کالملکھارینصرت جاوید

”خدمت کو عزت دو“ والا کامیاب ہوتا بیانیہ ۔۔نصرت جاوید

ذاتی حوالوں سے میرے لئے جنرل ضیاءکا دور بہت تکلیف دہ رہا۔طویل بے روزگاری۔پری سنسر شپ کی اذیت۔جوانی کے خمار میں لیکن ڈھٹائی برقرار رکھی۔ 1981میں ایم آر ڈی کی تحریک چلی۔اس کی وجہ سے ریاستی جبر میں ذرا نرمی آئی۔اندراگاندھی کے قتل کے بعد ہوئے بھارتی انتخابات کی کوریج نے صحافتی کیرئیر کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔بعدازاں ہمارے ہاں بھی 1985ءکے غیر جماعتی انتخابات ہوگئے۔جونیجو حکومت نے آزادی اظہار کے امکانات اجاگر کردئیے۔ کئی برس اس سے لطف اندوز ہونے میں صرف ہوگئے۔راحت کا فقدان مگر طویل عرصے کے بعد نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں محسوس ہوا۔خاص طورپر 1993کے ابتدائی ایام میں جب اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور نواز شریف کے مابین تخت یا تختہ والی جنگ شروع ہوگئی۔بطور صحافی اس کے بعد زندگی کئی برسوں تک اذیت دہ محسوس نہیں ہوئی۔اگست 2018میں لیکن عمران حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ”اچھے دن“ گزر گئے۔عمر کے جس حصے میں پہنچ گیا ہوں وہاں بے روزگاری سے نبردآزما ہونا بہت مشکل ہوتا ہے۔کسی اور شعبے سے رزق کمانے کے امکانات معدوم ہوجاتے ہیں۔کامل بے بسی سے دن گزارے جارہے ہیں۔بے بسی کے اس عالم میں بھی لیکن میرے لئے وہ دعویٰ ہضم کرنا بہت مشکل ہورہا ہے جو عمران حکومت کے خاتمے کا منظر بنارہا ہے۔”صبح گیا یا شام گیا“ والی کہانیاں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ عمران خان صاحب فقط چار ووٹوں کی اکثریت سے وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔تحریک انصاف کو اپنے تئیں قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں۔چودھریوں کی مسلم لیگ،”پاکستان“ کے لاحقے والی ایم کیو ایم اور اختر مینگل کی بی این پی اور سندھ کے گرینڈ ڈیموکریٹک اتحاد کی حمایت کے بغیر اس حکومت کا برقرار رہنا ناممکن ہے۔ان میں سے دو جماعتیں بھی دائیں بائیں ہوجائیں تو عمران خان صاحب کو وزارتِ عظمیٰ سے فارغ ہونا پڑے گا۔ چودھری برادران کے حالیہ رویے سے یہ تاثر ابھررہا ہے کہ ”دائیں بائیں“ دیکھا جارہا ہے۔ میرے دل ودماغ مگر یہ تسلیم کرنے سے قاصر ہیںکہ ”دل کا جانا ٹھہرگیا“ ہے۔ اس مصرعے کو لکھتے ہوئے احتیاطاََ یہ عرض کرنا لازمی ہے کہ میر تقی میر نے ”جی کاجانا “ نہیں کہا تھا۔ ”دل“ کا ذکر کیا تھا۔ ”جی کا جانا“ غلط العام ہے۔اس برس کا جون شروع ہوتے ہی اسلام آباد کے کئی ”باخبر“ مشہور ہوئے لوگوں نے مجھے بہت اعتماد سے یہ بتانا شروع کردیا تھا کہ نومبر شروع ہوتے ہی عمران حکومت بے ثباتی کے دھچکے برداشت کرنے کو مجبور ہوجائے گی۔لوگ جب مہینوں کا نام لے کر سیاسی منظر نامے کی بابت پیش گوئیاں کریں تو میرا ضرورت سے زیادہ منطقی ذہن پھکڑپن کو اکسانا شروع ہوجاتا ہے۔میں ”علم نجوم“ کا مذاق اڑاتا ہوں۔نومبر نے البتہ وہی مناظر دکھانا شروع کردئیے ہیں جن کی پیش گوئی ہورہی تھی۔”نومبر ہی کیوں؟“ والے سوال کا اگرچہ کسی ایک شخص نے بھی آج تک معقول جواب نہیں دیا۔ معنی خیزمسکراہٹ سے میرے اس سوال کو نظرانداز کرتے رہے ہیں۔
گزرے جمعہ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی حکومتی وزراءنے ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے حیرت میں مبتلا کردیا کہ وہ تمام صدارتی آرڈیننس جنہیں بہت طمطراق سے 7نومبر کی شام قومی اسمبلی سے ”قوانین“ بنوادیا گیا تھاواپس لے لئے گئے ہیں۔ یہ آرڈیننس اب پارلیمانی کمیٹیوں میں لازمی تصور ہوتے غوروخوض کے بعد قومی اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش ہوں گے۔ اپوزیشن نے اس ”خیرسگالی“ کے جواب میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی۔قاسم سوری کو بچانا تحریک انصاف کے لئے یقینا بہت مشکل تھا۔ ان کے خلاف پیش ہوئی تحریکِ عدم اعتماد خفیہ رائے شماری کے مرحلے سے گزرتی تو تحریک انصاف ”اکثریت“ سے محروم نظر آتی۔ وزیر اعظم عمران خان اس کی وجہ سے یقینا سیاسی اعتبار سے بہت کمزور نظر آتے۔عمران حکومت کے کائیاں وزراءنے بہت سمجھ داری سے ایک ناخوش گار صورت حال کو ٹال دیا۔وزیر اعظم کے خلاف مگر تحریک عدم اعتماد پیش ہو تو اس پر رائے شماری ”خفیہ“ نہیں ہوتی۔ہاﺅس میں ”ڈویژن“ ہوتی ہے۔اس تحریک کے حامی اور مخالف اراکین اسمبلی کو مختلف دروازوں سے ہماری نگاہوں کے سامنے گزرکرلابی میں رکھے رجسٹر پر دستخط کرنا ہوتے ہیں۔آئین کی 18ویں ترمیم کی وجہ سے تحریک انصاف کے ناراض ترین اراکین اسمبلی بھی تحریک عدم اعتماد کی حمایت میں کھڑے ہوکر قومی اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہونے کا رسک مول نہیں لے سکتے۔دیگر جماعتوں کو بھی ممکنہ تحریک عدم اعتماد کی حمایت سے قبل یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ عمران خان صاحب کی جگہ کسے وزیر اعظم کے منصب پر فائز کرنا چاہ رہے ہیں۔جون سے میں ”شاہ محمود قریشی یا محمد میاں سومرو“ کے نام اس ضمن میں سنتا چلا آرہا ہوں۔ ان دو میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے سے قبل مگر عمران خان صاحب کو یقین دلانا ہوگا کہ وہ اکثریت سے محروم ہوچکے ہیں۔بہتر یہی ہے کہ ازخود استعفیٰ دیں اور قومی اسمبلی کو نیا وزیر اعظم منتخب کرنے کا موقعہ فراہم کریں۔گزشتہ ہفتے پارلیمان کی راہداریوں میں کئی گھنٹے گزارنے کے بعد میں بیس سے زائد اراکین قومی اسمبلی سے طویل گفتگو کے ذریعے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ فی الحال حکومتی اتحاد میں موجود کسی ایک جماعت کے رہ نما بھی عمران خان صاحب کو یہ پیغام دینے کے لئے آمادہ نہیں ہیں۔میڈیا سے گفتگو کے ذریعے محض Posturingہورہی ہے۔طے شدہ پروگرام کے مطابق نواز شریف صاحب منگل کے دن علاج کی خاطر بیرون ملک روانہ ہوگئے تو سیاسی منظر نامہ کئی ہفتوں تک پرسکون ہوجائیگا۔ نواز شریف صاحب کی روانگی کے بارے میں تحریک انصا ف کے سوشل میڈیا پر چھپائی ”سپاہ ٹرول“ کئی دنوں تک تلملاتے رہیں گے۔ نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی جماعت کو بھی لیکن سمجھ نہیں آئے گی کہ وہ لوگوں کے سامنے اب کیا ”بیانیہ“ پیش کرے۔نظر بظاہر نواز شریف صاحب کی روانگی سے ”ووٹ کو عزت دو“ کے مقابلے میں شہباز شریف کی اپنائی ”خدمت کو عزت دو“ والی لائن کامیاب رہی۔ ”نیویں نیویں“ رہ کر ”جان ہے تو جہان ہے“ والا رویہ معتبرومعقول نظر آنا شروع ہوگیا ہے۔شہباز صاحب کئی دنوں تک اپنے بڑے بھائی کی صحت یابی کو یقینی بنانے کے لئے اپنی جماعت کی متحرک قیادت کے لئے ملک میں موجود نہیں ہوں گے۔نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی پاکستان مسلم لیگ ”انتظار کرو اور دیکھو“ والی کیفیت میں مبتلا ہوجائے گی۔تحریک انصا ف کے ”سپاہ ٹرول“ اگر ٹھنڈے دل سے سوچیں تو انتظار کرو اور دیکھو والی یہ کیفیت عمران حکومت کے لئے استحکام کے امکانات اجاگر کرے گی۔عدم استحکام فقط اس صورت نمودار ہوگا اگر عمران خان صاحب اپنی جماعت کے ”اونترے منڈوں“ کی جانب سے مچائی دہائی سے مشتعل ہوکر خود کو ”سچ مچ کا وزیر اعظم“ ثابت کرنے کو ڈٹ جائیں۔مجھے گماں ہے کہ عمران خان صاحب پنجابی محاورے والے بھولے تو ہیں مگر اتنے بھی نہیں۔وہ ابھی نواز شریف کی اپریل 1993والی ”میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا“ والی تقریر فرمانے کو آمادہ نظر نہیں آرہے۔ کافی بے چینی یقینا نظر آئی ہے۔ہفتے اور اتوار کے دو دن بنی گالہ میں سرکاری مصروفیات کو تج کر لیکن عمران خان صاحب کو مناسب سکون مہیا ہوچکا ہوگا۔ چودھری پرویز الٰہی بھی اب حکومتی صفوں میں اختلافات کے تاثر کی نفی کرنا شروع ہوگئے ہیں۔معاملہ رات گئی بات گئی کی جانب بڑھتا ہوا نظر آرہا۔
(بشکریہ:روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker