ہوائی جہاز بنانے والی کمپنی بوئنگ نے 2016ءمیں اپنا جہاز 747میکس متعارف کروایا ،بوئنگ کی یہ فخریہ پیشکش تھی مگر بد قسمتی سے 2018اور 2019میں یکے بعد دیگرے اِس جہاز کو دو حادثات پیش آئے جس کے بعد پوری دنیا میں اِس کی پروازیں بند کر دی گئیں ۔وجہ یہ تھی کہ بوئنگ کی شرح حادثات دس لاکھ میں سے صفر اعشاریہ دو پروازیں تھی جبکہ 747میکس کے اِن دو حادثات کے بعد اِس جہاز کی یہ شرح خطرناک حد تک بڑھ کرچار حادثات فی دس لاکھ پروازیں ہو گئی۔یہ ایک انہونی بات تھی چنانچہ اِس پر تحقیق کی گئی اور پھر جہاز کے سافٹ وئیر میں ایک خرابی کا پتا چلا لیا گیا جس کے بعد بوئنگ نے اعلان کیا کہ اب یہ خرابی دور کر لی گئی ہے ۔گویا747میکس کے سافٹ وئیر اور حادثات میں باہم تعلق تھا جسے تلاش کیا گیا اور پھر ناقابل تردید شواہد کی مدد سے ثابت کر دیاگیا۔ ہم بھی آج کل وباؤں اور بے حیائی میں ربط تلاش کرتے پھررہے ہیں ، اصول کی بات تو یہ ہے کہ جو شخص یہ دعویٰ کرتاہے کہ وبائیں قوم کی اجتماعی بے حیائی کے نتیجے میں نازل ہوتی ہیں تو اِس باہمی تعلق کو ثابت کرنا بھی اسی کا کام ہے ،یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ محض ایک دعوی ٰ کرکے ہم بیٹھ جائیں اور اُس کے بعد لوگوں سے امید رکھیں کہ وہ اِس دعوے کو بلا چوں چراں محض اس لیے تسلیم کر لیں کیونکہ یہ بات فلاں عالم نے کہی ہے اور اُس سے زیادہ کوئی علم نہیں رکھتا،اِس ضمن میں جو دلیل دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ قران مجید میں جا بجا اُن قوموں کا ذکر ہے جو خدا کی نا فرمانی ، برے اعمال اور اپنی بے حیائی کی وجہ سے اللہ کے عذاب کا شکار ہوئیںلہذااِس میں بحث کی کیا گنجائش!
یہ بات درست ہے کہ قران مجید کی بہت سی آیات میں اللہ کے عذاب کا ذکر ہے جو مختلف قوموں پر نازل ہوا لیکن اگر ہم اِن تمام آیات کو غور سے پڑھیں تو معلوم ہوگا گہ جب بھی مختلف قوموں پر عذاب آیا اُس میں گیہوں کے ساتھ گھن کو نہیں پیس دیا گیا بلکہ نیکو کاروں کو بچا لیا گیا اور اللہ کے نا ماننے والوں کو سزا دی گئی ۔مثلاً:”پھر جب ہمارا حکم آ گیا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود ؑ کو اور اُن لوگوں جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے نجات دے دی اور ایک سخت عذاب سے انہیں بچا لیا۔“(سورة ھود، آیت 58)۔”آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آ گیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالح ؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچا لیا اور اُس دن کی رسوائی سے اُن کو محفوظ رکھا۔“(سورة ھود، آیت 66)۔”آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آ گیا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیب ؑ اور اس کے ساتھی مومنوں کو بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا اُن کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے۔گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھا۔(سورة ھود، آیت 94)۔یہ صر ف نمونے کی تین آیات ہیں ، سورة ھودمیں یہ مثالیں اللہ تعالی ٰ نے پوری تفصیل اور صراحت کے ساتھ کھو ل کر بیان کر دی ہیں اور ان میں رتی برابر بھی ابہام نہیں، قران کھولیے اور خود پڑھ لیجیے ۔یہ اللہ کی شان اور صفات اور اُس کے انصاف اصولوں کے ہی خلاف ہے کہ وہ اپنا عذاب نازل کرے اور اُس میں اُن لوگوں کو بھی مار ڈالے جو اُس پر ایمان رکھتے ہوںاور عمل صالح کرتے ہوں۔لہذا جس وبا ، آفت ، زلزلے ، سیلاب میں نیک و بد، ایمان والے اور غیر مسلم ، بلا تفریق مارے جائیں وہ کسی صورت اللہ کا عذاب نہیں ہو سکتی کہ یہ بات قران کے آفاقی پیغا م سے مطابقت نہیں رکھتی ۔یہاں ایک چیز کی وضاحت ضروری ہے کہ اللہ نے آخری مرتبہ اپنا عذاب مشرکین مکہ پر نازل کیا جس کی وعید اللہ کے آخری نبی محمد اللہ ﷺ نے دی ،رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی چونکہ نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکااِس لیے اب اِس دنیا میں کوئی عذاب نہیں آئے گا ، اب یہ عذاب روز قیامت برپا ہوگا کیونکہ یہی اصول قران میں بیان کیا گیا ہے اور یہی مذہب کا مقدمہ ہے ۔ اگر خدا نے ہر نا فرمانی ، بے حیائی اور فراڈ کی سزا فوراً عذاب کی شکل میں اسی دنیا میں دینی ہے تو پھر روز قیامت جزا اور سزا کا بندو بست کس واسطے ، پھر تو اسی دنیا میں حساب چکتا ہوگیا، جبکہ ہر مسلمان یہ جانتا ہے کہ گناہ گا ر اور نیکو کار کا فیصلہ آخرت میں ہو گا اِس دنیا میں نہیں ۔
قران کی واضح آیات کے بعد اب کسی مفروضے کی چنداں ضرورت رہ تو نہیں جاتی لیکن پھر بھی اگر ہم فرض کر لیں کہ بے حیائی اور عذاب کا آپس میں کوئی تعلق ہے جیسے کہ کشمیر کے 2005ءکے زلزلے کے بارے میں بھی اُس وقت کہا گیا تھاکہ وہ خدا کا عذاب تھا تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ اِس طرح کے زلزلے آئے دن دوسرے سیاروں پربھی آتے ہیں وہاں کون سے نیوز چینل چل رہے ہیں جن کے ذریعے بے حیائی پھیلائی جا رہی ہے ، مریخ میں کو ن سے کلب اور ڈسکو کھلے ہیں ، عطارد پر کون سی عورتیں کھلے گلے پہن کر پھر رہی ہیں، وہا ں کون ہم جنس پرستی کر رہا ہے؟چلیں مریخ سے واپس پاکستان آتے ہیں ، خدا جھوٹ نہ بلوائے تو سن ساٹھ اور ستّر کی دہائی میں یہاں زیادہ ”بے حیائی “ تھی اُس وقت کوئی وبا کیوں نہیں پھوٹی اور 1935میں کوئٹہ جیسے مسکین شہرمیں ایسا کیا ہو رہا تھا کہ پورا شہر زلزلے نے ملیا میٹ کر دیا اور بنگلہ دیش کے بھوکے ننگے بنگالی ایسی کیا بے حیائی کرتے تھے کہ اُن پر ہر سال سیلاب کا عذاب آ جاتاتھا؟؟؟ان تمام باتوں کو چھوڑیں ،اِس کا فیصلہ کون کرے گاکہ اب ملک میں بے حیائی ، فحاشی اور عریانی ختم ہو گئی ، کیا کوئی جنرل ضیا الحق بتائے گا؟؟ ؟ ویسے اُس زمانے میں تو بے حیائی نا م کی بھی نہیں تھی ، مہ پارہ صفدر سر پر دوپٹہ اوڑھ کر خبریں پڑھتی تھی اور ڈرامے میں خالدہ ریاست چادر اوڑھ کر سوتی تھی ،اِس کے باوجود اوجڑی کیمپ کا حادثہ ہو گیا، سینکڑوں بے گناہ افراد مارے گئے ،کیا اُس روز مہ پارہ صفدر کا دوپٹہ کھسک گیا تھا یا خالدہ ریاست پلنگ پر سوتے وقت چادر لینا بھول گئی تھی!
حضرت عمر ؓ کے دور حکومت میں شام ، عراق اور مصر کے علاقوں میں طاعون کی وبا پھیل گئی ،ایک اندازے کے مطابق اِس میں کم از کم پچیس ہزار مسلمان فوجی ہلاک ہوئے ، اِن میں صحابہ کرام بھی تھے ، طاعون کے بعد قحط بھی پھیلا، اور یہ سب اُس عمر ابن خطاب ؓ کے زمانے میں ہوا جس سے بڑا کوئی ایڈمنسٹریٹر گذار ہے او ر نہ فاتح ، آپ ؓ کی عظمت بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ، صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ حضرت عمر ؓ کا دور خلافت آئڈیل دور تھا ، اب کیا نعوذ باللہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اُس وقت بے حیائی یا فحاشی تھی جس کی وجہ سے طاعون پھیلا اور قحط پڑا؟ ہمیں خدا کا خوف کرنا چاہیے ، کیوں ہم دنیا میںاپنا مذاق اڑوانے پر تلے ہیں ، پوری دنیا میں بائیولوجی او ر وائرولوجی میں تحقیق ہو رہی ہے اور ہم یہ بحث کر رہے ہیں کہ یہ وبا ہماری بے حیائی کی وجہ سے پھیلی ۔بے حیائی کی سزا تو ہمیں روز قیامت ملے گی ،جہالت کی سزا البتہ ہم آج دنیا میں ہی بھگت رہے ہیں !
(گردوپیش کےلیے ارسال کیا گیا کالم)
فیس بک کمینٹ

