سید مجاہد علیکالملکھاری

گہرا ہوتا معاشی اور سیاسی بحران: کچھ سوال جواب مانگتے ہیں!۔۔سید مجاہد علی

سقوط ڈھاکہ کو ابھی نصف صدی بھی مکمل نہیں ہوئی۔ اب بھی وہ نسل زندہ ہے جو اس قوم پر بیت جانے والے اس سانحہ کی چشم دید ہے۔ جس نے وہ سار ے واقعات خود اپنی آنکھوں سے دیکھے اور بہت کچھ چھپائے جانے کے باوجود بعض سچائیوں کا ادراک کیا۔ پاکستان کی درسی کتابوں اور دانشوروں کے خطبوں میں خواہ کچھ ہی بتایا جائے، عام پاکستانی اب یہ بخوبی جانتا ہے کہ اگر معاملات کی ترتیب بدل دی جاتی، اگر ایک فوجی صدر اپنی طاقت کے نشے میں بدمست نہ ہوتا اور اگر اکژیت حاصل کرنے والی پارٹی کی بات مان لی جاتی تو شاید پاکستان آج بھی متحد ہوتا۔ بلکہ شاید اس کے دونوں حصوں میں اس خواب کی کوئی جھلک بھی دکھائی دے جاتی جو اس کے بانیوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی سماجی ، معاشی اور سیاسی بہتری کے لئے دیکھا تھا۔
آج کوئی بھی پاکستانی یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ شیخ مجیب کے 6 نکات پر طوفان برپا کرنے اور علاقائی خود مختاری کے مطالبے کے جواب میں اپنے ہی لوگوں پر جنگ مسلط کرنے کا طریقہ درست تھا۔ آج اوسط علم رکھنے والا معمولی عقل کا شہری بھی یہی کہے گا کہ ملک توڑنے سے بہتر تھا کہ انتخاب جیتنے والی پارٹی کو حکومت سونپ کر دیکھ لیتے۔ سخت گیر مرکز کا تقاضہ کرنے سے بہتر تھا کہ ایک ڈھیلی ڈھالی فیڈریشن کا مطالبہ تسلیم کرلیا جاتا یا ملک کے دونوں حصوں کو دشمنی کے دائمی راستے پر ڈالنے کی بجائے کنفیڈریشن کا اصول ہی وضع کرلیا جاتا۔ لیکن 71۔1970 کی ہنگامہ آرائی میں اس قسم کا لفظ بھی زبان پر لانے والا گردن زدنی اور ملک و قوم کا غدار قرار پاتا۔ اس وقت تو میڈیا کی اس طاقت کے ذریعے محبت کا زمزم بہایا جا رہا تھا جس پر اس وقت بھی ریاستی اداروں کا کنٹرول تھا اور جن پر اب بھی دسترس مکمل کرنے سعی ہو رہی ہے۔ قومی سالمیت کے حوالے سے مشکل سوالات کا راستہ روکنے کے لئے ففتھ جنریشن وار نام کی غیر واضح اور ناقابل فہم مگر پر اسرار اور دہشت ناک اصطلاح ایجاد کی گئی ہے۔
اس قوم کے ساتھ اڑتالیس برس پہلے جو سانحہ رونما ہؤا تھا ، اس کی تفصیلی وجوہات سے اس قوم کو کبھی آگاہ نہیں کیا گیا۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ اگر اس وقت قوم کے مستقبل کے حوالے سے گفتگو کرنے کی اجازت ہوتی اور استبدادی قوت کے مظالم کو سرکش باغیوں کے خلاف ریاست کے انصاف کا نام نہ دیا جاتا تو آج ہماری نسلیں یہ نہ سنتیں کہ کسی زمانے میں بنگلہ دیش بھی پاکستان کا حصہ ہؤا کرتا تھا لیکن ہمارے لیڈروں کی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے یا بھارت کی سازش کی وجہ سے وہ ہم سے علیحدہ ہوگیا۔ جن سازشوں کا بروقت پتہ نہ چلایا جاسکے اور جنہیں ناکام بنانے کے لئے پوری قوم کو یک جان ہونے کا موقع نہ دیاجائے ، ان سازشوں کو کامیاب ہی ہونا ہوتا ہے۔ لیکن ان سازشوں کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ سوال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور مشکل معاملات کا جواب کھوجنے کے عوامی طریقوں پر اعتبار نہیں کیا جاتا۔
آگے بڑھنے کے لئے ماضی میں کی جانے والی غلطیوں سے سبق سیکھنا اہم ہوتا ہے۔ اسی لئے اس قوم کو 1971 میں جو سانحہ پیش آیا تھا، اس سے سبق سیکھنے اور ان غلطیوں کو دہرانے سے گریز کرنا ہی دانشمندی اور کامیابی کا راستہ ہو سکتا ہے۔ یہ بھی اسی طریقہ کا حصہ ہے کہ پانچ دہائی پہلے جو سوال کرنے کی اجازت نہیں تھی اب ان پر غور کرنے کا حق دیا جائے۔ جو قلق ملک ٹوٹنے کے بعد محسوس کیا جاتا رہا ہے ، اس الم کا کچھ حصہ پیش از وقت محسوس کرکے اس سے نجات پانے کا کوئی مناسب راستہ تلاش کیا جائے۔
پاکستان ایک بار پھر بحران سے دوچار ہے۔ ایک بار پھر سوچنے پرپابندیاں عائد ہیں۔ قومی سلامتی کا سوال پھر سے بنیادی اہمیت کا حامل ہو چکا ہے۔ ایک بار پھر یہ غور مطلوب ہے کہ اس قوم کو منزل کی طرف بڑھنے کے لئے کس راستے پر گامزن ہونا چاہئے۔ ایک بار پھر یہ جاننا اہم ہے کہ کیا آوازیں گھونٹنے سے منزل ملے گی، حق کا مطالبہ کرنے والوں کو مسترد کرنے کا راستہ ہی منزل کی نشاندہی کرتا ہے، کیا طاقت کے زور پر عوامی خواہشات کے سامنے دیوار کھڑی کرنا ہی درست اور جائز طریقہ ہے یا تاریخ ہمیں کوئی دوسرا سبق سکھاتی ہے۔
اگر ایک لمحہ کے لئے اس بات کو سچ مان لیا جائے کہ ہمیں تاریخ سے سدھار کا ایک نادر موقع مل گیا ہے۔ تو جو سوال 1971 کی صورت حال اور معاملات کے بارے میں آج جوابوں سمیت تلاش کئے جاچکے ہیں، اس طریقہ کو 2019 کی صورت حال پر منطبق کرنے کی کوشش کرلی جائے۔ موجودہ حالت میں جو سوال ممنوعہ قرار دیے جاچکے ہیں، ان کے جواب تلاش کرنے کا بیڑا اٹھانا ہوگا کیوں کہ یہی راستہ بہتری ، قومی فلاح و بقا کا راستہ ہے۔ یہ سوال ملک میں جمہوریت یا بالواسطہ آمریت، پارلیمانی نظام یا صدارتی نظام ، مضبوط مرکز یا مضبوط صوبوں کے حوالے سے تو اٹھائے جاتے ہیں۔ لیکن ایک تو ان کا کوئی واضح جواب سامنے نہیں آتا دوسرے جن اداروں اور لیڈروں کو ان سوالوں پر بحث کرنے اور فیصلے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے وہ ان سے صرف نظر کرنے کو بہتر حکمت عملی سمجھ رہے ہیں۔ لیکن قوم و ملک کو جس صورت حال کا سامنا ہے اس میں چند مشکل سوال کرنے اور ان کا درست جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
آج اپوزیشن جماعتوں کی قیادت نے اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرادری کی دعوت پر ملاقات کی ہے اور ملک کی سیاسی صورت حال پر غور کیا ہے۔ تھوڑی دیر پہلے آنے والی خبر کے مطابق اس افطار پارٹی کے بعد منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو زرادری نے بتایا ہے کہ ملک کو موجودہ مشکل سے نکالنے کے لئے اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کریں گی اور عید کے بعد مشترکہ لائحہ عمل کے بارے میں مطلع کیا جائے گا۔ یہ اجتماع اور اس کی حکمت عملی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ حکومت سے تعاون کا آغاز کرنے کی اپیل کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہی تجویز اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) کے لیڈر شاہد خاقان عباسی میثاق معیشت کے نام سے بھی دے چکے ہیں۔ بلاول بھٹو زرادری نے بھی آج یہی کہا ہے کہ کوئی جماعت بھی تن تنہا ملک کو درپیش مسائل کا حل تلاش نہیں کرسکتی ۔ اس لئے سب کو مل جل کر اس بحران سے نکلنا ہو گا۔ تاہم ملک کے وزیر اعظم عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ صرف وہی اس قوم کی رہنمائی کرسکتے ہیں اور اس کے تمام مسائل کا حل بھی انہی کے پاس ہے۔ پشاور میں ایک اجلاس کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس قوم سے روپیہ جمع کرکے دکھائیں گے۔ اور بتائیں گے کہ کس طرح یہ قوم خود ہی اپنا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تاہم قوم کو دگرگوں معیشت کے حوالے سے جو بحران درپیش ہے اور اپوزیشن پارٹیاں جس کی بنیاد پر عوام کو احتجاج کے لئے تیار کرنا چاہتی ہیں، اس کی بنیاد بعض ایسے مسائل پر ہے جنہیں قومی ایجنڈے پر غور کے لئے لانا تو درکنا انہیں زبان پر لانا بھی ممنوع ہے ۔ تاریخی پس منظر میں معاملات کا ادراک کرتے ہوئے البتہ یہ سوال اٹھانے اور ان کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔ اس سوال جواب میں اختلاف بھی ہوگا اور مختلف آرا بھی سامنے آئیں گی لیکن سوال اٹھائے بغیر راستہ کھوجنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ سوال ہماری قومی حکمت عملی، مزاج، سماجی اطوار اور سیکورٹی و خارجہ پالیسی کے حوالے سے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان سوالوں کو ترتیب سے یوں پیش کیا جاسکتا ہے:
1۔ کیا ہمیں قومی سلامتی اور قومی غیرت نام کی اصطلاحوں کو یا تو ترک کردینا چاہئے یا ان کی تفہیم نو کا آغاز کرنا چاہئے۔ تاکہ ان کی وجہ سے ہمسایہ ملکوں سے لے کر بڑی طاقتوں اور اداروں کے ساتھ سامنے آنے والے اختلافات کا کوئی حل تلاش کیا جاسکے۔
2۔ کیا ان قومی پالیسیوں کو ترک کرنے اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کے نام سے جانے جانے والے عناصر کے ساتھ مکمل قطع تعلق سے ہمارا مستقبل محفوظ ہو گا یا قومی سلامتی کے معاملہ پر چوہے بلی کا پرانا کھیل کھیلتے ہوئے ہم پاکستان کا قومی وقار بحال کرسکتے ہیں۔
3۔ کشمیری عوام کی آزادی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کےاستبداد کے معاملہ کو ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کے نعرہ سے علیحدہ کرنا قومی مفاد میں ہے یا اس ملک کا روشن مستقبل اسی خواب کی تکمیل میں پوشیدہ ہے کہ سری نگر پر سبز ہلالی پرچم لہرایا جائے۔
4۔بھارت ، افغانستان اور ایران کے ساتھ تنازعات کا ایک حل تو سرحدوں پر دیواریں تعمیر کرکے اور فوجی استعداد جس میں جوہری صلاحیت کا حصول بھی شامل ہے، میں اضافہ کے ذریعے تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سوچنا چاہئے کہ کیا ہمسایہ ملکوں سے تنازعات حل کرنے کا کوئی دوسرا بہتر راستہ بھی ہوسکتا ہے تاکہ پاکستان کو قلعہ بند کرنے کی بجائے ہمسایہ ملکوں سے مواصلات کے بہتر ذرائع استوار ہو سکیں اور تجارت کے امکانات میں اضافہ ہوسکے۔
5۔چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی کیا نوعیت ہے۔ اس حوالے سے اس کے معاشی، سیاسی اور اسٹریجک پہلوؤں پر قومی بحث کرنا بہتر ہوگا یا ان معاملات کو خفیہ رکھ کر پاکستانی عوام اور عالمی برادری کے شبہات میں مسلسل اضافہ ہی پاکستان کے فائدے میں ہے۔
6۔پاک چین معاشی راہداری (سی پیک) کی ملک کے اندر اور باہر مخالفت سامنے آئی ہے۔ کیا اس اختلاف کو ملک دشمنی اور پاکستان کے خلاف سازش کہہ کر مسترد کردینا کافی ہو گا۔ یا اس حوالے سے اعتماد سازی اور قومی اتفاق رائے کے لئے عملی اقدامات کرنا ضروری ہوگا۔

موجودہ بحران میں یہ سوال کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہمیں صرف یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ان سوالوں کا جواب آج ہی تلاش کرلیا جائے یا اس وقت کا انتظار کیا جائے جب تاریخ اپنا فیصلہ ہمارے سامنے لا کر رکھ دے گی۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker