کالملکھاریوسعت اللہ خان

قانون کا شتر مرغ اور 4 پی والی پیپلز پارٹی ۔۔ وسعت اللہ خان

پير 11 فروری 2013

صدرِ مملکت آصف زرداری کے بیک وقت دو عہدے رکھنے کے معاملے کی سماعت کرنے والا لاہور ہائی کورٹ کا بنچ بھلے کچھ بھی سوچے یا سمجھے مگر خالص لوگوں کی اس سرزمین میں کم ازکم ایک شخص یعنی میں وفاق کے وکیل وسیم سجاد کی اس منطق سے صد فی صد اتفاق کرتا ہوں کہ صدرِ مملکت پاکستان پیپلز پارٹی نامی جس شے کے شریک چیئرمین ہیں، وہ کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک ایسی نجی ایسوسی ایشن ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ کیونکہ نا تو یہ الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے اور نا ہی اس نے انتخابات میں امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ کنفیوژن اس لیے پیدا ہوا ہے کہ درخواست گذار نے پاکستان پیپلز پارٹی (ایسوسی ایشن) کو پاکستان پیپلز پارٹی (پارلیمنٹرین) سے خلط ملط کردیا ہے۔ حالانکہ ایک میں تین پی پی پی ہیں اور دوسری میں چار پی ہیں۔ جو تین پی والی ہے وہ ایسوسی ایشن ہے اور جس کے چار پی ہیں وہ باقاعدہ ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے جس کے قائد مخدوم امین فہیم ہیں اور انہی کی جماعت کے ارکانِ رکن پارلیمان و صوبائی اسمبلی بھی ہیں اور مخدوم امین فہیم ایوانِ صدر کے رہائشی نہیں بلکہ ایک ایسے رہنما ہیں جو وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کے پارٹی قائد بھی ہیں اور بطور وفاقی وزیر ان کے ماتحت بھی۔ لہٰذا دوہرے عہدے کا مقدمہ غیر منطقی ہے۔ بھلا آصف زرداری کی پرائیویٹ ایسوسی ایشن اور مخدوم صاحب کی سیاسی جماعت کا آپس میں کیا لینا دینا۔ آئین کے تحت کوئی بھی پاکستانی شہری کسی بھی نجی ایسوسی ایشن کا رکن بن سکتا ہے اور اس کے اجلاس اپنے گھر پر بلا سکتا ہے۔ ہاں اگر صدرِ مملکت چار پی والی پی پی پی پی کو کبھی ایوانِ صدر میں مدعو کریں تو کیس بنتا ہے۔ لیکن چونکہ صدر کو اپنی آئینی حیثیت کا بخوبی احساس ہے لہٰذا وہ ہمیشہ تین پی والی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور ہمدردوں سے ہی ملاقات کرتے ہیں۔ اب اگر اتفاق سے ان میں دو چار ایسے لوگ بھی آجاتے ہیں جن کا تعلق چار پی سے ہے تو آئین یا قانون میں کہاں لکھا ہے کہ جس کا تعلق چار پی والی سیاسی جماعت سے ہو وہ تین پی والی نجی ایسوسی ایشن کے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکتا۔ اس ملک میں کئی ایسے لوگ ہیں جو بیک وقت درجنوں تنظیموں کے سرپرست، عہدیدار، ارکان یا ہمدرد ہیں۔ لہذا نان ایشوز کو ایشو نا بنایا جائے۔ قانون دان کو اگر منطق کا جادوگر کہا جاتا ہے تو اس کی کوئی نا کوئی تو وجہ ہوگی۔ جس طرح ایک اچھا شعبدہ باز آپ کے سامنے سے ایفل ٹاور غائب کرسکتا ہے اسی طرح ایک اچھا قانونی موشگاف آپ کو یقین دلا سکتا ہے کہ جسے آپ سیب سمجھ رہے ہیں دراصل یہ سیب کی شکل میں ایک کیلا ہے۔ گذشتہ جولائی میں پنجاب اسمبلی نے رانا ثنا اللہ کے پیش کردہ اینیمل سلاٹر کنٹرول ترمیمی بل مجریہ دو ہزار بارہ کی منظوری دے دی۔ اس کے تحت شتر مرغ کو پرندوں کی کیٹگری سے نکال کر بھیڑ، بکری، گائے، بھینس وغیرہ جیسے جانوروں کی کیٹگری میں شامل کردیا گیا تاکہ شتر مرغ کا گوشت فروخت کرنے کی قانونی راہ ہموار ہوسکے۔ کیونکہ اگر شتر مرغ غیر ملکی پرندے کی کیٹگری میں رہتا تو پھر وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت اس کی فارمنگ اور گوشت کا استعمال قانوناً ممکن نہیں تھا۔ اس وقت کے گورنر لطیف کھوسہ نے اس بل پر دستخط کرنے سے انکار کردیا لیکن کھوسہ صاحب کی کوشش بھی پرندے کو جانور بننے سے نا بچا سکی۔ کیونکہ اگر دو مرتبہ کوئی بل نظرِ ثانی کے لیے گورنر ہاؤس سے اسمبلی کو واپس بھیج دیا جائے تو پھر اس کی منظوری کے لیے گورنر کی رضامندی درکار نہیں رہتی اور وہ خود بخود قانون بن جاتا ہے۔ چنانچہ جب پنجاب اسمبلی کی اکثریت نے کہہ دیا کہ آج سے شتر مرغ پرندہ نہیں جانور ہے تو پھر شتر مرغ سمیت کس کی مجال کہ یہ کہہ سکے کہ میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا اب صورت یہ ہے کہ بلوچستان، خیبر پختون خوا اور سندھ میں شتر مرغ ایک پرندہ ہے۔ پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے ہی، یہ پرندے سے جانور میں تبدیل ہوجاتا ہے اور پنجاب کی حدود سے نکلتے ہی پرندہ بن جاتا ہے۔ اس تناظر میں جب صدر کے دو عہدوں سے متعلق رٹ پیٹیشن میں وکیل سرکار آنجناب وسیم سجاد کے دلائل پر میں غور کرتا ہوں تو بات فوراً سمجھ میں آجاتی ہے۔ مگر عدالتیں بھی چونکہ وکیلوں کی باپ ہوتی ہیں لہٰذا بعض اوقات وہ بھی ایسا دھوبی پٹکا دیتی ہیں کہ ساری منطق دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ متحدہ ہندوستان کی ایک عدالت میں ایک صاحب نے درخواست دی کہ وہ ایک دو منزلہ عمارت کی دوسری منزل کے مالک ہیں اور اس حیثیت میں اب اپنے گھر کو مندر میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں لہذا متعلقہ میونسپل کمیٹی کو حکم جاری کیا جائے کہ وہ مذہبی آزادی کے قانون کے تحت بلا تاخیر مندر کی تعمیر کی اجازت جاری کرے۔ عدالت نے نچلی منزل کے مالک کو بھی طلب کیا اور پوچھا کہ اسے کوئی اعتراض تو نہیں۔ نچلی منزل کے مالک نے کہا کہ وہ مسلمان ہے اور اس کی چھت پر مندر کی تعمیر سے اس کے مذہبی جذبات مجروح ہوسکتے ہیں۔ عدالت نے فریقین کو سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ مذہبی آزادی کے قانون کے تحت کسی کو عبادت گاہ بنانے سے نہیں روکا جاسکتا۔ چنانچہ دوسری منزل پر رہائشی مندر بناتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے کہ مندر اور پہلی منزل کی چھت کے درمیان کم ازکم ایک فٹ کا خلا رہے تاکہ نچلی منزل کے مکین کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نا پہنچے۔ درخواست برخواست۔

(بشکریہ:ایکسپریس نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker