ادبلکھاری

اسپغول گھوڑے کے کان اور کوہ سے کوہان ۔۔ عبدالخالق بٹ

دور سے کوہسار و وادی پر یہ ہوتا ہے گماں
اونٹ ہیں بیٹھے ہوئے اترا ہوا ہے کارواں
سلیس و سادہ زبان اورعام فہم تشبیہ سے آراستہ یہ خوبصورت شعر ابوالاثر حفیظ جالندھری کی ایک بھلی سی نظم کا ہے۔
جس نے پالان اور کجاوں کے بغیر اونٹ دیکھے ہوں وہ ’کوہ‘ کی’کوہان‘ سے نسبت کا لطف اٹھا سکتا ہے۔ شعر میں ایک لفظ ’کوہسار‘ استعمال ہوا ہے۔ اس میں پہلا لفظ ’کوہ‘ یعنی پہاڑ ہے جب کہ دوسرا لفظ ’سار‘ کثرتِ مقامی کا نمائندہ ہے، یوں ’کوہ سار‘ کے معنی ہوئے پہاڑی سلسلہ یا وہ جگہ جہاں بہت سے پہاڑ ہوں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ’سار‘ کے ایک معنی ’اونٹ‘ بھی ہیں۔ اسے ’ساربان‘ کی ترکیب میں دیکھ سکتے ہیں۔عرفان اللہ عرفان کا شعر ہے:
میں بے طرح کے کئی گیت گنگناتا ہوں
سفر میں جیسے کوئی ساربان بولتا ہے
اب لفظ ’کوہ‘ کو ذہن میں رکھیں اور لفظ ’کوہان‘ پرغور کریں بات آسانی سے سمجھ آجائے گی کہ ’کوہان‘ کی اصل ’کوہ‘ ہے۔
اردو زبان کے معروف ادیب، شاعر اور محقق وزیر آغا کی ایک آزاد نظم کا ابتدائیہ ملاحظہ کریں جس میں پہاڑ کی چوٹی کو ’کوہان‘ کہا گیا ہے:
تھکا ہارا بے جان بادل کا ٹکڑا
درختوں چٹانوں سے دامن بچاتا
پہاڑی کے کوہان سے نیچے اترا
کوہان کے بعد اب خود اونٹ پربات ہوجائے۔ ’اونٹ‘ ہندی زبان کا لفظ ہے۔ لہجے کے فرق کے ساتھ ’اونٹ‘ بہت سی زبانوں کی سیر کرتا نظرآتا ہے۔ مثلاً بنگالی میں ’اُٹ‘، تیلگو میں اونٹے، تامل میں اوٹّاکم (Oṭṭakam)، سنہالی میں ٹُوا (oṭuvā) یا آرمینیائی زبان میں Ught۔
اونٹ حالتِ سرشاری میں جو آواز نکالتا ہے اُسے ’بغبغانا‘ کہتے ہیں، جب کہ اُس کی عمومی آواز ’بَلبَلانا‘ کہلاتی ہے۔ واضح رہے کہ ’بَلبَلانا‘ کا لفظ ’بِلبِلانا‘ سے الگ ہے کہ ’بِلبِلانا‘ کے معنی میں گڑگڑانا، بے قرارہونا اورآہ زاری کرنا شامل ہے۔
سنسکرت اوراس کی ماجائی بہن فارسی میں اُونٹ کو بالترتیب ’اُشٹر‘ اور ’شُتر‘ کہتے ہیں۔ چوں کہ ’شُتر‘ کی گردن لمبی ہوتی ہے سو اس نسبت سے لمبی گردن والا سب سے بڑا پرندہ ’شُترمرغ‘ کہلاتا ہے۔ سنسکرت میں اونٹ کا ایک نام کرمیلا / kramela بھی ہے۔ اس سنسکرتی ’کرمیلا‘ کی اصل عربی کا ’جمل‘ ہے۔ یوں تو ’کرمیلا‘ اور’جمل‘ میں کوئی مناسبت دکھائی نہیں دیتی تاہم تھوڑی سی توجہ پر یہ تعلق واضح ہوجاتا ہے۔
پہلے یہ سمجھ لیں کہ عربی زبان میں اونٹ کا عمومی نام ’إبل‘ ہے، پھر اسی ’إبل‘ سے لفظ ’ابابیل‘ ہے جو اونٹ کے غول، جھنڈ اور ریوڑ کو کہتے ہیں۔ بعد میں لفظ ’ابابیل‘ کسی بھی چیز کے ’جُھنڈ‘ کے لیے عام ہوگا۔ اسے آپ ’طیراً ابابیل‘(پرندوں کے جُھنڈ) کی ترکیب میں دیکھ سکتے ہیں۔
عمراور خصوصیات کے اعتبار سے عربی میں اونٹ کے سو سے زیادہ نام ہیں۔ جوان اورخوبصورت نراونٹ کو’جمل‘ کہتے ہیں۔ لفظ ’جمل‘ کی ایک خصوصیت ایسی ہے جو عربی زبان میں کسی اور لفظ کے حصے میں نہیں آئی۔
عربی زبان کے ایک بڑے عالم علامہ ابن جعفرمحمد ابن حبیب بغدادی کے مطابق:’جمع الجمع چھ مرتبہ سوائے لفظ ’جمل‘ کے اور کہیں نہیں آتی۔ چناچہ ’جمل‘ کی جمع ’اجمل‘ ہے اور اس کی جمع ’اجمال‘ ہے، جس کی جمع ’جامل‘ ہے اور اس کی جمع ’جمال‘ ہے، جس کی جمع ’جمالۃ‘ ہے اور اس کی جمع ’جمالات‘ آتی ہے۔
اردو میں لفظ جمل، جمال اوراجمل کا خوبصورت اور پُر معنی استعمال معروف شاعر جعفربلوچ کے ایک شعر میں ملتا ہے۔ یہ شعر انہوں نے اپنے دوست اور مشہور کالم نویس اجمل نیازی کے سراپے کو پیش نظر رکھ کر کہا تھا:
عیاں یہ بات تری ایک ایک کل سے ہے
کہ تُو جمال سے اجمل نہیں، جمل سے ہے
عربی کا جمل (اونٹ) اپنی ہم قبیلہ زبان عبرانی میں ’گھمال/جیمل‘ اورانگریزی میں کیمل (Camel) ہے۔ اس Camel کو بہت سی یورپی زبانوں میں لہجے کے فرق کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلاً یہ یونانی زبان میں کمِیلا(Kamíla)، ہسپانوی میں کامیلو (Camello) اورجرمن زبان میں کامیل(Kamel) ہے۔
اب ذرا یونانی کے کمِیلا(Kamíla) کے ساتھ سنسکرت کے کرمیلا (Kramela) پرغور کریں آپ کو اس میں ’جمل‘ نظر آجائے گا۔
اگرآپ اونٹ کے بیان سے اُکتا گئے ہیں تو گھوڑے کا ذکر کرتے ہیں۔ گھوڑا وفادار جانور ہے۔ اس کی سواری ہر زمانے میں قابلِ فخرسمجھی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ کسی بھی دوسرے جانور کے مقابلے میں گھڑ سوار کو ’شہ سوار‘ کہا جاتا ہے۔ علامہ اقبال کی نظم ’مسجد قرطبہ‘ کا ایک شعرہے:
آہ وہ مردان حق، وہ عربی شہسوار
حامل خلق عظیم صاحب صدق و یقیں
اردو میں کالے گھوڑے کو ’مشکی‘ کہتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ کہ اس کا رنگ ’مشک‘ سیاہ ہوتا ہے۔ یوں گھوڑے کو ’مشکی‘ کہنا ایک طرح سے خوبیِ نسبت کا اظہار ہے۔
فارسی میں کالے گھوڑے کو’شب دیز‘ کہتے ہیں۔’شب دیز‘ کے معنی ’سیاہ رنگ‘ کے ہیں۔’شب دیز‘ اصل میں ساسانی بادشاہ خسرو پرویزکے گھوڑے کا نام تھا۔ چوں کہ یہ گھوڑا کالے رنگ کا تھا یوں سراپا اپنے نام کا ترجمان تھا۔ ’شب دیز‘ کا ذکر فارسی کی رعایت سے اردو ادب میں بھی موجود ہے۔ یقین نہ آئے تو میرانیس کے مرثیے کا شعر ملاحظہ کریں:
رانوں کے اشارے سے لگا کوندنے شبدیز
اسوار کے دل کا تھا اشارہ اسے مہمیز
’شب دیز‘ کے علاوہ جس دوسرے گھوڑے نے میدان ادب میں جگہ پائی وہ مشہور افسانوی کردار’رستم‘ کا گھوڑا تھا۔ سفید و سرخ رنگ کے اس گھوڑے کا نام ’رَخش‘ تھا۔ بعد ’رَخش‘ گھوڑے کے مجازی معنی اختیار کر گیا۔ اسے آپ میرزا اسد اللہ خان غالب کے درج ذیل مشہورشعرمیں دیکھ سکتے ہیں:
رَو میں‌ ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
فارسی میں گھوڑے کو ’اسپ‘ کہتے ہیں۔ فارسی کے رعایت سے ’اسپ‘ اردو ادب میں بھی پایا جاتا ہے۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ اس ’اسپ‘ کو ’اسپغول‘ سے کیا نسبت ہے؟
توعرض ہے کہ ’اسپغول‘ کے لفظی معنی ’گھوڑے کے کان‘ ہیں۔ چوں کہ اس عام دیسی جڑی بوٹی کے بیج دکھنے میں گھوڑے کے کان جیسے ہوتے ہیں اس لیے اس دوا کو ’اسپ غول‘ کہتے ہیں۔
چوں کہ ہمیں اسپ اور اسپغول دونوں کی ضرورت نہیں ہے اس لیے اب ہمیں اجازت دیں۔
( بشکریہ :اردو نیوز )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker