کالملکھاریوسعت اللہ خان

تہتر برس سے امید کی زمین میں ڈرلنگ کرنے والی قوم۔۔وسعت اللہ خان

والد مرحوم کہتے تھے ’بیٹا کوئی اچانک آکر تم سے کہے کہ وسعت میاں کتا تمہارا کان لے گیا ہے تو کتے کے پیچھے بھاگنے سے پہلے اپنے کان ہاتھ لگا کے چیک ضرور کر لو‘۔
کل بروز ہفتہ اٹھارہ مئی وزیرِ اعظم عمران خان نے پشاور میں شوکت خانم ہسپتال کے لیے فنڈ جمع کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’آج آپ نے دو نفل ضرور پڑھنے ہیں۔ کیونکہ کراچی کے قریب سمندر میں گیس کا کنواں کھودا جا رہا ہے۔ ایک ہفتے میں پتہ چل جائے گا۔ ہو سکتا ہے اتنا بڑا زخیرہ مل جائے کہ اگلے پچاس سال تک گیس باہر سے منگوانے کی ضرورت نہ پڑے‘۔
جس وقت وزیرِ اعظم پشاور میں حاضرین سے شکرانے کے نفل منوا رہے تھے، اسلام آباد میں انہی کے خصوصی معاون برائے پیٹرولیم ندیم بابر بتا رہے تھے کہ کراچی سے دو سو اسی کلو میٹر جنوب مغرب میں سمندر کی تہہ میں تیل کی تلاش کے لیے جو کھدائی ہو رہی تھی وہ ساڑھے پانچ ہزار میٹر ڈرلنگ کے بعد بند کر دی گئی ہے کیونکہ وہاں سے تیل یا گیس ملنے کی اب کوئی امید نہیں‘۔
لگتا ہے یہ مایوس کن خبر یا تو ندیم بابر اپنے وزیرِ اعظم کو بروقت پہنچانے میں کامیاب نہ ہو سکے یا صحافیوں کو یہ خبر دینے سے پہلے وزیرِ اعظم کو ضرور بتایا گیا ہو مگر وزیرِ اعظم نے کہا ہو کہ نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا، تم سب جھوٹے ہو۔
جنوری سے بحیرہ عرب کے انڈس بیسن میں تیل و گیس کی تلاش کی کھدائی کے لیے ’کیکٹرا ون‘ نامی ڈرلنگ سائٹ پر ایکسون، موبل، ای این آئی کنسورشیم کام کر رہا تھا۔ پچھلے چار ماہ کے دوران اس کنسورشیم کی جانب سے ایک بھی ایسا دعویٰ سامنے نہیں آیا کہ کھدائی سو فیصد کامیاب ہو گی۔ کیونکہ تیل اور گیس کی ڈرلنگ دنیا بھر میں بیس فیصد امکانات کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور بحیرہ عرب میں ڈرلنگ پندرہ فیصد تک کے امکان کی بنیاد پر ہو رہی تھی۔
البتہ وزیرِ اعظم اور ان کی ٹیم کو مکمل یقین تھا کہ بس چند ہفتے کی بات ہے سمندر سے تیل کی دھار یا گیس کے فوارے نکلنے ہی والے ہیں۔ یہ وزیراعظم ہی تھے جنہوں نے اکیس مارچ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پہلی بار خوش خبری دی کہ چند ہفتے میں جیک پاٹ نکلنے والا ہے اور ملک کے معاشی دلدر دور ہونے والے ہیں۔ چار روز بعد (پچیس مارچ) اس وقت کے وزیرِ پٹرولیم غلام سرور اعوان نے کہا کہ اگلے ماہ خوشخبری ملنے والی ہے۔
اپریل کے پہلے ہفتے میں آبی وسائل کے وفاقی وزیر فیصل واڈا نے قومی ٹی وی چینلز پر سینہ ٹھونک کر کہا کہ ’میں وثوق سے کہہ رہا ہوں دس دن سے لے کر پانچ ہفتے کے دوران بہت بڑی خوشخبری ملنے والی ہے۔ اس کے بعد اتنی نوکریاں ہوں گی کہ بندے نہیں ملیں گے۔ ٹھیلے والے اور پان والے خود آ کر کہیں گے بھائی ہم سے ٹیکس لے لو۔ اگر میں غلط ثابت ہوا تو پانچ ہفتے بعد میری تکہ بوٹی کر دیجیے گا۔‘
کاش یہ خوشخبری سابق وزیرِ خزانہ اسد عمر اور موجودہ مشیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ تک بھی پہنچا دی جاتی جو مسلسل کہہ رہے ہیں کہ قوم کڑے معاشی امتحان کے لیے تیار رہے۔
مگر صرف عمران خان اور ان کے خوش نئیتوں کو دوش دینا ٹھیک نہیں۔ پہلے والوں نے بھی خوشخبریوں پر ہی وقت گزارا۔
بارہ فروری دو ہزار پندرہ کو اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے چنیوٹ کے علاقے رجوا سادات میں لوہے، تانبے اور سونے کے ذخائر کی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دو ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلا یہ اتنا بڑا ذخیرہ ہے کہ پاکستان کے معاشی جھمیلے دور ہو جائیں گے۔ چنیوٹ بین الاقوامی سرمایہ کاری کا مرکز بن جائے گا۔ ایک لاکھ نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
خادمِ اعلیٰ شہباز شریف نے فرمایا چنیوٹ کے معدنی ذخائر گیم چینجر ثابت ہوں گے۔
دونوں بھائیوں نے یہ خوش خبر نتیجہ پنجاب منرل کمپنی کے سربراہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند، میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا اور کچھ نامعلوم جرمن ماہرین کی بریفنگ سے اخذ کیا تھا۔ اس کے بعد سے آج تک کسی کو نہیں معلوم کہ چنیٹوٹی گیم چنیجر کہاں سے آیا کدھر گیا وہ۔ حتیٰ کہ سرمایہ کاری کے لیے ماری ماری گھومنے والی موجودہ حکومت کو بھی چنیٹوٹ کا راستہ نہیں پتہ۔
دسمبر انیس سو چھہتر میں وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو قومی اسمبلی میں تشریف لائے۔ ان کے ہاتھ میں ایک بوتل تھی۔ انھوں نے قائدِ حزبِ اختلاف مولانا مفتی محمود کو بوتل سنگھاتے ہوئے کہا ’مولانا صاحب مبارک ہو، ڈھوڈک ڈیرہ غازی خان میں تیل دریافت ہوگیا ہے ۔یہ اس کا سیمپل ہے‘۔
ڈھوڈک کے ثمرات دیکھنے سے پہلے ہی بھٹو صاحب کو پھانسی ہوگئی۔ نواز شریف کو جیل میں چنیوٹ کا خیال آتا تو ہوگا۔ دعا ہے عمران خان تیل اور گیس کا خزانہ نکلنے تک اقتدار میں رہیں۔
رہی قوم، تو وہ پچھلے تہتر برس سے ہی امید کی زمین میں ڈرلنگ کر رہی ہے۔ کبھی تو کسی کنوئیں سے بیدار مغز حکمرانی کا فوارہ پھوٹے گا۔ کبھی تو کسی کان سے ذہین رہنمائی کا سونا نکلے گا۔
مگر شاید ایسا نہ ہو، کیونکہ اڑنے والے قالین، الہ دین کے چراغ، سند باد جہازی، الف لیلہ اور کوہ قاف کی داستانیں ہم سب کی گھٹی میں پڑی ہیں۔ ہم سب ہاتھ پیر ہلانے، خود پر یقین کرنے اور اپنی دنیا آپ تعمیر کرنے کے بجائے صدیوں سے کسی نجات دہندہ، کسی معجزے کے منتظر ہیں۔
آپ ایک اور نیند لے لیجے
قافلہ کوچ کر گیا کب کا
(جون ایلیا)
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker