کیلی فورنیا : ایلون مسک، جو ارب پتی امریکی شخصیت ہیں، نے جب ٹوئٹر خریدا تو یہ واضح تھا کہ ایک معروف اور مصروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم بڑی تبدیلی کے عمل سے گزرے گا۔تاہم نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ خود ایلون مسک ہی ٹوئٹر کی قبر کی تصاویر شیئر کرنے لگیں گے، یہ شاید کسی نے نہیں سوچا تھا۔
اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میں ’ریسٹ اِن پیس ٹوئٹر‘ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے جس کی وجہ ٹوئٹر کی جانب سے ملازمین کے نام وہ پیغام ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کے تمام دفاتر کو 21 نومبر تک بند کیا جا رہا ہے۔
اس فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم اس سے قبل یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک کی جانب سے زیادہ گھنٹے کام کرنے کی شرط پر ملازمین کی ایک بڑی تعداد نوکری چھوڑ رہی ہے۔ اس سے پہلے مسک نے کمپنی کے آدھے ملازمین کو یہ کہتے ہوئے خود برطرف کر دیا تھا کہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ ٹوئٹر کو روزانہ چار ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ 2006 میں بننے والی ٹوئٹر سوشل میڈیا سائیٹ، جسے 2013 میں ’انٹرنیٹ کا ایس ایم ایس‘ قرار دیا گیا تھا، کو دنیا بھر میں کروڑوں لوگ استعمال کرتے ہیں۔رواں سال ایلون مسک نے 44 ارب ڈالر کے عوض ٹوئٹر کو خرید لیا تھا۔
ٹوئٹر کی جانب سے ملازمین کے نام جاری پیغام، جسے بی بی سی نے دیکھا ہے، میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملازمین کمپنی کی پالیسی کے تحت خفیہ معلومات سوشل میڈیا یا کہیں اور مت فراہم کریں۔
بی بی سی کی جانب سے ٹوئٹر سے رابطہ کیا گیا تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔رواں ہفتے کے دوران ہی ایلون مسک نے ملازمین سے کہا تھا کہ ان کو زیادہ وقت کام کرنا ہو گا یا پھر نوکری چھوڑنی ہو گی۔انھوں نے ایک ای میل کے ذریعے بتایا تھا کہ جو ملازمین ایسا نہیں کرنا چاہتے، ان کو تین ماہ کی تنخواہ دے کر فارغ کر دیا جائے گا۔تاہم اس اعلان کے بعد یہ خبریں سامنے آئیں کہ ملازمین کی اکثریت نے اس شرط کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے نوکری سے استعفی دے دیا ہے۔ایک سابق ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’شاید جب تک یہ معاملہ ختم ہو گا، وہاں دو ہزار لوگ باقی رہ جائیں گے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ان کے ارد گرد تمام لوگ فارغ کیے جا چکے ہیں۔ ’ایک ٹیم کا مینیجر نکال دیا گیا، اور اس کا مینیجر بھی نکال دیا گیا۔ اس سے اوپر ایک ایگزیکٹیو کو پہلے دن ہی نکالا جا چکا تھا۔ تو اب اس پوری ٹیم میں اوپر سے نیچے تک کوئی نہیں ہے۔‘
ایلون مسک کے کنٹرول سنبھالنے سے قبل ٹوئٹر کے ملازمین کی تعداد تقریبا ساڑھے سات ہزار تھی۔اس کے علاوہ کمپنی نے کئی کنٹریکٹ ملازمین بھی رکھے ہوئے تھے جن کی اکثریت کو اب نکال دیا گیا ہے۔
ایک ملازم نے بتایا کہ ’میں کسی ایسے شخص کے لیے کام نہیں کرنا چاہتا جو ای میل پر دھمکیاں دیتا ہے کہ یہاں غیر معمولی لوگ ہی کام کریں گے جبکہ میں پہلے ہی ہفتے میں 60-70 گھنٹے کام کر رہا تھا۔‘ایک صارف نے جب سوال کیا کہ کیا ٹوئٹر بند ہونے والا ہے تو ایلون مسک نے جواب میں کہا کہ ’بہترین لوگ اب بھی یہاں موجود ہیں تو مجھے بہت زیادہ پریشانی نہیں ہے۔‘
ایک اور پوسٹ میں ایلون مسک نے ایک میم شیئر کی جس میں ایک قبر پر ٹوئٹر کے نام کا کتبہ لگا ہوا تھا۔
( بشکریہ : بی بی سی )

