تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : فردوس عاشق اعوان ، عبرت کا نشان اور ایک پیج پر عمران

گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت اور عمران خان کی پرجوش ترجمان رہنے والی فردوس عاشق اعوان کو اچانک برطرف ہونے کے بعد یہ علم ہوگیا ہوگا کہ بدعنوانی کے جس ڈھکوسلے پر نئے پاکستان کی دعویدار حکومت استوار ہے، وہ کس قدر بودا ور کمزور ہے۔ اب وہ خود بدعنوانی اور سرکاری سہولتوں کے ناجائز استعمال کے الزام میں برطرف ہوئی ہیں تو ان کے علاوہ، بدعنوانی یا اسی قسم کے کسی دوسرے عذر کی بنیاد پر جمہوریت کے مقدمے کو کمزور کرنے والوں کو اس الزام اور اس سے وابستہ لوازمات سے آگاہ ہوجانا چاہئے۔
فردوس عاشق اعوان کی حکومت سے علیحدگی کوئی سانحہ نہیں ہے۔ خاص طور سے ایک ایسے کردار کے کسی عہدے سے محروم کئے جانے سے ، جس کا مطمح نظر محض اقتدار میں رہنا ہو اور اس مقصد کے لئے ہر اصول کو روندتے ہوئے آگے بڑھنا ہو، نہ قوم و ملک کا کوئی نقصان ہوتا ہے اور نہ ہی حکومت کی شہرت یا کارکردگی پر کوئی آنچ آتی ہے۔ پھر بھی جس طریقہ سے سابق معاون خصوصی کو کابینہ سے علیحدہ کیا گیا ہے، وہ نئے پاکستان کی نیّا پر سوار بہت سے لوگوں کے لئے مقام عبرت ہونا چاہئے۔ فردوس عاشق اعوان نے حکومت کی ترجمان ہوتے ہوئے ، سیاسی مخالفین کے لئے بدترین الفاظ استعمال کئے اور اقتدار کو اپنی جاگیر سمجھتے ہوئے کسی سیاسی مروت یا خیر سگالی کا اظہار ضروری نہیں سمجھا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت بھی ان کے لفظوں کی زد پر رہی تھی ۔ حالانکہ اسی پارٹی نے انہیں قومی سیاست میں متعارف کروایا اور اعلیٰ سرکاری عہدوں پر سرفراز کیا تھا۔ تاہم تحریک انصاف اور عمران خان نے جاتے جاتے فردوس عاشق اعوان کی جس طرح ’پذیرائی‘ کی ہے، ا سے عمران خان کی احسان فراموشی کی ہلکی سی جھلک سمجھنا چاہئے۔
یوں تو گزشتہ روز وزارت اطلاعات میں کی جانے والی تبدیلیاں وزیر اعظم کی لاچاری اور بے بسی کا افسانہ ہی بیان کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کے حامیوں اور عمران خان کے پرستاروں کا دعویٰ ہے کہ اس سے وزیر اعظم کے اختیار کے علاوہ اس بات کا ایک نیا ثبوت سامنے آیا ہے کہ عمران خان کسی قیمت پر بدعنوانی یا سرکاری اختیار سے تجاوز قبول نہیں کرتے۔ بدعنوانی پر سیاسی مقدمہ استوار کرنے میں ید طولی رکھنے والے عمران خان نے آج کابینہ کے اجلاس میں شوگر اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کو مزید تین ہفتے کی مہلت دی ہے۔ اس سے پہلے 25 اپریل کے انتظار میں ذمہ داروں کا تعین کرنے اور بدعنوانوں کو سزا دینے کا کام مؤخر کیا گیا تھا۔ اس دوران اس معاملہ سے توجہ ہٹانے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ کورونا وائرس سے پیدا شدہ بحران میں گھرے ہونے کے باوجود سیاسی افتراق پیدا کرنا، اٹھارویں ترمیم کو عذر بنا کر پیش کرنا اور لاک ڈاؤن جیسے اہم اقدام کے بارے میں شبہات پیدا کرکے پاکستانی عوام کے لئے صحت کے سنگین مسائل پیدا کئے گئے۔ تاکہ عمران خان کا سیاسی بت مضبوط اور نمایاں کیا جاسکے۔ جو شخص بیرونی امداد لینے کو لعنت قرار دیتا تھا ، اب ہر لمحہ پر اس کی طرف سے کاسہ گدائی دراز کرنے کو ہی لیڈر کی اصل شان اور دیانت کا اعلیٰ معیار بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس سیاسی ہنگامہ آرائی کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح لوگوں کو یہ باور کروایا جاسکے کہ تحریک انصاف کی حکومت غیر مؤثر نہیں ہے اور وزیر اعظم ہر دم سرگرم ہیں۔
