تجزیےعلی نقویلکھاری

ضمیر اختر نقوی ، طارق جمیل ، ناصر مدنی اور نا اہل لشکر کے سردار کی باتیں ۔۔ علی نقوی

وزیراعظم کی میرا تھون ٹرانسمیشن سے پتہ نہیں چندہ اور فائدہ کتنا ہوا لیکن اس سے ملک میں ایک اور طوفان برپا ہو گیا،کرونا جیسے عالمی مسئلے پر ہمارے وزیراعظم نے اب تک قوم سے چار خطاب، پانچ میڈیا ٹاکس اور دو چندہ اپیلیں کی ہیں، دو خطابات میں انہوں نے یہ بتایا کہ گھبرانا نہیں ہے یہ ایک معمولی فلو ہے، اور باقی دو میں انہوں نے یہ بتایا کہ لاک ڈاؤن کرفیو نہیں ہوتا اور کرفیو لاک ڈاؤ ن نہیں ہوتا، جبکہ میڈیا ٹاکس کو سندھ گورنمنٹ اور مراد علی شاہ کی درگت بنانے اور قوم کو گمراہ کرنے کے لیے مختص کیا گیا تھا، رہ گئیں چندہ اپیلیں تو اس میں جہاں عظیم خان کے دنیائے کرکٹ کے کارناموں پر تفصیل سے بات ہوئی وہیں ان چندہ مہمات کا سب سے رقت آمیز، پر سوز، دل گداز، پرُ کیف اور روحانیت سے بھرپور لمحہ وہ رہا کہ جب مولانا طارق جمیل نے دونوں چندہ مہمات میں آدھے آدھے گھنٹے کی دعا کرائی ۔
خلاصہ یہ تھا کہ کرونا ایک وبائی آفت ہے (جس سے کم از کم یہ ضرور واضح ہوگیا کہ کرونا بے حیائی کے سبب نہیں پھیلا) عمران خان ایک ایماندار شخص ہے کہ جس کو اجڑا ہوا دیار ملا ہے قوم کو اس سچے اور ایماندار شخص کے مل جانے پر اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے، جنرل باجوہ ایک عظیم سپہ سالار ہیں اور انکی ناقدری “کرونا” سے بڑا المیہ بن سکتی ہے،جہاں ایک طرف انہوں نے اپنے آپ سمیت سب کو شدید گناہگار قرار دے دیا وہیں میڈیا کے متعلق فرمایا کہ ہمارا میڈیا جھوٹ بولتا ہے اے اللہ اس کو سچ بولنے کی توفیق عطا فرما، دونوں بار مولانا اور حاضرینِ چندہ مہم پر شدید رقت طاری ہوئی لیکن مجال ہے کہ کسی کے اتنے ہوش گم ہوئے ہوں کہ مولانا اور وزیراعظم سمیت کوئی بھی اٹھ کر چندہ بکس میں ایک روپیہ ہی ڈال دیتا…
مولانا کے میڈیا والے جملے پر لے دے شروع ہوئی اور یہاں تک بات گئی کہ مولانا کو ٹی وی پر معافی مانگنی پڑی اس معافی نے جلتی پر تیل کا کام کیا، ایک طرف کچھ لوگوں کی انا کی تسکین ہوئی تو دوسری طرف مولانا کے جانثاروں نے ز رہ و بکتر پہنے اور سوشل میڈیا جنگ کا میدان بن گیا، مولانا کے حامیوں نے مولانا کی معافی کو جاہل سے بحث کرنےسے اجتناب بتایا کہ جاہل کے منہ لگنے سے بہتر ہے کہ معافی مانگ کر جان چھڑائی جائے.. یہاں ایک سوال یہ ہے کہ اگر یہی کچھ اللہ کے نبیوں نے سوچا ہوتا تو اللہ کا پیغام کیسے لوگوں تک پہنچتا؟؟ اگر ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ سوچ کر کہ اسُ معاشرے کے لوگوں سے بات نہ کرتے کہ جس کو کہا ہی زمانہء جہالیت جاتا تھا تو عرب کے لوگ کس طرح مسلمان ہوتے ہمارے پیارے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت تو یہ ہے کہ جب انکو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میرے ایک ہاتھ پر چاند اور دوسرے پر سورج بھی رکھ دیا جائے تب بھی اپنی راست گوئی اور ترویج حق سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹوں گا، کیا مولانا حق کہنے سے اس لیے پیچھے ہوگئے کہ ان پر سوشل میڈیا پر تنقید ہو رہی تھی یہ عجیب منطق ہے… کیا اہلسنت، کیا اہل تشیع سب ہی مولانا کے حق اور میڈیا کے خلاف پوسٹس لگاتے نظر آتے ہیں کوئی میڈیا کو گلی کا کتا کہہ رہا ہے تو کوئی مولانا کو درباری ملاں لیکن چندہ مہم میں چندہ کتنا اکٹھا ہوا اور کرونا سے لڑنے کی کیا صورت بنی اس پر کوئی بات نہیں کر رہا…
یہاں پر بات نان ایشوز میں پھنس کر کہیں اور ہی نکل جاتی ہے مثلاً علمائے کرام نے زور دے کر مساجد کھلوائیں لیکن جب حکومت کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا تو مفتی منیب نے فرمایا کہ میں تو گھر پر نماز پڑھوں گا، سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا لیکن اتنی دھول اڑی کے انکو وفاق کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے، سندھ کے ڈاکٹروں نے صحیح صورتحال سے قوم کو آگاہ کرنے کی کوشش کی تو پنجاب گورنمنٹ کے (خود ساختہ) ترجمان شہباز گل نے اسکو سندھ حکومت کا پراپگنڈہ قرار دیا..
بات ہو رہی تھی مولانا اور انکی کرائی گئی دعا کی عرض یہ ہے کہ مولانا ایک ایسی شخصیت ہیں کہ جن کا ہر مکتبہ فکر احترام کرتا ہے، چاہے وہ دیو بندی مکتب ہو، اہلسنت ہوں، اہل تشیع ہوں، عامر خان ہوں، شاہد آفریدی ہوں، جنید جمشید مرحوم ہوں، وینا ملک ہوں، بیرون ملک رہنے والے پاکستانی ڈاکٹر، انجینئر ہوں یا کوئی اور ہو ایک مدت کے بعد ہمارے مذہبی حلقوں میں ایک ایسی شخصیت ابھری ہے کہ جس کو ہر طرف سے اتنی مقبولیت حاصل ہوئی ہے، لیکن یہ کیا ہوا کہ لوگوں کو یہ دعا کرانا اور اس میں کسی کی بیجا تعریف اور کسی پر بیجا تنقید کا الزام لگا دیا؟ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو مولانا نے کوئی زیادہ غلط بات تو نہیں کی لیکن جتنی بھی باتیں انہوں نے کیں انکی قطعی طور پر کوئی ضرورت نہیں تھی، اگر وہ ایک مختصر، بغیر رقت کے ایک مناسب سی دعا جس میں صرف کرونا کا ذکر ہوتا اور اس کے تدارک کی اللہ کے حضور میں دعا کی جاتی تو شاید وہ دلوں پر زیادہ اثر کرتی اور یہ طوفان بھی بپا نہ ہوتا…
شہرت بہت ظالم شے ہے مشہور ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آپ پر آپکی اصلاح کے بیشتر دروازے بند ہو جاتے ہیں لوگ آپ کے احترام اور آپکی معاشرتی حثیت کے زیر اثر آپکی ایسی بہت سی باتیں نظر انداز کر دیتے ہیں کہ جن پر کسی بھی شخص کو ٹوک دینا چاہیے پھر ہوتا یہ ہے کہ ہر مشہور اور چاہے جانے والا شخص اپنے آپ کو عقل کل سمجھنا شروع کر دیتا ہے اور کسی کا مشورہ اسکو اپنی تضحیک محسوس ہوتا ہے اور اگر شخصیت مذہبی ہو تو معاملہ مز ید گمبھیر ہو جاتا ہے…
سوشل میڈیا پر شاید جس مذہبی عالم کا سب سے زیادہ مذ اق بنایا گیا وہ علامہ ضمیر اختر نقوی ہیں اور انکے بعد میری ذاتی رائے میں مولانا ناصر مدنی کا نمبر آتا ہے، علامہ طاہر القادری نے بھی سوشل میڈیا پر خوب توجہ سمیٹی ہے لیکن جو توجہ قبلہ ضمیر اختر نقوی کو ملی وہ منفرد ہے آئیے ذرا دیکھیں کہ کیا وجہ ہوئی کہ ان لوگوں کا پبلک نے ز یادہ مذ اق بنایا اور کن باتوں پر بنایا، اگر میں ضمیر اختر صاحب کی بات کروں تو مجھے یاد پڑتا ہے کہ قبلہ پہلی بار جب 2005 یا 2006 میں ملتان مجالس کے سلسلے میں تشریف لائے تھے تو محلہ ناصر آباد جھک میں آپ نے پانچ مجالس سے خطاب فرمایا تھا اور لوگوں نے انکو ہاتھوں ہاتھ لیا شہرت اتنی ہوئی کہ انکی مجالس کی سی ڈیز مارکیٹ میں بکیں
اس شہر میں جو بات ہو
اڑ جاتی ہے سب میں
میں نے سنی اپنے
احبا کی زبانی
جب وہ مجالس سنیں تو پہلی بار یہ انکشاف ہوا کہ براعظموں کے نام دراصل حضرت نوح علیہ السلام کے پوتوں کے ناموں پر رکھے گئے انکے کسی پوتے کا نام افریقہ تھا کسی کا یونان تھا کسی کا ترک تھا اور کسی کا ہند تھا ہند کے بیٹوں کے ناموں میں ایک کا نام ٹھٹہ تھا اور ایک کا ملتان تھا یہ بات انہوں نے ملتان میں کی اور دھوم مچ گئی لیکن اس سب کا ریفرنس نہیں مل سکا.. اس دوران یہ ہوا کہ قبلہ ملتان کی مجالس کی رونق بن گئے ہر دوسرے روز ملتان میں کہیں نہ کہیں آپ خطاب فرما رہے ہوتے تھے اور رش تھا کہ تھمتا نہیں تھا قبلہ کی اردو ادب خصوصاً تاریخ مرثیہ پر بہت شاندار گرفت ہے میر انیس سے آپ کو عشق ہے میرے بھاگ کھلے اور حضرت شوذب کاظمی کے توسط سے عابد لنگاہ کی کوٹھی پر قبلہ سے شرفِ ملاقات ملا میں نے موقع غنیمت جان کر بر اعظموں کے ناموں کا ریفرنس پوچھ لیا کم عمری تھی یہ معلوم نہ تھا کہ مذہبی محققین سے ریفرنس نہیں پوچھا کرتے لیکن جو اس دن قبلہ کے ہاتھوں عزت افزائی ہوئی اس نے نانی یاد کرا دی، دوسری بار عزت افزائی تب ہوئی جب ان سے انکی پی ایچ ڈی کا موضوع پوچھا اس کے بعد کبھی ریفرنس پوچھنے کی غلطی کسی مذہبی سکالر سے نہ کی … ہم قبلہ کو سنتے رہے قبلہ کبھی لفظِ جناح کا ذوالجناح سے تعلق ثابت کرتے تو کبھی کچھ اور لیکن ریفرنس نہ مل پاتا..
آج آپ کوئی بھی میم اٹھا کر دیکھ لیجیے بتنگڑ انہی باتوں پر بنا کہ جو بے سر و پا تھیں جن پر قبلہ غصہ کیا کرتے تھے اور ہیں، میں دوستوں کو یہی کہتا ہوں کہ امامِ حسین اور حضرتِ غازی عباس کی عظمت کیا ان نیپالی معجزات میں پنہاں ہے یا انکی محتاج ہے؟؟ یقیناً نہیں! یہ ہستیاں اس سب سے بے نیاز ہیں کیا آپ ایک ایسا میم دکھا سکتے ہیں کہ جس میں علامہ شاعری پڑھ رہے ہوں یا میر انیس یا مرزا دبیر کے کسی مرثیے کی تشریح کر رہے ہوں اور اس کا مذ اق بن جائے؟؟ یا کوئی ایسا میم کہ جس میں آپ کسی علمی بحث کو چھیڑے ہوئے ہوں؟؟ مذ اق بنا تو نیپال والے واقعات کا، مذ اق بنا تو لڈن جعفری صاحب والے قصے کا، بر اعظموں کے ناموں والے واقعات کا، کیا کبھی کسی نے اس کو سمجھنے کی کوشش کی کہ ایسا کیوں ہے؟؟ میرے خیال میں اس کی وجہ وہ توقعات ہیں جو عام آدمی عالم دین سے کرتا ہے اور جب ایک عالم دین اس کو بنا ریفرنس کے کوئی مافوق الفطرت واقعات سنا کر داد سمیٹنے اور کوئی نئی بات سنانے کے چکروں میں بات کو کہیں کا کہیں لے جاتا ہے تو لوگ مذ اق بنا لیتے ہیں جب آپ ایک ایسے وقت میں کہ جب پوری دنیا کے ڈاکٹر کرونا کے دوا بنانے اور علاج بتانے سے قاصر ہیں یہ فرمائیں گے کہ میرے پاس علاج ہے اور میں اس لیے نہیں بتا رہا کہ کراچی کے لونڈے میرا مذ اق آڑائیں گے تو کوئی آپکو کتنا سنجیدہ لے سکتا ہے؟؟ یہی معاملہ آپکو مولانا طارق جمیل اور مولانا ناصر مدنی جیسے علما کے معاملے میں بھی نظر آئے گا آپ دیکھ لیجیے کہ مولانا طارق جمیل کی حور کے بیان کے علاوہ کس چیز کا مذ اق بنا یہاں تک کہ آپ کی حج کے دوران عامر خان جو کہ ایک فلمسٹار ہے کے ساتھ تصاویر پر بھی لوگوں نے آپکی تعریف کی آپ نے لائیو ٹی وی پر بیٹھ کر وینا ملک اور انکے شوہر میں صلح کرائی لوگوں نے اسکو بھی سراہا (گو کہ بات پھر بہ بن سکی)…
لوگ بھی کیا کریں ایک طرف حور کا اتنا تفصیلی تعارف بیان کیا جاتا ہے اور دوسری طرف غامدی صاحب جیسا جید عالم کہتا ہے کہ حور کوئی مخلوق ہے ہی نہیں بلکہ وہ تو ارمانوں پر اوس ڈال دیتے ہیں کہ آپکی بیویاں ہی حور کے طور پر آپکو دی جائیں گی… آپ قبلہ ناصر مدنی کی بات کریں تو
“جانو آئی ایم مسجد”
اور اسی قسم کے ایک دو اور جملوں کے علاوہ آپ کو کسی سنجیدہ بات کا بنا میم نہیں ملے گا… میں سوال پوچھتا ہوں کہ کیسا کیسا عالم دین یہاں ٹی وی اور ریڈیو پر نہیں آیا میں کیا کیا یاد کروں علامہ رشید ترابی ہوں، مولانا شاہ بلیغ الدین ہوں، علامہ نصیر الاجتہا دی ہوں، طاہر القادری ہوں، علامہ ڈاکٹر اسرار احمد ہوں، غلام مرتضیٰ ملک ہوں، علامہ طالب جوہری ہوں، جاوید احمد غامدی ہوں، علامہ نسیم عباس رضوی ہوں، کوکب نورانی ہوں، یہ تمام لوگ مختلف مکتبہ فکر کے علماء کرام ہیں جو متواتر ٹی وی اور بالخصوص پی ٹی وی (جبکہ وہ واحد چینل ہوا کرتا تھا) پر آتے رہے اور قوم ان علماء کو بلا تفریق سنتی رہی نہ صرف ٹی وی بلکہ انکے تمام لوگوں کی نجی مجالس اور محافل بھی ہر طرح کے نظریات رکھنے والے لوگوں سے بھری رہتی تھیں، آج بھی کسی کی کیا مجال ہے کہ ان لوگوں کہ جن کے میں نے نام لکھے ان کا کوئی میم بنا دے اگر بن بھی جائے گا تو اس پر شدید تنقید ہوگی اور لوگوں میں قبولیت نہیں پا سکے گا، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے کبھی ادھر ادُھر کی بات اپنے لیکچر میں نہیں کی جس موضوع پر بات شروع کی اسی پر پوری کر کے متانت کے ساتھ گھر چلے گئے نہ ان لوگوں میں سے کوئی کبھی کسی وزیراعظم کے ساتھ نظر آیا نہ کسی صدر کے، جو بھی عالم دین جب بھی کسی ایوان حکومت کے آس پاس پایا گیا اس پر ہمیشہ تنقید ہوئی اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں کبھی مذہب کے نام پر ووٹ نہیں دیا گیا، شاید لوگوں کو وہ مولوی قابلِ اعتبار نہیں لگتا جس کی سیاسی وابستگی ہو، آپ ذرا غور کریں کہ اس وقت غامدی صاحب ایک ایسی شخصیت ہیں کہ جن سے ہر معاملے پر رائے لی جاتی ہے اور وہ لگی لپٹی کے بغیر دو ٹوک بات کرتے ہیں بیشمار لوگ ان سے اختلاف کرتے ہیں لیکن ایک میم آج تک دیکھنے میں نہیں آیا.. جب تک علامہ طاہر القادری سیاست کے میدان میں نہیں آئے تھے آپ نے انکے بارے میں کوئی نا مناسب بات نہیں سنی ہوگی لیکن انکے سیاست میں آتے ہی بیشتر لوگ یہ بھول گئے کہ یہ وہی طاہر القادری ہیں کہ جنکی سینکڑوں تحقیقی کتب ہیں، جنہوں نے قرآن مجید کی تفسیر کی ہے، دہائیوں لوگوں کی مذہبی تربیت کی ہے، شاید کبھی آپ نے مشاہدہ کیا ہو کہ لوگ مولانا فضل الرحمن کی کسی مذہبی تاویل کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور اسکی جہاں اور وجوہات بھی ہوں گی وہیں ایک وجہ انکی سیاست میں براہ راست شمولیت ہے…
ذرا ملک کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیے 1988 کا الیکشن ایک یادگار الیکشن تھا پیپلزپارٹی نوجوان بینظیر جو کہ ایک ماڈرن باپ کی ماڈرن بیٹی تھی اس کے اور اسکے باپ کا تاثر ایک سیکولر اور ماڈرن انسان کا تھا پیپلزپارٹی سینٹر آف لیفٹ کی پارٹی سمجھی جاتی تھی اس کے مقابلے پر آئی جے آئی موجود تھی جس کو “اسلامی جمہوری اتحاد” کہا گیا تھا لیکن ایک اکیلی پیپلزپارٹی نے نا تجربہ کار بینظیر کی قیادت میں وہ الیکشن تب جیتا جب ابھی تازہ تازہ ضیاء الحق ہلاک ہوئے تھے اور “اسلامی جمہوری اتحاد” اپنے تمام تر اسلامی نظریات اور اسٹیبلشمنٹ کی پوری سپورٹ اور جنرل حمید گل کی تمام تراکیب کے باوجود ہار گیا تھا اور بینظیر اپنے تمام ماڈرن خیالات وہ نظریات کے ساتھ جیت گئی…
کوئی بھی مسلک ہو جب بھی وہ مذہبی ایجنڈے کو بنیاد بنا کر الیکشن لڑے گا پاکستان میں اسکی کامیابی کے امکانات نہیں ہوں گے چاہے وہ جماعت اسلامی ہو، جے یو آئی ایف ہو، ایم ایم اے ہو، لشکر جھنگوی ہو، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ہو یا مجلس وحدت المسلمین ہو آپ کو کوئی بھی عوامی حمایت حاصل کرتا نہیں دکھائی دے گا..
ہمارے علما کو یہ ساری باتیں ذہن میں رکھنی چاہیے کہ لوگ مذہب کو سب سے مقدس اور سیاست کو سب سے مکروہ چیز گردانتے ہیں جو بھی ان کو آپس میں ملائے گا اس پر عوام کا اعتماد بحال نہیں رہے گا چاہے نواز شریف امیرالمومنین بننے کی کوشش کریں یا کوئی مولانا وزیراعظم بننے کی خواہش کرے لوگ پوری نہیں ہونے دیں گے
آخر میں صرف گزارش یہ ہے کہ لوگ اپنا اپنا کام کریں علماء لوگوں کی تربیت کریں ان میں برداشت کا مادہ پیدا کریں، حکومت وہ کام کرے جو حکومتوں کے کرنے کے ہیں کس اسلامی ملک میں آپ نے دیکھا کے وزیراعظم کے ساتھ کوئی عالم بیٹھ کر کرونا کے خاتمے کی دعا کرا رہا تھا کیا امام کعبہ یہ کام نہیں کر سکتے تھے؟؟ لیکن کیا آپ نے دیکھا کہ محمد بن سلمان امام کعبہ کے ساتھ بیٹھا ہو اور وہ دعا کرا رہے ہوں؟؟یا علی خامنہ ای صدر روحانی کے ساتھ بیٹھے ہوں اور کرونا مکاؤ مہم میں دعا چل رہی ہو؟؟ یا اٹلی میں اتنی بربادی کے بعد بھی ویٹی کن سٹی کا پوپ موم بتی ہاتھ میں لیے اپنی داڑھی آنسوؤں سے تر کرتا یہ کہہ رہا ہو کہ اللہ ہمارے وزیراعظم کی مدد فرما؟؟ یا ہندوستان کے سب سے بڑے مندر کا پجاری مودی کے حق میں اپنے بھگوان کو سفارش کرتا نظر آیا ہو، وزیراعظم کی پریس کانفرنسوں انکے خطابات، انکی چندہ مہمات اور سندھ حکومت پر انکے حملے یہ بتاتے ہیں کہ وہ ایک نااہل لشکر کے سردار ہیں جو کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ معجزہ ہے….

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker