Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
ہفتہ, فروری 7, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ڈاکٹر علی شاذف کا کالم : خوفزدہ بہار اور ہارا ہوا حوصلہ
  • وزیراعلیٰ پنجاب کا کل بسنت کی اپنی تمام مصروفیات منسوخ کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکش دھماکا، جاں بحق افراد کی تعداد 31 ہوگئی، 169 زخمی
  • لاہور کی بسنت نے ملتان میں پتنگوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں : فی پتنگ ریٹ 1000 روپے
  • لندن: بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی طبیعت انتہائی ناساز، اتوار سے ہسپتال میں زیرِ علاج
  • بلوچستان میں سفر کرنے کا خواب : ذرا ہٹ کے / یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
  • غنوی نے فاطمہ بھٹو کو کیوں گالی دی ؟ : سہیل وڑائچ کا کالم
  • ملتان سلطانز کی دوبارہ نیلامی : علی ترین کی کمپنی سمیت کن پانچ کمپنیوں میں مقابلہ ہو گا؟
  • یوم کشمیر پر پنڈی سازش کیس کے قیدیوں کی یاد : ڈاکٹر انوار احمد کا کالم | کوچہ و بازار سے
  • بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، خواجہ آصف
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»کالم»قلت اور کثرت کا فائن آرٹ۔۔وسعت اللہ خان
کالم

قلت اور کثرت کا فائن آرٹ۔۔وسعت اللہ خان

ایڈیٹرنومبر 19, 20190 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
wusatullah-khan
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

اور اب بنگلہ دیش سے خبر آئی ہے کہ وہاں پیاز نایاب ہو گئی ہے۔قیمت تیس ٹکہ سے بڑھتے بڑھتے ڈھائی سو ٹکہ فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے۔ وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد نے اپنے کھانے میں پیاز کا استعمال چھوڑ دیا ہے۔
ٹریڈنگ کارپوریشن آف بنگلہ دیش نے دارالحکومت میں پیاز کی قلت سے پیدا ہونے والے غصے میں کمی کے لیے سرکاری اسٹال لگا دیے ہیں جہاں پینتالیس ٹکہ فی کلو گرام کے نرخ پر پیاز خریدنے والوں کی لائن لگی ہوئی ہے۔ہنگامی طور پر میانمار ، چین ، ترکی اور مصر سے پیاز منگوائی جا رہی ہے۔یہ بحران دو ماہ قبل ستمبر میں پیدا ہوا جب بھارت نے بھاری مون سون بارشوں کے سبب پیاز کی پیداوار میں کمی کے بعد بنگلہ دیش کو پیاز کی برآمد روک دی۔
مگر بنگلہ دیشی نوکر شاہی نے آنے والے پیازی بحران کی پیش بینی اور اس سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کے بجائے پانی سر سے اونچا ہونے کا انتظار کیا اور اب ہنگامی طور پر بھاگ دوڑ کر کے پیاز منگوائی جا رہی ہے۔اس انتظار کرو اور دیکھو کی حکمتِ عملی کے نتیجے میں سوچیے امپورٹر ، ٹرانسپورٹر اور آڑھتی نے کتنا کما لیا اور کتنا مزید کمائیں گے۔
یہ کہانی سنی سنائی اور دیکھی بھالی سی لگ رہی ہے۔ بنگلہ دیشی عوام ہوں کہ بیورو کریسی، ہیں تو ہمارے ہی بھائی اور سوچتے بھی ہماری طرح ہیں اور مسائل کا تدارک بھی ہمارے انداز میں ہی کرتے ہیں۔
کردار وہی ، انداز وہی ، بحران وہی ، نمٹنے کا طریقہ وہی۔بس اجناس کے نام بدل جاتے ہیں۔کبھی چینی ، کبھی پیاز تو کبھی ٹماٹر۔متعلقہ ادارے بحران کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ انھیں ایک برس پہلے ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ گنے کی اگلی فصل کتنی اچھی یا بری ہو گی۔ پیاز اور ٹماٹر کی پیداوار کتنی ہو گی۔
لیکن بحران شروع ہونے سے پہلے ہی اگر ان بنیادی اشیائے ضرورت کی دساور سے درآمدگی کے ٹینڈر جاری کر کے بروقت انتظامات مکمل کر لیے جائیں تو پھر فائدہ تو عوام کی جیب کا ہوگا۔وزیر ، نوکر شاہ ، امپورٹر اور آڑھتی کی جیب کو اس بحران کے طفیل کیا ملے گا ؟
لہٰذا فائلیں تب تک آگے نہیں بڑھتیں جب تک بحران کے سورج کی پہلی کرن عوام کے چہرے پر نہیں پڑتی۔ حکومت اور اس کے کل پرزے اور متعلقہ ادارے ایسے اداکاری کرتے ہیں گویا انھیں کل ہی پتا چلا ہو کہ چینی، ٹماٹر یا پیاز اچانک ختم ہو گئے اور ان کی قیمت چھلانگ لگا کے چھت پر بیٹھ گئی۔
زمانہ بھلے ایوب کا ہو، بھٹو کا، ضیا کا، بے نظیر و نواز شریف کا، پرویز مشرف کا یا زرداری و عمران خان کا۔قلت اور اس سے نمٹنے کا ایک ہی اسکرپٹ ہے جو نسل در نسل حکومت در حکومت ، کلرک در کلرک، آڑھتی در آڑھتی چلا آرہا ہے اور یونہی ہاتھ در ہاتھ چلتا رہے گا۔
اس پر مزید نمک پاشی کبھی اپنی غلطی تسلیم نہ کرنے والے حکمران کرتے ہیں۔مثلاً ضیا دور میں جب چینی اچانک اڑن چھو ہو گئی اور وزیرِ جہاز رانی مصطفی گوگل کی جہاز راں کمپنی کو ہنگامی طور پر چینی درآمد کرنے کا حکم (ٹھیکہ ) ملا تو اسی زمانے میں جنرل صاحب کو بھی بذلہ سنجی سوجھی اور فرمایا کہ ہم صدیوں سے گڑ استعمال کرتے آ رہے ہیں۔لوگ چینی کے بجائے گڑ استعمال کریں ویسے بھی گڑ چینی کے مقابلے میں سستا پڑتا ہے۔
اس وقت کسی مائی کے لال میں جرات نہیں تھی کہ اعلیٰ حضرت کے کان میں کہہ سکے کہ حضور گڑ بھی گنے سے ہی بنتا ہے۔اگر گنے کی فصل اچھی ہوئی ہوتی تو نہ چینی کا بحران پیدا ہوتا اور نہ ہی آپ کو اتنی ” عقل مندانہ“تجویز دینے کی ضرورت پیش آتی۔
جب دو ہزار تین میں ٹماٹر کی قلت ہوئی تو پرویز مشرف صاحب نے فرمایا کہ ٹماٹر نہیں تو دہی استعمال کر لیں ، کیا مہنگے ٹماٹر خریدنا بہت ہی ضروری ہے۔
کون کہتا ہے کہ عوام کو روٹی نہیں مل رہی تو کیک کھا لیں کہنے والی فرانسیسی ملکہ میری انتواں انقلابِ فرانس کی بھینٹ چڑھ گئی۔اس کی روح آج بھی بھٹک رہی ہے اور جو بھی حکمرانی کی کرسی پر بیٹھتا ہے اس میں حلول کر جاتی ہے۔
سب فیصلہ ساز جانتے ہیں کہ پاکستان میں ٹماٹر کی سالانہ کھپت دس لاکھ میٹرک ٹن ہے مگر پیداوار لگ بھگ چھ لاکھ میٹرک ٹن ہے۔گویا چار لاکھ میٹرک ٹن کے خسارے سے تو نمٹنا ہی ہے بھلے حکومت اچھے خان کی ہو یا بینڈے خان کی۔اسی طرح کی بے یقینی پیاز کی پیداوار کے معاملے میں بھی پائی جاتی ہے۔
میں کوئی کاشتکار نہیں لیکن کیا یہ یا اس سے ملتی جلتی حکمتِ عملی ممکن ہے کہ جس طرح ہر سال حکومت گندم اور گنے کی سپورٹ پرائس کا اعلان کرتی ہے اسی طرح پیاز اور ٹماٹر کے لیے بھی سپورٹ پرائس کا کوئی انتظام وضع ہو سکے۔ پیاز اور ٹماٹر کے کاشت کاروں کو بھی سہولت ملے کہ منڈی کے اتار چڑھاﺅ سے قطع نظر سرکار ایک طے شدہ نرخ پر گندم اور چینی کی طرح پیاز اور ٹماٹر بھی خرید کے متعلقہ اداروں کے توسط سے منڈی میں پہنچائے گی تاکہ آڑھتی اور ذخیرہ اندوز کے ہوش ٹھکانے رہیں۔
ورنہ تو وہی ہوتا رہے گا جو گزشتہ برس ہوا۔ ٹماٹر کی بمپر فصل ہوئی مگر نرخ اتنے گر گئے کہ کسان ان سے لٹک گیا۔ حتیٰ کہ آڑھتی کسان سے دو روپے کلو پر اٹھانے میں بھی سودے بازی کر رہا تھا اور مارکیٹ میں ٹماٹر پچاس اور ساٹھ روپے کلو کے درمیان بک رہا تھا۔چنانچہ اگلے برس کسان کیوں ٹماٹر بوتا ؟ یہ وہ گردشی سائیکل ہے جس سے کوئی بنیادی یا نقد آور فصل محفوظ نہیں۔حالانکہ ذرا سی پیشگی منصوبہ بندی کر کے اس منحوس چکر سے بچا جا سکتا ہے۔
ٹماٹر کا تازہ بحران ڈیڑھ ماہ قبل شروع ہوا۔جب قیمت اسی روپے فی کلو گرام سے بڑھ کے ایک سو بیس تک پہنچی اور پھر زقند لگا کر ساڑھے تین سو روپے کے پائیدان پر بیٹھ گئی۔تب کہیں جا کے گزشتہ ہفتے فیصلہ ساز جاگے اور انھوں نے ہبڑ تبڑ کی اداکاری کرتے ہوئے اگلے ایک ماہ کے لیے ایران سے ٹماٹر درآمد کرنے کی اجازت دے دی (بھلے وقتوں میں واہگہ کے راستے بھارتی ٹماٹر اور پیاز منگوا کے بحران ٹال لیا جاتا تھا۔مگر وقت ایک سا نہیں رہتا )۔
نیب کو کبھی فرصت ملے تو اس جانب بھی دھیان دے کہ قلت اور کثرت کے فائن آرٹ سے جو اربوں روپے عوام کی جیب سے خواص کی جیب میں منتقل ہوتے ہیں اس کا کیا کرنا ہے ؟
(بشکریہ:روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

بنگلہ دیش پیاز ٹماٹر
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Article”خدمت کو عزت دو“ والا کامیاب ہوتا بیانیہ ۔۔نصرت جاوید
Next Article صبح کا آغاز جیوتی پرمار کے ساتھ۔۔نقطہ نظر/ایازامیر
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

دسمبر 30, 2025

تاریخ سے سبق سیکھنے کا مغالطہ اور بنگلہ بندھو : نصرت جاوید کا کالم

دسمبر 9, 2025

1971 کے بعد پہلی بار ڈھاکہ یونیورسٹی میں جماعت اسلامی کی جیت : بنگالیوں کے قتل عام کے بھی الزامات

ستمبر 11, 2025

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ڈاکٹر علی شاذف کا کالم : خوفزدہ بہار اور ہارا ہوا حوصلہ فروری 7, 2026
  • وزیراعلیٰ پنجاب کا کل بسنت کی اپنی تمام مصروفیات منسوخ کرنے کا اعلان فروری 6, 2026
  • اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکش دھماکا، جاں بحق افراد کی تعداد 31 ہوگئی، 169 زخمی فروری 6, 2026
  • لاہور کی بسنت نے ملتان میں پتنگوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں : فی پتنگ ریٹ 1000 روپے فروری 6, 2026
  • لندن: بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی طبیعت انتہائی ناساز، اتوار سے ہسپتال میں زیرِ علاج فروری 5, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.