پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی فوج براہ راست ملوث ہے۔ اس میں صرف خفیہ ایجنسی ’را‘ ہی کردار ادا نہیں کرتی۔ پریس کانفرنس میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے گرفتار ہونے والے ایک انڈین ایجنٹ اور اس کے ہینڈلرز کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ بھی جاری کی ۔
اسی دوران نئی دہلی میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلح افواج کے سربراہان کے ساتھ اپنے گھر پر ایک خصوصی ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر وزیر دفاع اور قومی سکیورٹی کے مشیر بھی موجود تھے۔ بھارتی میڈیا نے اس اجلاس کے حوالے سے جو خبریں جاری کی ہیں ان کے مطابق نریندر مودی نے کہا ہے کہ ’پہلگام حملے کے ردعمل میں طریقہ کار، اہداف اور وقت کا تعین کرنے میں مسلح افواج کو مکمل آپریشنل آزادی حاصل ہے‘۔ اس سے پہلے ایک بیان میں بھارتی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ’پہلگام میں سیاحوں پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو زمین کے آخری کونے تک تلاش کریں گے ۔ انہیں ایسی سزائیں دی جائی گی جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے‘۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے بیانات درحقیقت بھارت میں پاکستان کے خلاف جنگ ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ بھارتی میڈیا اور ٹاک شوز انتہائی جوش و خروش سے پہلگام کا سارا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے کسی مؤثر جنگی کارروائی کے دعوے کررہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس ماحول میں کمی کے لیے کوئی اقدام دیکھنے میں نہیں آیا بلکہ یہی محسوس ہوتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پاکستان کے خلاف نفرت پھیلا کر اپنے انتہا پسندانہ ایجنڈے کی تکمیل چاہتی ہے۔ یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہے کہ کیا بھارت واقعی پاکستان پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے یا ایک افسوسناک سانحہ کے بعد سیاسی مفاد کے لیے ایک خاص طرح کا پروپیگنڈا کیاجارہا ہے۔
پاکستان میں اس کے برعکس جنگی جنون یا بھارتی حملے کا کوئی خوف موجود نہیں ہے لیکن اعلیٰ سرکاری حلقے بھارت کی طرف سے کسی جنگی کارروائی کو مسترد بھی نہیں کرتے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کہ اس حوالے سے آئیندہ چند روز اہم ہیں۔ البتہ پاکستانی فوج کسی بھی کارروائی کا مناسب جواب دینے کے لیے مستعد ہے۔ ایسی ہی بات نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آج سینیٹ میں پہلگام واقعہ کے بعد رونما ہونے والے حالات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان جنگ میں پہل نہیں کرے گا لیکن اگر اس پر حملہ کیا گیا تو اس کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔
یہاں مسئلہ کا یہ پہلو قابل غور ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی سمیت اعلیٰ حکومتی لیڈروں نے اگرچہ پہلگام حملہ کے ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کی بات تواتر سے کی ہے لیکن بھارت نے سرکاری طور سے پاکستان پر اس حملہ میں ملوث ہونے کا الزام نہیں لگایا ۔ گو کہ بھارت کا میڈیا بہت صراحت سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ یہ کام پاکستان نے ہی کیا ہے اور اسی کو اس معاملے میں ’سزا‘ ملنی چاہئے۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوگا کہ کیا بھارتی حکومت پاکستان پر کوئی ٹھوس الزام لگائے بغیر اور یہ واضح کیے بغیر کہ وہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے عسکری کارروائی کرے گی، اپنی فوج کو یک طرفہ طور سے پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دے سکتی ہے؟ جنگ اور دشمنی میں شاید سب کچھ ممکن ہے لیکن بھارت اگر پہلگام سانحہ میں واقعی پاکستان کو ملوث سمجھتا ہے تو اسے کم از کم اس بارے میں کھل کر بات کرنی چاہئے۔ اسی لیے سیاسی لیڈروں کے بیانات کو ان کے وسیع تر تناظر میں پرکھنے اور بین السطور دیے جانے والے پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
تاہم نریندر مودی اور ان کی کابینہ کے ارکان گرمجوشی سے قصور واروں کا دنیا کے آخری کنارے تک پیچھا کرنے کے کے لایعنی بیانات دے کر خود اپنے لیے بھی ایسی مشکل صورت حال پیدا کرسکتے ہیں، جس سے پیچھے ہٹنا شاید ان کے لیے ممکن نہ رہے۔ اس وقت تک پہلگام سانحہ کے ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کی بات کی جارہی ہے لیکن وزیر اعظم سمیت کوئی حکومتی عہدیدار ان ’ذمہ داروں‘ کا تعین نہیں کررہا ہے۔ البتہ میڈیا کے ذریعے مچائے گئے شور و غل اور پروپیگنڈے میں اس کا سارا الزام پاکستان پر عائد کیاجارہا ہے۔ کبھی حملہ آوروں کی موبائل کالز کو لاہور اور دیگر پاکستانی علاقوں میں ٹریس کرنے کی خبر دی جاتی ہے اور کبھی حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے والے نامعلوم گروہ ’ریزسٹنس فرنٹ‘ کا تعلق لشکر طیبہ سے ملا کر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ حملہ پاکستان سے کرایا گیا تھا۔ جبکہ دوسری طرف خود بھارتی حکام بھی ابھی اس واقعہ کی تحقیقات مکمل کرکے اس کی کوئی ابتدائی رپورٹ بھی سامنے نہیں لائے۔ بھارتی حکام اشتعال انگیز ماحول پیدا کررہے ہیں اور میڈیا انہیں پاکستان کے خلاف اعلان جنگ سے منسلک کرکے جنگ کے اعلانات کررہا ہے۔ ایسی صورت مودی حکومت کے کے پاؤں کی زنجیر بھی بن سکتی ہے۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی کوئی ایسی غلطی کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے برصغیر میں ایسی جنگ چھڑ جائے جس پر خود ان کا اپنا کنٹرول بھی نہ رہے۔ بھارتی حکومت اور لیڈروں پر واضح ہونا چاہئے کہ جنگ شروع کرنے کے بعد اسے سمیٹنا خود اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ بھارت کی کسی جارحیت کے جواب میں پاکستان اس وقت تک اسے ختم نہیں ہونے دے گا جب تک وہ بھی جواباً بھارتی فوج و تنصیبات کو تکلیف دہ نقصان نہ پہنچا لے۔
نریندر مودی گھاک اور تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ تاہم انہیں یہ احساس بھی ہونا چاہئے کہ ہمسایہ ملک کے خلاف جنگ کا ماحول پیدا کرنے کے بعد ان پر کوئی بڑی کارروائی کرنے کا دباؤ بڑھے گا۔ جیسا کہ 2019 میں بالاکوٹ پر حملہ کرکے ایک خود کش حملہ میں 40 انڈین فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا دعویٰ کیا گیا لیکن اگلے ہی روز پاکستانی فضائیہ کے ساتھ ایک جھڑپ میں دو بھارتی فائٹر تباہ ہوگئے۔ ایک تباہ شدہ طیارہ پاکستانی علاقے میں گرا اور ابھے نندن کی گرفتاری کی صورت میں بھارتی ناکامی و ہزیمت کا عالمی اشتہار بن کر رہ گیا۔ اب یہ کہا جارہاہے کہ مودی سے توقع ہے کہ اس بار پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے انہیں کچھ اس سے بھی بڑا کرنا پڑے گا۔ اشتعال انگیز بیانات اور میڈیا مہم جوئی کے بعد اگر نریندر مودی کچھ نہیں کرتے تو ان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچے گا اور اگر وہ کوئی قدم اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں پاکستانی جواب سے پریشان ہونا چاہئے۔ اس لیے بہتر حکمت عملی تو یہی ہوگی کہ مودی سرکار اس معاملہ کو براہ راست تصادم میں تبدیل کرنے سے پرہیز کرے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پاکستانی فوج تعداد، اسلحہ کی مقدار ،ٹیکنالوجی اور دیگر وسائل میں بھارتی فوج سے بہت کم ہے۔ پاکستان بظاہر روائتی جنگ میں بھارت کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ لیکن پاکستان کی یہی کمزوری بھارتی حکومت کے لیے پریشانی کا سبب ہونی چاہئے۔ اس میں ایک خطرہ تو یہی ہے کہ کسی فضائی مقابلے میں پاکستانی فائٹرز بھارت کو شدید نقصان پہنچا کر اس کی ’بڑائی‘ کا بھانڈا پھوڑ دیں۔ تاہم پریشانی اور خطرے کی اصل وجہ پاکستان کے کا ایٹمی قوت ہونا ہے۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ کسی تنازعہ کی صورت میں ’کولڈ سٹارٹ ‘ ڈاکٹرائن تیار کی ہے جس کے تحت بھارت کی تمام افواج ایک مشترکہ اور اچانک حملے میں پاکستان کے وسیع علاقے پر قبضہ کریں گی۔ ڈاکٹرائن کی حد تک مانا جاتا ہے کہ ایسی صورت میں پاکستان کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا موقع نہیں ملے گا اور بھارت ایک ہی ہلے میں پاکستانی فوج کو ناکارہ کردے گا۔
البتہ ’کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن‘ کا جواب دینے کے لیے پاکستان نے ایسے شارٹ رینج موبائل میزائل تیار کیے ہیں جو دشمن پر’محدود تباہی‘ پھیلانے والے جوہری ہتھیار فائر کرسکتے ہیں۔ یہ علیحدہ بحث ہے کہ کسی بھی قسم کا جوہری ہتھیار پورے خطے میں تباہی کا سبب بن سکتا ہے ۔ تاہم پاکستان یہ واضح کرتا رہا ہے کہ اگر کسی حملہ میں اس کے وجود کو خطرہ لاحق ہؤا تو وہ ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے سے اجتناب نہیں کرے گا۔ پاک فوج کے پاس آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے والے میزائل اور جوہری وار ہیڈ ہیں ۔ ایسے میں کسی بھی فرنٹ پر اندازے کی کسی غلطی کا احتمال رہے گا۔ یہ صورت حال تقاضہ کرتی ہے کہ بھارت اور پاکستان ذمہ دار ریاستوں کا رویہ اختیار کریں اور خطے میں وسیع تباہی اور شدید جانی و مالی نقصان کا خطرہ مول نہ لیا جائے۔
بھارت اپنے حجم اور معاشی صلاحیت کی وجہ سے ضرور عالمی سطح پر زیادہ بڑی سفارتی طاقت ہے لیکن اگر وہ واقعی پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے جس کاالزام آئی ایس پی آر کی طرف سے عائد کیا گیا ہے تو عالمی دارالحکومتوں اور اداروں میں اس کے مؤقف کو بھی سنا جائے گا اور بھارت کو اپنی بے اعتدالیوں کا جواب دینا پڑے گا۔ دونوں ہمسایہ ملک اس وقت ماضی میں ہونے والی جنگوں ہی کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں اور دشمنی کا رشتہ نبھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ سوچنا چاہئے کہ اگر ایک نئی جنگ ہوتی ہے تو اس کا ملبہ اٹھانے میں برصغیر کی کتنی نسلیں کام آئیں گی۔
جنگ سے گریز اور مفاہمت کی طرف پیش رفت موجودہ صورت حال میں واحد ذمہ دارانہ آپشن ہے۔ نئی دہلی اور اسلام آباد کو مل بیٹھ کر خطے سے دہشت گردی اور انتہا پسندی ختم کرنے کے لیے کام کرنا چاہئے۔ پہلگام واقعہ کی کسی عالمی ادارے کے ذریعے تحقیقات اور اس کا دائرہ دیگر واقعات پر پھیلاکر کسی غیر متوقع اور بڑے تصادم سے بچا جاسکتا ہے۔ بھارت کو بھی سمجھنا چاہئے کہ اس مشکل سے نکلنے کا یہی واحد باعزت اور پرامن راستہ ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

