گزشتہ رات صدر جوبائیڈن کی طرف سے صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کے اعلان کے بعد نائب صدر کاملا ہیرس ایک مضبوط اور شاید ایسی واحد قابل قبول امید وار کے طور پر سامنے آئی ہیں جنہیں ڈیموکریٹک پارٹی میں وسیع حمایت حاصل ہورہی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی حتمی فیصلہ اگلے ماہ کے وسط میں منعقد ہونے والے پارٹی کنونشن میں کرے گی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مدمقابل کون ہوگا ۔البتہ یہ سوال اہم ہے کہ ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کیا حکمت عملی اختیار کرسکتی ہے؟ اور کس امیدوار کو سامنے لائے گی۔
جوبائیڈن کی دست برداری سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما درحقیقت اپنے ہی صدر اور آئیندہ مدت کے لیے پرائمریز جیتنے والے بائیڈن کے خلاف محاذ آرائی میں مصرف رہے تھے۔ یہ درست ہے کہ سی این این پر 27 جون کے مباحثے میں جو بائیڈن کی کارکردگی بے حد کمزور تھی لیکن ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈروں نے اس سے بڑھ کر بائیڈن کو کمزورکرنے اور امیدواری سے دست بردار ہونے پر مجبور کیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ کانگرس اور سینیٹ کے ان امیدواروں کی پریشانی تھی جنہیں یہ اندیشہ تھا کہ صدر بائیڈن بدستور امیدوار رہے تو وہ صرف صدار ہی کا انتخاب نہیں ہاریں گے بلکہ کانگرس کے لیے پارٹی کے امیدواروں کو بھی اس کا شدید نقصان ہوگا۔ اس حوالے سے کوئی خاص اعداد و شمار سامنے نہیں تھے اور مباحثہ میں خراب کارکردگی کے باوجود بائیڈن اور ٹرمپ کی مقبولیت میں بہت زیادہ فرق بھی نوٹ نہیں کیا گیا تھا۔ البتہ خوفزدہ ڈیموکریٹک لیڈروں نے بائیڈن پر دباؤ جاری رکھا اور دھیرے دھیرے صدارتی مہم کے لئے چندہ دینے والے امیر لوگوں کو بھی بائیڈن کے خلاف محاذ آرائی پر تیار کیا جانے لگا۔
امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے ان عناصر کا کہنا تھا کہ اگر بائیڈن بدستور امید وار رہے اور انہیں اپنی رائے تبدیل کرنے پر آمادہ نہ کیا جاسکا تو ڈیموکریٹک پارٹی صدارتی مقابلہ ہارنے کے باوجود کانگرس میں بھی مکمل شکست سے دوچار ہوگی۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ مہم جوئی درحقیقت سینیٹ و ایون نمائیندگان کے ان امیدواروں کی طرف سے کی جارہی تھی جو اپنی نشستیں محفوظ کرنے کے لیے بائیڈن کی قربانی چاہتے تھے۔ اس جد و جہد میں البتہ بائیڈن ہی کمزور نہیں ہوئے بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی میں انتشار اور پریشانی کی علامات بھی نمایاں ہونے لگیں۔ پارٹی کے کسی لیڈر کے پاس اس مشکل پر قابو پانے کا کوئی حل موجود نہیں تھا۔ لے دے کے ایک ہی نعرہ باقی رہ جاتا تھا کہ بائیڈن پر اخلاقی و سیاسی دباؤ میں اضافہ کیا جائے۔
اس دوران میں دو واقعات ایسے ہوئے جن کی وجہ سے ب جو بائیڈن کو اپنے پہلے فیصلہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے بالآخر ’ملک اور پارٹی کی خاطر‘ صدارتی دوڑ سے دست بردار ہونے کا اعلان کرنا پڑا۔ پہلا واقعہ پنسلینویا میں ایک جلسہ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ کاواقعہ تھا جس نے جو بائیڈن پر سیاسی دباؤ میں اضافہ کیا۔ دوسرا واقعہ یہ ہؤا کہ اسی دوران میں جو بائیڈن کورونا وائرس کا شکار ہوکر صاحب فراش ہوگئے۔ انہیں قرنطینہ میں جانا پڑا اور وہ اپنے صدارتی فرائض بھی ورچوئیل ملاقاتوں میں طے کرنے مجبور ہوگئے۔ علالت کے باوجود بائیڈن پر ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈروں کا دباؤ جاری رہا۔ البتہ اس مدت میں معمول کی مصروفیات کم ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی اہلیہ، اہل خاندان اور دوستوں سے مشاورت کا موقع ملا۔ انہوں نےسکون سے سیاسی حالات کا مشاہدہ کرکے کسی نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کی۔ بائیڈن کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینا ہے تو پوری پارٹی کو کسی اختلاف کے بغیر ان کے ساتھ ہونا چاہئے تاہم یہ صورت حال بدستور تبدیل ہورہی تھی۔ دست برداری کے بارے میں حتمی فیصلہ سے ان کے قریب ترین معاونین کو بھی کل دن سے پہلے کوئی خبر نہیں تھی۔ اس لیے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ وہ اہل خاندان اور قریب ترین دوستوں کی مشاورت سے خود ہی اس نتیجہ تک پہنچے۔
گزشتہ رات سوشل میڈیا پر صدارتی دوڑ سے دست بردار ہونے کا اعلان کرنے کے بیس منٹ بعد ایکس پر ایک نئی پوسٹ میں انہوں نے اپنی جگہ کاملا ہیرس کا نام تجویز کیا اور ان کی پرزور تائید کی اور ڈیموکریٹک پارٹی کو مشورہ دیا کہ وہ انہیں امیدوار نامزد کرے۔ اسی دوران میں کاملا ہیرس نے فوری طور سے پارٹی، مالی معاونین ، کانگرس کے اراکین، گورنروں اور اہم لیڈروں سے رابطوں کا سلسلہ شروع کردیا۔ انہوں نے اعلان کیاکہ وہ اس نامزدگی کے لیے بھرپور کوشش کریں گی اور وہ ٹرمپ کو شکست دینے کا کامل ارادہ رکھتی ہیں۔ جلد ہی ان کی حمایت کے آثار دکھائی دینا شروع ہوگئے۔ ایک تو پارٹی لیڈروں نے جو بائیڈن کی تقلید کرتے ہوئے کاملا ہیرس کو امیدوار بنانے کی سفارش کی ۔ تو دوسری طرف ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں نے فوری طور سے کاملا ہیرس کے لیے چندہ جمع کرنے کی کامیاب مہم کا آغاز کردیا۔ خبروں کے مطابق ہیرس کی امیدواری کے اعلان کے چوبیس گھنٹے کے اندر عام شہریوں کی طرف سے 50 ملین ڈالر جمع کرلیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ اہم اور مالدار عطیہ دینے والے لوگوں نے بھی کاملا ہیرس کی حمایت کا اعلان کرنا شروع کردیا۔
گو کہ ابھی کاملا ہیرس کی بطور امیدوار نامزدگی کی راہ میں کئی مشکلات حائل ہیں اور حتمی فیصلہ اگست کے دوران میں ہونے والے پارٹی کنونشن میں ہی ہوگا لیکن جن لیڈروں کو بائیڈن کے دوڑ سے باہر ہونے کی صورت میں متبادل امیدوار کے طور پر دیکھا جارہا تھا ، انہوں نے یکے بعد دیگرے کاملا ہیرس کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ گویا انہوں نے ان افواہوں کا خاتمہ کرنا شروع کردیا ہے کہ کنونشن کے دوران میں وہ کاملا ہیرس کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان میں خاص طور سے مشی گن کی مقبول گورنر گریچن وٹمر اور کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسوم شامل ہیں۔ یہ دونوں اب کاملا ہیرس کی حمایت کررہے ہیں۔ اسی لیے یہ بات یقینی محسوس ہونے لگی ہے کہ کاملا ہیرس ڈیموکریٹک پارٹی کے ڈیلیگیٹس کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔
حیرت کی بات ہے کہ چند دن پہلے تک جو میڈیا اور عناصر یہ باتیں کررہے تھے کہ ہیرس کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دے سکیں ، اس لیے بائیڈن کے بعد ان کا نام متبادل کے طور پر مناسب نہیں ہوگا کیوں کہ ان کی مقبولیت کی شرح بائیڈن سے بھی کم ہے۔ اب وہی عناصر انہیں پارٹی کی واحد امید کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ اس اچانک تبدیلی کی چند قابل توجہ وجوہ موجود ہیں۔ سب سے اہم وجہ تو جو بائیڈن کی طرف سے ان کی تائید ہے۔ جوبائیڈن سے امیدواری سے دست برداری کا مطالبہ ان کی عمر، نقاہت اور ٹرمپ کے مقابلے میں کمزوری کی وجہ سے کیا جارہا تھا۔ البتہ جیسا کہ ان کے اعلان کے بعد سامنے آنے والے بیانات میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی اور غیرجانبدار تجزیہ نگار انہیں امریکی سیاست کے ہیرو کے طور پر خراج تحسین پیش کررہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے انہیں بے مثال حب وطن قرار دیاہے جنہوں نے قومی ضرورت اور پارٹی کے مفاد کو ذاتی خواہش پر ترجیح دی اور صدارتی ڈور سے باہر ہوگئے۔
پارٹی میں جو بائیڈن کے اثر و رسوخ کے بارے میں مبالغہ کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا احترام اور قدر و منزلت کا اعتراف متعدد حلقوں کی طرف سے سامنے آچکا ہے۔ اس لیے کسی امیدوار کے لیے جو ان کی نائب صدر بھی ہیں، بائیڈن کی توثیق کو آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ اس کے علاوہ اس حوالے سے مالی معاملات بے حد اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ کوئی راز نہیں کہ امریکی انتخابات میں مالی وسائل بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ جو بائیڈن کی دستبرداری میں مالی معاونت کرنے والوں کے دباؤ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ بائیڈن اتنخابی مہم کے پاس اس وقت 95 ملین ڈالر کا فنڈ موجود ہے۔ قانون کے مطابق کاملا ہیرس امیدوار بن جائیں تو وہ یہ فنڈ استعمال کرسکیں گی کیوں کہ وہ بائیڈن ٹیم کا حصہ تھیں۔ لیکن اگر کوئی دوسرا شخص امیدوار نامزد ہوتا ہے تو وہ اس فنڈ کو استعمال نہیں کرسکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ اسے نومبر میں منعقد ہونے والے انتخاب کے اخراجات پورے کرنے کے لیے چند ہفتوں میں کثیر وسائل جمع کرنے ہوں گے جو کوئی آسان ہدف نہیں ہے۔ کاملا ہیریس کے امکانات کے بارے میں یہ حقیقت بھی اہم کردار ادا کرے گی کہ اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی اندرونی توڑ پھوڑ اور تضادات کا شکار ہے جبکہ ری پبلیکن پارٹی ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں پرجوش اور متحد ہے۔
جو بائیڈن کی اچانک دست برداری کی بنیاد تو 27 جون کو سی این این پر ہونے والے مباحثہ میں ہی رکھی گئی تھی جس میں وہ کمزور اور لاغر دکھائی دے رہے تھے جسے جنہیں اپنا مطمح نظر بیان کرنے میں دشواری کا سامنا تھا۔ البتہ ایک نئی مدت کے لیے صدر بننے کی خواہش درحقیقت پنسلینویا میں ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ کے واقعہ میں دب کر رہ گئی۔ اسی لیے ایک تجزیہ میں کہا گیا تھا کہ ’گولی تو ٹرمپ پر چلی ہے لیکن اس میں بائیڈن ہلاک ہوئے ہیں‘۔ اس کی تصدیق امریکی صدر نے گزشتہ روز انتخابی دوڑ سے باہر ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کردی ہے۔ فائرنگ کے واقعہ میں ڈونلڈ ٹرمپ، بہادر، حوصلہ مند اور نڈر لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے گولی چلنے اور سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں کے گھیرا ڈالنے کے باوجود کسی گھبراہٹ یا پریشانی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ محافظوں کو روک کر زخمی حالت میں مکا لہرایا اور ’فائٹ، فائٹ ، فائٹ‘ کا نعرہ لگایا۔ اس ایک علامتی نعرے نے انہیں ایک اولالعزم لیڈر کی شہرت عطا کی جو مشکل سے مشکل صورت حال میں ڈٹ کر کھڑا رہ سکتا ہے۔ ان دو واقعات کے دوبارہ صدر بننے کے لیے جو بائیڈن کی امیدوں کا خون کردیا۔
اب کاملا ہیرس ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کے سامنے بند باندھنے اور صدر بننے کی کوشش کریں گی۔ اگر وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار نامزد ہوگئیں اور نومبر میں انتخاب بھی جیت گئیں تو وہ امریکہ میں صدر منتخب ہونے والی پہلی خاتون ہوں گی۔ البتہ انہیں ٹرمپ جیسے پراعتماد شخص سے مقابلہ جیتنا ہے جو جھوٹ بولنے میں بھی کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتا کیوں کہ اس کے حامی ان باتوں کو خاص اہمیت نہیں دیتے۔ ایسے مقابلے میں مباحثے اور کاملاہریس کی طرف سے میڈیا کے ذریعے اپنا مفہوم دو ٹوک اور واضح الفاظ میں سامنے لانا ضروری ہوگا۔
فی الوقت ٹرمپ ناقابل تسخیر دکھائی دے رہے ہیں۔ البتہ امریکہ میں ووٹر شدید تقسیم کا شکار ہیں۔ ٹرمپ کی کامیابی کے خوف میں مبتلا عناصر اگر بڑی تعداد میں ووٹ دینے کے لیے باہر نکل آئے تو کاملاہیرس تمام مشکلات کے باوجود سرخرو ہوسکتی ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