بدقسمتی سے جس بنیاد پر ملک کا وزیر اعظم قد آور ہوسکتا ہے، اسے شروع سے کچلنے کی کوشش کی گئی۔ پارلیمنٹ کو بے توقیر کرنے اور غیر مؤثر بنانے کا ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ اپوزیشن کو لٹیروں کا گروہ قرار دیا گیا اور آزاد میڈیا کو چوروں کا ساتھی کہنے کے علاوہ اعلیٰ قومی اخلاقی اقدار کا دشمن قرار دے کر رسوا کرنے اہتمام کیا گیا۔ گمان یہ تھا کہ عمران خان دیانت دار شخص ہے اور اس کی دیانت داری کی وجہ سے عسکری ادارے ہاتھ باندھے ان کے پیچھے چلنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ تحریک انصاف کے دانشوروں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ ملکی تاریخ کے نصف دورانیہ میں براہ راست اور باقی ماندہ وقت میں بالواسطہ معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکھنے والے ادارے جنہیں عرف عام میں مقتدرہ یا اسٹبلشمنٹ کہا جاتا ہے، کسی شخصیت کے سحر میں ’تابعداری‘ پر مجبور نہیں ہوں گے بلکہ ملکی آئین کو نافذ کرکے ہی ان اداروں کو اپنی حدود میں رہنے اور منتخب نمائیندوں کا حق حکمرانی تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے خود آئین کے علاوہ ، اس کے تحت قائم ہونے والے جمہوری اداروں کا احترام کرنا ضروری تھا۔ ان اداروں میں قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیاں شامل ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران ان میں سے ہر ادارے کو غیر فعال اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔
سینیٹ میں اکثریت نے چئیرمین سینیٹ کو تبدیل کرنا چاہا تو حکومت نے سارے حربے استعمال کرکے اس کوشش کو ناکام بنایا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر آرمی چیف کی توسیع کے معاملہ کو ریگولرائز کرنے کے لئے پارلیمانی حمایت کی ضرورت پیش آئی تو اپوزیشن سے مراسم استوار کرنے کی بجائے، ایک پیج کی طاقت کو استعمال کرنا مناسب سمجھا گیا۔ جب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ’وسیع تر قومی مفاد‘ اور مسلح افواج کو سیاسی مباحث سے محفوظ رکھنے کے لئے سرکاری ترمیمی بل کی غیر مشروط حمایت کا فیصلہ کیا اور کسی چوں و چرا کے بغیر اس پر عمل بھی کیا تو وزیر اعظم کے ایک سپاہی نے لائیو ٹاک شو میں فوجی بوٹ میز پر رکھتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن نے سیاسی مفاہمت یا قومی مفاد کے لئے سرکاری بل کی حمایت نہیں کی بلکہ وہ جوتے کے خوف سے ووٹ دینے پر راضی ہوئی تھی۔ یہ حکمت عملی بناتے ہوئے تحریک انصاف کے بزرجمہروں کو ہرگز یہ اندازہ نہیں ہؤا کہ وہ ان ہتھکنڈوں سے مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کی توہین نہیں کررہے بلکہ پارلیمنٹ کو بے معنی قرار دینے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول گئے کہ وزیر اعظم کو اسی ایوان سے اعتماد کاووٹ ملا تھا اور ان کا اصل اعزاز قائد ایوان ہونا ہی ہے۔
انتخاب سے پہلے نعرہ لگایا گیا کہ بدعنوانی نے معاشرے کو تباہ کیا ہے اور سارے سیاست دان چور اچکے ہیں۔ عمران خان کو چونکہ سپریم کورٹ سے ’صادق و امین‘ ہونے کا سرٹیفکیٹ مل چکا تھا لہذا دعویٰ کیا گیا کہ جب قیادت کسی ایماندار کے ہاتھ میں ہوگی تو سارا نظام خود ہی ٹھیک ہوجائے گا۔ اب اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا کر ایک سرکاری مولوی سے اعلان کروایا جاتا ہے کہ یہ اکیلا ایماندار کیا کرے۔ اسے تو اجڑا چمن ملا تھا۔ کہاں تک اسے آباد کرے۔ سوال تو یہ ہے کہ اگر ملک کا لیڈر ایماندار ہے تو اس کے ساتھی کیوں کر لوٹ مار میں مصروف ہوسکتے ہیں۔ جہانگیر ترین ہوں، خسرو بختیار ہو ںیا فردوس عاشق اعوان، اب کیوں لگتا ہے کہ ان کے دامن پر لگنے والے داغ عمران خان کے کردار کو مزید شفاف کردیں گے؟ اب وسائل سے مالامال ملک اور باصلاحیت لوگوں کے ہوتے کیوں لگتا ہے کہ چمن اجڑچکا ہے جسے عمران خان کی ’ایمانداری‘ بھی آباد نہیں کرسکتی۔ اب کیوں یہ بیان دلوانے کی ضرورت پیش آتی ہے کہ عمران خان تن تنہا سسٹم کو تبدیل نہیں کرسکتا۔ اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہیں۔
عمران خان اگر جان سکیں اور اعتراف کرسکیں کہ ان کے ہاتھ پاؤں کسی نظام نے نہیں باندھے۔ نظام کے نام پر جن لوگوں کے خلاف آپ دشنام طرازی کرنا چاہتے ہیں ، وہ تو پہلے سے ہی غیر مؤثر ہیں۔ سب سابقہ لیڈروں کو نیب کے ذریعے بندی بنا لیا گیا ہے۔ جو بچے ہیں ، انہیں دھمکیوں کا سامنا ہے۔ اپوزیشن کو غیر مؤثر اور غیر فعال کرکے حکومت کی سیاسی کامیابی کا اعلان کیا جارہا ہے۔ پھر کون ہے جو نظام کی خرابیوں کو دور کرنے میں رکاوٹ بنا ہؤا ہے۔ کون ہے جو عمران خان کو کام نہیں کرنے دیتا ۔ اس عوامل کا اصل نام نااہلی اور غیر آئینی سیاسی انتظام ہے۔
عمران خان نے جس حکمت عملی کو ایک پیج پر ہونے کا نام دیا تھا اب وہی پالیسی ان کے پاؤں کی زنجیر ہے۔ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ حکومت کی نااہلی سے معاملات پر دسترس کمزور پڑرہی ہے۔ اسی رفتار سے ایک پیج پر موجود دوسری طاقت اختیار کو اپنے تصرف میں لانے کا اہتمام کررہی ہے۔ گزشتہ روز وزارت اطلاعات کو براہ راست عسکری نگرانی میں لانے کا اہتمام کرکے دراصل عمران خان کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ان کی حکومت نہ صرف پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کی اہل نہیں ہے بلکہ وہ ان معاملات پر رائے دینے اور پبلک ریلیشننگ کا کام بھی کرنے کے قابل نہیں ہے۔
وزارت خارجہ نہیں چلی تو آرمی چیف خود ’ چیف ڈپلومیٹ‘ بن کر ملکوں ملکوں گھومتے رہے۔ وزارت خزانہ نہیں چلی تو آئی ایم ایف سے ٹیم منگوا لی گئی، کورونا کے خلاف حکمت عملی نہیں بنی تو کنٹرول اینڈ کمانڈ سنٹر بنا کر ایک جنرل کو اس کی سربراہی سونپ دی گئی۔ اور جب معلومات کے نام پر شخصیت پرستی کا کام ہوتا رہا اور اہم قومی معاملات پر معلومات تک رسائی مشکل ہوگئی تو اطلاعات کی وزارت کو ’آؤٹ سورس‘ کردیا گیا۔ عمران خان ہوس اقتدار میں اس سطح تک نیچے آچکے ہیں کہ وہ خود وزیر اعظم رہنے کے عوض کوئی بھی قربانی دینے اور کسی بھی اختیار سے دستبردار ہونے کے لئے تیار ہیں۔ بہادری کا دعویٰ کرنے والے کی ہیکڑی نکل چکی ہے۔
پھر بھی دعویٰ ہے کی ایک پیج زندہ سلامت ہے۔ عمران خان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان کی حکومت اقتدار میں پانچ سال پورے کرے گی۔ ان باتوں کو سچ مان بھی لیا جائے تو بھی اب کسی کو شبہ نہیں ہے کہ اختیارات کہاں ہیں اور انہیں کیسے استعمال کیا جارہاہے۔ گویا بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے۔ موجودہ حکومت کے سب سے بڑے حامی اس ملک کے جمہوریت پسند لوگ ہیں ۔ عمران خان کے وقار کی ضامن پارلیمنٹ ہے۔ آزاد میڈیا اختیار کی بندر بانٹ میں منتخب حکومت کا دست و بازو بنتا ہے۔ لیکن عمران خان اس شیخ چلی کی مانند ہیں جو اسی شاخ کو کاٹنے پر مامور ہیں جس پر ان کا آشیانہ ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker