیں حماس کے پاس قید اسرائیل کے بیس یرغمالی تو یاد تھے لیکن ان ہزاروں فلسطینیوں کی طرف ان کا خیال نہیں گیا جنہیں سال ہا سال سے اسرائیلی جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ نہ ہی وہ یہ دیکھنے کی زحمت کرتے ہیں کہ کیسے اسرائیلی حکومت حماس کو ختم کرنے کے نام پر روزانہ معصوم لوگوں کو ہلاک کرتی ہے اور معصوم بچے خوراک کی قلت و نایابی کی وجہ سے ہلاک ہورہے ہیں۔
دنیا میں سات جنگیں بند کرانے کا دعویٰ کرنے کے باوجود سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ اس وقت دو جنگوں کی وجہ سے دنیا کے امن کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اور صدر ٹرمپ بالواسطہ طور سے ان دونوں جنگوں کو جاری رکھنے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ان میں ایک تو غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت ہے ۔ اسے جنگ کہنا درحقیقت انسانی دانش کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔ حماس کوئی مسلح فورس نہیں ہے اور نہ ہی اسے کہیں سے اسلحہ فراہم ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی زیادہ سے زیادہ حیثیت ایک ایسی سیاسی رائے کی ہے جو اسرائیل کے وجود کی مخالف ہے۔ اس سیاسی مؤقف کی بنیاد پر کسی گروہ کو نیست و نابود کرنے کا ارادہ کرنا کسی طور درست نہیں ہوسکتا۔
اقوام متحدہ سمیت دنیا کے متعدد ادارے غزہ میں نسل کشی اور قحط کی نشاندہی کرچکے ہیں لیکن امن اور انسانوں کی جانیں بچانے کی خواہش کا اعلان کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو غزہ میں بارود کا نشانہ بنتے لوگ، بھوک سے مرتے بچے اور علاج سے محروم لاچار لوگ دکھائی نہیں دیتے۔ وہ اب بھی امریکی لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے دودرجن یرغمالی اسرائیلیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کی رہائی کا راستہ نیتن یاہو کی پالیسیوں نے بند کیا ہے۔ گزشتہ سال جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی اسرائیل ہی نے کی تھی اور ٹرمپ کا یہ بیان بھی حقیقت سے قریب نہیں ہے کہ ہر بار حماس جنگ بندی سے انکار کرتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اسرائیل جنگ بندی پر راضی نہیں ہے کیوں کہ اس کی نگاہیں پورے غزہ پر جمی ہیں اور وہ اس پر مکمل اور مستقل قبضہ جمانا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ اس منصوبے میں پوری طرح اس کے ساتھ ہیں۔ حال ہی میں دوحہ میں حماس کی مذاکراتی ٹیم پر حملے کے ذریعے دراصل اسرائیل نے جنگ بندی سے انکار ہی کیا تھا۔ اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے بھی صدر ٹرمپ جب بیس یرغمالیوں کا ذکر کرتے ہوئے لاکھوں فلسطینیوں کی حالت زار کو فراموش کرتے ہیں تو اس سے بھی یہی ہیغام دیا جارہا ہے کہ امریکہ غزہ میں تباہی کے منصوبہ میں اسرائیل کا ساتھی ہے۔
دنیا کو یوکرین جنگ کی صورت میں ایک دوسری خطرناک صورت حال کا سامنا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں روس نے نیٹو کے متعدد ممالک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ گزشتہ شب کوپن ہیگن اور اوسلو ائیرپورٹس پر نامعلوم ڈرون دیکھے گئے جس سے ان دونوں ہوائی اڈوں پر کئی گھنٹے تک پروازیں معطل رہیں اور ہزاروں مسافر متاثر ہوئے۔ ڈنمارک کی حکومت اس کا الزام روس پر عائد کررہی ہے جبکہ ماسکو نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔ تاہم یوکرین جنگ کے تناظر میں پیدا ہونے والی خطرناک صورت حال کسی بھی وقت پورے یورپ اور دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کی طاقت رکھتی ہے۔ لیکن نوبل امن انعام لینے کے خواہاں صدر ٹرمپ مسلسل اس جنگ کی سنگینی کو نظر انداز کررہے ہیں۔ پہلے وہ یوکرینی صدر ذیلینسکی کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے رہے اور اب بھی یہی چاہتے ہیں کہ یوکرین اپنے علاقے روس کے حوالے کرکے جنگ بند کرنے پر راضی ہوجائے۔ موجودہ تقریر کی طرح وہ ہمیشہ صدر پوتن کو اپنا بہترین دوست قرار دیتے ہیں لیکن انہیں یوکرین جنگ بند کرکے انسانوں کی ہلاکت اور جنگی خطرات کم کرنے پر آمادہ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ وہ بار بار خود کو نوبل امن انعام کا سب سے زیادہ مستحق قرار دے کر ناریجین نوبل کمیٹی کو 2026 کا امن انعام دینے پر مجبور کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ایسے ہتھکنڈوں کو دباؤ اور دھونس کی بدترین قسم کہا جاسکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کی تقریر کا بدترین پہلو یہ تھا کہ وہ خود کو عقل کل اور باقی ساری دنیا کو غلط اور گمراہ سمجھتے ہیں۔ ان کی ذہنی سطح اتنی پست ہے کہ امریکہ کی صدارت پر فائز ہونے اور اقوام متحدہ جیسے معتبر ادارے میں خطاب کرتے ہوئے بھی اپنے عناد اور تعصب کے اظہار کے لیے لندن کے مئیر صادق خان کو برا بھلا کہنے سے اجتناب نہیں کرپائے۔ ایسی پست سوچ سے دنیا امن کی بجائے تنازعات کی طرف ہی بڑھے گی۔ وہ مسلسل موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں جدید تحقیق کو ’گمراہ کن اور جھوٹ‘ قرار دے کر یورپ کو مشورہ دے رہے ہیں کہ اسے گرین انرجی کا راستہ چھوڑ کر تیل و کوئلہ جیسے انرجی کے روائیتی ذرائع اختیار کرنے چاہئیں۔ اسی کے ساتھ ان کا کہنا ہے کہ تارکین وطن سے سرحدیں محفوظ کیے بغیر کوئی مغربی ملک دوبارہ عظیم نہیں بن سکتا۔ ایسا دعویٰ کرتے ہوئے وہ یہ یاد کرنا بھول جاتے ہیں کہ آج امریکہ اگر تحقیق و ایجادات میں دنیا میں سب سے آگے ہے تو ا س کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ دنیا کے اعلیٰ ترین دماغ یہاں آکر امریکی ترقی میں ہاتھ بٹاتے رہے ہیں۔ یہ راستے بند کرکے ٹرمپ جیسے لوگ ترقی کی طرف بڑھتے ہوئے قدم روکنے کا باعث بنیں گے۔
تارکین وطن کے خلاف ٹرمپ کی باتیں نسلی تعصب سے لبریز ہیں ۔ مہذب دنیا تعصب و امتیاز سے بالا ہوکر مساوات کے اصول کو اپنا کر ترقی وبہبود اور ہم آہنگی کا سفر طے کررہی ہے۔ یہ راستہ ترک کرنے سے لوگوں کو خانوں میں بانٹا جائے گا اور انسانوں میں تفریق کا اصول عام ہوگا۔ یہ طریقہ ترقی و خوشحالی کی بجائے بدحالی اور تصادم کی راہ ہموار کرے گا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

