واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اب ایران کے پاس نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی فضائی دفاعی نظام، تقریباً سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔‘
وائٹ ہاؤس میں جرمنی کے چانسلر کے ساتھ میڈیا بریفنگ کے دوران ان سے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں پہلا سوال یہ کیا گیا کہ کیا اسرائیل نے ٹرمپ کو مجبور کیا؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’نہیں، میں نے شاید انھیں مجبور کیا۔‘
ایران کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’ہم ان پاگلوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے، اور میری رائے تھی کہ وہ پہلے حملہ کرنے والے ہیں۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ایسا ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ ایسے میں ’تو اگر کچھ ہے تو میں نے شاید اسرائیل کو مجبور کیا۔ میرا خیال ہے وہ حیران تھے، میں حیران تھا، اور اب وہ تمام ممالک ان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔‘
اگلا سوال یہ کیا گیا کہ ایران میں امریکہ نے بدترین صورتحال کے لیے کیا منصوبہ بنایا ہے۔ ٹرمپ نے جواب دیا کہ بدترین صورتحال یہ ہے کہ ’ہم یہ کرتے ہیں اور کوئی ایسا شخص اقتدار سنبھال لیتا ہے جو پچھلے شخص جتنا ہی برا ہو۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کے ذہن میں کچھ لوگ تھے جو ملک کی قیادت کر سکتے تھے، لیکن وہ اب مر چکے ہیں۔‘
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتیں ’کچھ عرصے کے لیے‘ زیادہ رہ سکتی ہیں
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کا فضائی دفاع، فضائیہ، بحریہ اور قیادت ختم ہو چکی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران بات کرنا چاہتا ہے لیکن میں نے کہا اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کا فضائی دفاع، فضائیہ، بحریہ اور قیادت ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران بات کرنا چاہتا ہے لیکن میں نے کہا اب بہت دیر ہوچکی۔
اس سے قبل اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ فوجی کارروائی ایران کے خلاف صرف ابتدا ہے، ’بڑی لہر‘ ابھی آنا باقی ہے، حملے میں ایران کے 49 رہنما مارے گئے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی قیادت کے خاتمے کی کوشش کر رہے ہیں مگر اس کے بعد کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

