کالملکھاریوسعت اللہ خان

وسعت اللہ خان کا کالم : کیا ہوا جو ہم کالے ہیں

ان دنوں انڈیا ہو کہ پاکستان۔ دونوں جگہ سنگترے اور غداری کا سیزن عروج پر ہے۔ دونوں ممالک میں اگر پولیس آج کل کوئی پرچہ کاٹے اور اس میں سازش رچنے، لوگوں کو اکسانے، غداری اور ریاست دشمنی کے الزامات نہ لگیں تو شک ہونے لگتا ہے کہ یا تو ملزم صحیح معنوں میں محبِ وطن نہیں ہے یا پھر پولیس اپنے کام میں ماہر نہیں۔
بس یوں سمجھیے کہ پاکستان اور انڈیا کو 73 برس قبل برٹش انڈین پینل کوڈ کے نوآبادیاتی قانونی جہیز میں ملی ڈیڑھ سو برس پرانی شق 124 اے کی آج کل دونوں طرف لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔
یہ شق لگنے کا مطلب ہے کہ آپ کو کسی بند کمرے میں ملک کے خلاف سازش رچا نے یا ہتھیار اٹھانے یا دشمن کو راز بیچتے ہوئے پکڑے جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ بس ہاتھ کا غلط اشارہ اور کسی ایجنسی یا محکمے والے کی نظر میں آنے والا ابرو کا مشکوک اتار چڑھاؤ بھی مجھے اور آپ کو غدار ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
دیدے دائیں سے بائیں کے بجائے بائیں سے دائیں گھمانے کا مطلب بھی پولیس چاہے تو غداری نکال سکتی ہے۔ اور نہ ثابت کرنا چاہے تو سامنے سے ملک دشمنی و دہشت گردی کا ہاتھی بھی نکل جائے تو اسے چیونٹی بتا دے۔
غدار سازی اور غدار کوبی کے گیم کا بنیادی انحصار اس پر ہے کہ اس وقت اقتدار میں کون ہے اور کس نظریے اور موقف کو آگے بڑھانا چاہ رہا ہے نیز آج کل حب الوطنی ثابت کرنے کا کون سا لیٹسٹ سرکاری فیشن چل رہا ہے اور آپ اس فیشن سے کتنے ہم آہنگ و ہم قدم ہیں۔
انڈیا میں ان دنوں اگر اوپر والا مہربان تو گاندھی جی کی مورتی پر گوبر ملنے پر بھی کوئی پرچہ نہیں کٹ سکتا اور اوپر والا نہیں مہربان تو قومی ترانہ ’جن من گن‘ سڑک پر ایک ساتھ کھڑے ہو کر گانے کے پیچھے بھی ملک دشمنی کی سازش کی بو آ سکتی ہے۔
جیسا کہ پچھلے دنوں ہمارے ہاں سندھ یونیورسٹی میں طلبا نے ہاسٹل میں پانی نہ آنے کے مسئلے پر وی سی آفس کے سامنے نعرے لگائے تو ان پر غداری کی دفعات ٹھوک دی گئیں۔ اسی طرح دس بارہ روز پہلے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین کو نہ صرف غداری و بغاوت کے جرم میں جیل بھیج دیا گیا بلکہ ان کی رہائی کے لیے اسلام آباد پریس کلب کے باہر جو 40 کی بھیڑ جمع تھی اس میں سے بھی 30 پر غداری کی دفعہ لگا دی گئی۔ وہ تو بھلا ہو اسلام آباد ہائی کورٹ کا جس نے انتظامیہ سے لے کر نچلی عدلیہ تک سب سے پوچھ لیا کہ غداری کی واضح تعریف و تشریح بھی فرمائیے گا یا پھر جس کے بارے میں بھی کسی نے کہہ دیا کہ غدار ہے تو آپ نے منہ اٹھا کے پرچہ کاٹ دیا یا ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔
مگر ایسا نہیں کہ اس تناظر میں پولیس، سرکار اور ریاست کے طرزِ عمل میں رفتہ رفتہ کچھ بہتری نہیں آ رہی۔ انگریز کے بنائے ہوئے ڈیفنس آف انڈیا رولز کو تقسیم کے بعد ڈیفنس آف پاکستان رولز ( ڈی پی آر ) کا بپتسمہ دے دیا گیا۔ یہ وہی جابرانہ قوانین ہیں جن کے سہارے انگریز نے تحریکِ آزادی بار بار کچلنے کی کو شش کی۔ پاکستان میں 1965 سے 1985 تک ڈی پی آر کے تحت 20 برس ایمرجنسی لاگو رہی۔ سرکاری مخالفین کو جیل میں رکھنے کے لیے نوے دن تک تو کوئی پرچہ کاٹنے کی بھی ضرورت نہیں تھی اور پھر یہ نوے دن بھی زیریں عدالت کی مدد سے دو سے تین بار کھینچے جا سکتے تھے۔ بس یوں سمجھیے کہ جس طرح گاجر غریب آدمی کا سیب ہے اسی طرح ایمرجنسی قوانین سویلین حکومتوں کا مارشل لا ہوتے ہیں۔
اگر ڈی پی آر کو معطل کر کے عدالت کسی کو رہا بھی کر دیتی تو اسے جیل سے باہر نکلتے ہی بجلی کی تاریں کاٹنے (حسن محمود) یا بھینس چوری (چوہدری ظہور الہٰی) کے الزام میں پھر اندر ڈال دیا جاتا۔ لیکن آج چونکہ ایمرجنسی لاگو نہیں اور مارشل لا بھی آؤٹ آف فیشن ہے لہذا بھینس چوری جیسے گھٹیا الزامات کے بجائے غداری کے الزام میں پکڑا جاتا ہے۔اور یہ الزام ہر کسی پر ٹکے سیر لگ رہا ہے۔
جیسے نائن الیون کے بعد پاکستان میں اگر مسجد کے باہر سے جوتے چراتے ہوئے بھی کوئی پکڑا جاتا تو اس پر دہشت گردی پھیلانے کی شقیں لگا دی جاتی تھیں۔ پھر کسی نے سرکاری لال بھجکڑوں کے کان میں کہا کہ بھیا اگر تم چانٹا مارنے پر بھی دہشت گردی کی دفعہ لگاؤ گے تو پھر اصلی خود کش حملہ آور پر کیا لگاؤ گے؟ اس مشورے کے بعد سے بس اتنا فرق پڑا ہے کہ اب معمولی نعرے بازی پر دہشت گردی کی دفعات کی جگہ غداری کی شق نے لے لی ہے۔ اور جہاں عدالت غداری کی دفعہ لگانے کا جواز طلب کر لے وہاں انتظامیہ معذرت کرتے ہوئے غداری کی دفعات کو دہشت گردی کی دفعات سے بدل دیتی ہے۔
پس ثابت ہوا کہ ہماری انتظامیہ نہ صرف نادیدگان کے اشاروں پر چلتی ہے بلکہ عدالتوں کا دل بھی رکھ لیتی ہے۔
مزے کی بات ہے کہ خود برطانیہ میں اب سے 11 برس پہلے (2009 میں) غداری کی دفعات قانون کی کتابوں سے نکال دی گئی۔ مگر ہم انڈین اور پاکستانی چونکہ پُرکھوں کی ایک ایک روایت گلے سے لگا کے رکھنے کے عادی ہیں لہذا ہمارے لیے بہت مشکل ہے کہ اگلے ڈیڑھ سو برس بھی 1870 سے لاگو 124 اے جیسی امرت دہاراؤں سے جان چھڑا سکیں یا خود ہی کچرے کے ڈبے میں ڈال دیں۔
کیا ہوا کہ ہم کالے ہیں، خون تو اپن کا سفید ہی ہے نا۔
( بشکریہ : اردو نیوز )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker