کالملکھاریوجاہت مسعود

فیلڈ مارشل رومیل بنام عطا الحق قاسمی۔۔وجاہت مسعود

از: العالمین اور نارمنڈی کے درمیان ایک عرض البلد

عزت مآب عطاالحق قاسمی، میں نے آپ کے ایک ہم وطن بیوروکریٹ سے دریافت کیا کہ آپ سے مخاطب ہوتے وقت پروٹوکول کے کون سے تقاضے مناسب رہیں گے۔ اس نے بتایا کہ آپ تدریس سے وابستہ رہے ہیں، اس لیے آپ کو ماسٹر صاحب کہنا کافی ہو گا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے ایک سابق ایم ڈی نے اعتراض کیا کہ ’شعر و شاعری اور ڈرامے وغیرہ لکھنے والے قاسمی کو سر پہ چڑھانا مناسب نہیں‘۔ آپ کے ملک کے ایک سابق صدر حوروں اور فرشتوں کے تبادلوں کی سفارش کرنے اکثر مقامی دفتر میں آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قاسمی کے آبا و اجداد نے کوئی زرعی اراضی ورثے میں چھوڑی اور نہ انہیں کبھی دربار میں خلعت ملی۔ صدر موصوف کو حیرت تھی کہ دوسری عالمی جنگ کا اساطیری کمانڈر فیلڈ مارشل رومیل پاکستان جیسے پسماندہ ملک کے ایک ایسے قلم گھسیٹ صحافی سے کیوں مخاطب ہونا چاہتا ہے جسے سیاسی جوڑ توڑ کی دفعہ اٹھاون ٹو بی کے تحت معزول کیا جا چکا ہے۔ ایک عرب شہزادے نے کہا کہ قاسمی کے ملک میں معدنی تیل نہیں نکلتا۔ قاسمی نے زندگی میں ایک ہی شادی کی۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر بحالت مجبوری آپ سے بات کرنا ہی ہے تو مجھے آپ کو مسکین قاسمی پکارنا چاہئیے۔ اس موقع پر میرے عزیز دوست جنرل یعقوب علی خان میرے کام آئے۔ یہاں موجود پاکستانی جرنیلوں میں جنرل یعقوب علی خان ہی کے ساتھ مجلس آرائی میں مجھے لطف ملتا ہے۔ ملٹری سائنس کے پیچیدہ نکات پر مزے کی نشست رہتی ہے۔ جنرل یعقوب علی نے بھی میری طرح قومی ذمہ داری نبھاتے ہوئے منصب سے ہاتھ دھوئے تھے۔ جنرل یعقوب نے بتایا کہ آپ اپنے ملک میں استاد، صحافی اور سفارت کار کے طور پر فرائض ادا کر چکے ہیں۔ پروٹوکول کا کوئی درجہ ایسا نہیں جسے آپ نے اپنے عرق ابرو سے نہیں کمایا۔ جنرل یعقوب علی خان کی بات میرے دل کو بھائی۔ ہو سکتا ہے آپ کو معلوم ہو کہ میرے والد بھی پیشے کے اعتبار سے سکول ٹیچر تھے۔ میں آپ سے جناب سفیر کہہ کر مخاطب ہوتا ہوں۔
عزت مآب سفیر: مجھے آپ کے ملک سے یک گونہ محبت ہے۔ جب ایک کارپورل کے حکم پر مجھے دنیا سے رخصت کیا گیا تو آپ کا ملک ابھی وجود میں نہیں آیا تھا۔ میں نے اپنے ملک میں قیصر ولہم کی بادشاہت، وائمر ریپبلک کی افراتفری اور کارپورل ہٹلر کی آمریت کے ادوار دیکھے۔ ان تجربات سے گزرنے کے بعد میرے عظیم ملک جرمنی نے جمہوریت کا انتخاب کیا۔ آج جرمنی یورپ کی سب سے بڑی اور دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا ملک ارتقا کے یہ مرحلے دیکھ چکا، آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ کی قوم کے بانی قائداعظم جناح جمہوریت پسند تھے۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ آپ کا ملک بالآخر مستحکم جمہوریت کی راہ اپنا کر بہت ترقی کرے گا۔ محترم سفیر صاحب، میرا آپ سے ایک زمانی رشتہ بھی ہے۔ آپ 1943ءمیں پیدا ہوئے۔ یہ میری زندگی کا آخری برس تھا۔ میں بیرونی جنگ اور داخلی سیاست کے بحران میں نجات کا راستہ سمجھ چکا تھا۔ لیکن حالات ایسے تھے کہ میں اس خواب کی تعبیر نہیں دیکھ سکا۔

محترم سفیر، آپ سے مخاطب ہونے کا ایک سبب آپ کے ملک میں سہیل وڑائچ نامی ایک صحافی ہے۔ اس نے اپنے ایک اخباری کالم میں امریکہ کے اساطیری جج جسٹس مارشل کے کچھ حوالے دیے ہیں جس پر آپ کے ملک کے سرکاری درباری زیادہ محظوظ نہیں ہوئے۔ جنرل یعقوب علی بہت پتے کی بات کہتے ہیں۔ انہیں بھی ایسے حالات سے گزرنا پڑا تھاجب اقتدار کے نشے میں مخمور آمر نے عقل کی بات سمجھنے سے انکار کر دیا تھا۔ سفیر محترم، آپ کی طرح جنرل یعقوب علی نے بھی استعفی دیا تھا۔ جسٹس مارشل والے کالم کی خبر یہاں پہنچی تو جنرل یعقوب علی نے آہستہ سے کہا، اہل پاکستان جسٹس مارشل کا تصور انصاف کیا سمجھیں گے۔ ابھی تو وہ فیلڈ مارشل والے مرحلے سے نہیں نکلے۔ پاکستان کے ایک سابق جرنیل نے خود کو فیلڈ مارشل قرار دے دیا تھا۔ وہاں بہت سے خود ساختہ مسیحا اپنے منصب کی توسیع کے شوق میں فیلڈ مارشل کے منصب کے خواستگار ہوتے ہیں۔ صاحبزادہ جنرل یعقوب نے مجھ سے کہا کہ فیلڈ مارشل رومیل کے لیے عزت کا حتمی درجہ یہی ہے کہ وہ عطاالحق قاسمی جیسے استاد، سفیر اور صحافی سے مخاطب ہو جو اپنے ملک کی بہتری کے لیے ذاتی انا کو قربان کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ تم خطہ کشمیر کے ان برہمن زادگان زندہ دل کی نسل ہو، جن میں فلسفی اقبال نے ’تیز بین و پختہ کار و سخت کوش‘جیسی صفات دریافت کی تھیں۔ میرے وطن ہائیڈل برگ سے تعلیم پانے والے اقبال نے اہل کشمیر کو ’ہند را ایں ذوق آزادی کہ داد‘جیسے کارنامے کا اعزاز بخشا تھا۔ سفیر محترم، میں کشمیر جیسی حریت پسند زمین کے بہادر بیٹے عطاالحق قاسمی سے مخاطب ہونے پر خوشی محسوس کر رہا ہوں۔
محترم سفیر، آپ کا ملک ایک بڑے بحران سے گزر رہا ہے۔ ایسے مشکل حالات میں قوموں کو سب سے زیادہ داخلی اتحاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کے ملک کا سیاسی بندوبست اس وقت غیر مستحکم ہے۔ آپ کے ملک میں طالع آزما، قلم کے قزاق اور سیاسی موقع پرست ملک کو لاحق خطرات سے بے نیاز ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہیں۔ جرمنی پر بھی یہ وقت آیا تھا۔ میرے ملک کے بدخواہوں نے حقیقی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے مفروضہ دشمن گھڑ لیے تھے، مظلوم اقلیتوں اور نسل پرستی کی آگ میں میرا ملک تباہ ہو گیا تھا۔ سفیر محترم، ہو سکتا ہے آپ نے ڈریسڈن میں تباہی کے آثار اور باخن والڈ کے کھنڈرات کی سیاحت کر رکھی ہو۔ مجھے سخت افسوس ہے کہ آپ کے ملک میں شعلہ بیان مقرروں کی بڑی مانگ ہے۔ میرے ملک نے ایک گوئبلز پیدا کیا تھا، آپ کے ملک میں درجنوں گوئبلز پیدا ہو گئے ہیں۔ ایسے ایک گوئبلز نے پچھلے دنوں آپ کے خلاف ایک زہر آلود کالم لکھا ہے۔ میں اپنے تجربے کی روشنی میں بتا سکتا ہوں کہ گوئبلز کے گھر تک کوئی سڑک تعمیر نہیں ہوتی۔ گوئبلز کی سطحی حب الوطنی اور بے معنی خطابت کا مقابلہ کرنے والوں کی تاریخ میں بہت عزت ہوتی ہے۔ میری موت پر دشمن ملک کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے ہاؤس آف کامنز میں کھڑے ہو کر مجھے خراج تحسین پیش کیا تھا۔
سفیر محترم، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں جرمنی میں پیدا ہوا تھا اور آپ پاکستان کے قابل احترام شہری ہیں۔ عمر ،تجربے اور تاریخی مشاہدے میں میرا دائرہ آپ سے کچھ وسیع ہے۔ میں آپ کو بتانا چاہوں گا کہ آپ کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ایک جدید یورپی ادیب میلان کنڈیرا نے آمرانہ رجحانات اور جمہوریت کی گرداب کے لیے ایک اصطلاح دریافت کی ہے۔ کچ (kitsch)۔ ان مقبول مگر بے معنی نعروں، غلط رویوں اور نقصان دہ نظریات کو کچ کہتے ہیں جن کا پیچھا کرتے ہوئے قومیں دلدل میں ڈوب جاتی ہیں۔ آپ کے ملک نے کچ کی بہت بڑی مقدار جمع کر لی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آپ کے لئے اپنی ذمہ داری کو تکمیل تک پہنچانے کا وقت ہے۔ اپنا قلم اٹھائیے اور اپنے اہل وطن کو آگاہ کیجیے کہ ان کے ملک میں کچ کی بہت سی صورتوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ میرے ملک جرمنی نے ترقی کا سفر تب شرع کیا جب ہم نے آمریت، نفرت، نسل پرستی، تشدد، سازش اور خود پسندی ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے ملک کے لیے بھی آگے بڑھنے کا یہی راستہ ہے۔ اسی راستے پہ چلتے ہوئے آپ کے ملک کا ہر جسٹس، جسٹس مارشل بن سکے گا۔ آپ کا ہر سپاہی فیلڈ مارشل کا احترام پائے گا۔ آپ کا ہر صحافی تھامس پین جیسی عزت حاصل کرے گا۔ آپ کے ملک کا سیاست دان چانسلر ایڈنائر جیسا مدبر بن سکے گا۔ موجودہ حالات میں یہ ذمہ داری آپ جیسے صحافیوں کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ آپ کے پاس عظیم مدبر محمد علی جناح کی مثال موجود ہے۔ آپ کے ملک میں ذہین، باصلاحیت اور دیانت دار افراد کی کوئی کمی نہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ آپ جیسے عالی قدر اپنی قوم کو درپیش کچ (Kitsch) کی نشاندہی پر کمر باندھ لیں۔

آپ کا مخلص،

فیلڈ مارشل ارون رومیل۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker