تجزیےلکھاریوسعت اللہ خان

ہندو بھی ہو جاؤ تو کیسا اچھا رہے۔۔وسعت اللہ خان کا تجزیہ

پاکستان اور بھارت کے میرے وہ تمام ہندو اور مسلمان دوست جنہیں اپنی ناک سے آگے کچھ ٹپائی نہیں دیتا۔ جن پر پہلے اپنے ملک اور پھر پوری دنیا کو اپنے جیسا کرنے کا خبط سوار ہے۔ ان کے لیے بری خبر ہے۔
اور بری خبر یہ ہے کہ پچھلے سات ہزار برس میں کوئی بھی سورما برِصغیر کو دین و دھرم کی تلوار سے پوری طرح فتح نہیں کر سکا اور نہ ہی اگلے سات ہزار برس تک ایسا لگ رہا ہے۔
نعرے لگانے، جوش دلانے، خنجر لہرانے اور لاشیں گرانے اور پھر ان لاشوں پر اپنی اپنی نظریاتی سیاست چمکانے میں کوئی حرج نہیں مگر جنہوں نے بھی ارتقائی پہیہ اپنی مرضی سے چلانے اور وقت کو اپنی ہتھیلیوں سے روکنے کی کوشش کی ان کی سمادھیاں اور قبریں پشاور سے کنیا کماری اور کَچھ سے آسام تک بکھری پڑی ہیں۔
پاکستان میں اپنے اپنے حساب سے دوسرے کا قبلہ درست کرنے کا کام پچھلے تہتر برس سے ہو رہا ہے، مگر پاکستانی ہندوؤں اور کرسچنز کو فلاح کی راہ دکھاتے دکھاتے اور باقیوں کو اپنی طرز اور سوچ کا مسلمان کرنے کی کوشش کرتے کرتے خود مسلمان سماج ایک دوسرے کو نیم انسان بنانے کا کارخانہ بنتا جا رہا ہے۔
کارخانہ تو خیر یہ بہت پرانا ہے لیکن اب اس میں جدید مشینری نصب کردی گئی ہے۔ پہلے اس کارخانے میں صرف دلائل اور ردِ دلائل تیار ہوتے تھے اب قاتل فتوے، بارودی دھمکیاں، فولادی الٹی میٹم اور ہر طرح کی چھوٹی بڑی، زبانی عملی سفاکی تیار ہوتی ہے۔
لیکن پاکستان یہ سب افورڈ نہیں کر پایا۔ کیا بھارت کر پائے گا ؟
تو پھر کچھ لوگوں کے دل میں سب کو ہندو بنانے اور غیر ہندوؤں کو درجہ دوم کی شہریت میں دھکیلنے کی امنگ کیوں جاگ پڑی؟
بھارت تو اگلے پانچ برس میں پانچ ٹریلین کی معیشت اور اگلے بیس برس میں ترقی کے میدان میں چین کو پچھاڑنے کی سوچ رہا ہے۔ اس کا خواب تو یہ ہے کہ 2050 تک اگر دنیا کی پہلی نہیں تو دوسری یا تیسری بڑی طاقت بن کے دکھا دے۔ لیکن چوٹی تک پہنچنے کے سپنے میں رنگ بھرنے کے لیے ڈھنگ بھی تو ویسے ہی ہوں۔ ایک ساتھ دو کام کیسے ہوں گے؟ یا تو پہلے پورے بھارت کو ہندوانے کا پروجیکٹ پورا کرلو یا ایک ترقی یافتہ بھارت بنا لو۔
وہ ہندوستان جہاں دنیا کے کونے کونے سے آنے والوں کو کھلے بازوؤں جگہ دینے کی ہزاروں برس پرانی روایت چلی آ رہی تھی۔ وہ ہندوستان جہاں آنے کا راستہ تو تھا مگر جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ حتیٰ کہ انگریز کو بھی زبردستی یہاں سے نکالنا پڑا۔ وہ بھارت کہاں گیا؟
ایسا کیوں ہے کہ ایک بڑے ملک کا ذہن مسلسل چھوٹا ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کیا وہاں کے فیصلہ سازوں کو بالکل اندازہ نہیں کہ بڑا ملک جو بھی اچھی بری مثالیں قائم کرتا ہے اس کی نقل اس کے چھوٹے پڑوسی بھی کرتے ہیں۔
مجھے تو یوں لگ رہا ہے کہ الٹا بھارت نے پڑوسیوں کے نقشِ قدم پر چلنا شروع کردیا ہے۔ ان حالات میں مجھ جیسے چھٹ بھئیے لکھاری کیا کریں۔ اپنے ہاں کے تنگ نظروں کو روشن خیال بنانے کے لیے جیو اور جینے دو کا فلسفہ کیسے بتائیں؟
پاکستان میں میرے ایسے سینکڑوں سنکی اکثر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر چار فی صد پاکستانی مسلمان نہیں بھی ہیں تو ان کے ہندو یا کرسچن بنے رہنے سے چھیانوے فیصد مسلمان اکثریت کو آخر کیا اور کتنا خطرہ ہوسکتا ہے؟ اسی طرح اگر بھارت کی بیس فی صد آبادی ہندو نہیں بھی ہے تو اس سے اسی فیصد ہندوؤں کو آخر کتنا بقائی خطرہ ہوسکتا ہے۔ کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ دوسروں کا دین و دھرم سیدھا کرنے سے پہلے اگر اپنی اپنی انفرادی و اجتماعی قسمت سیدھی کر لیں؟
بھارت اگر بیرونِ ملک پہچانا جاتا ہے تو جوشیلے مہنتوں، پنڈتوں اور مولویوں سے نہیں بلکہ بالی وڈ کی فلموں سے۔ کسی اور سے نہیں تو بالی وڈ سے ہی سیکھ لیں کہ ایک دوسرے کا ایمان ٹھیک کیے بغیر کیسے اپنی مضبوط پہچان بنائی جاتی ہے۔ آج اگر نصیر الدین شاہ امیتابھ بچن کو کلمہ پڑھوانے پر جٹ جائیں اور اجے دیوگن شاہ رخ خان سے کہیں کہ سپر سٹار تو تم مہان ہو ساتھ میں ہندو بھی ہوجاؤ تو کیسا اچھا ہو۔ پھر تو ہوگیا بالی وڈ کا کلیان۔
تو کیا بھارت اور پاکستان نے اپنے سارے مسائل حل کر لیے کہ اب کرنے کو کوئی کام نہیں سوائے اس کے کہ جہاں جس کی اکثریت ہو وہ اقلیت کو اپنے جیسا بنانے پر جٹ جائے۔ تو پھر متعصب مسلمانوں اور متعصب ہندوؤں میں سوائے اس کے کیا فرق ہے کہ ان میں سے ایک کا نام اسلم ہے تو دوسرے کا موہن۔
انتہا پسند ہندو ہوں، عیسائی، یہودی کہ مسلمان۔ سب ایک دوسرے کے بھائی اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ یہ سب ایک دوسرے کو ایندھن اور حوصلہ فراہم کرتے ہیں تاکہ باقی انسانیت صرف پنجوں کے بل کھڑی رہے اور اسے یہ سوچنے کی فرصت ہی نہ ملے کہ زندگی کا اصل مقصد کیا ہے اور اصل دشمن کون ہے اور کہاں ہے؟
ہاں اس وقت ہر جانب شور و غوغا ہے۔ ہاں کوئی بھی اپنی آواز کے علاوہ کچھ اور سننے کو تیار نہیں۔ ہاں سب کے دیدے کھلے ہیں مگر کوئی بھی خود کو کلر بلائنڈ ماننے پر تیار نہیں۔ کوئی بھی اپنی پسند کے منظر کے سوا کچھ دیکھنے کو تیار نہیں۔ کوئی بھی خود کو عقلِ کل سے کم سمجھنے پر تیار نہیں۔ ہر کسی کے پاس بدترین کام کے لیے بہترین دلیلیں وافر ہیں۔
تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کے پاس شور کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت ہے وہی سب سے طاقتور اور سچا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر اسے شور مچانے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟ طاقت اور سچائی کو خود کو ثابت کرنے کے لیے کیا واقعی واویلے کی ضرورت ہوتی ہے؟
لہٰذا یہی بہترین وقت ہے اپنی بات کہنے کا اور یہ جتانے کا کہ تم ہمارے نام پر جو کچھ بھی کر رہے ہو ہم اس کا حصہ نہیں۔ اپنی بندوق کے لیے خاموش اکثریت کا کاندھا استعمال نہ کرو۔ مگر خاموش اکثریت اگر واقعی اکثریت ہے تو خاموش کیوں ہے؟
بولو کہ پہچانے جاؤ۔
(بشکریہ: اردونیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker