ارشد چوہدریتجزیےلکھاری

یزمان کی ہندو بستی میں آپریشن: محکمانہ کارروائی یا طارق بشیر چیمہ کا اثر و رسوخ ؟ ۔۔ رپورٹ ارشد چوہدری

جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور میں تحصیل یزمان کی ہندو آبادی میں انتظامیہ نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا جس میں کئی گھر مبینہ طور پر مسمار کر دیے گئے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم امتناعی کے باوجود انتظامیہ نے آپریشن کیا، نیز انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکمران اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور وفاقی وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ کے ایما پر یہ آپریشن کیا گیا۔
اسسٹنٹ کمشنر یزمان کے مطابق یہاں بسنے والی ہندوبرادری نے پندرہ ایکڑ سے زائد سرکاری زمینوں پر پہلے ہی گھر تعمیر کر رکھے ہیں لیکن مزید تین ایکڑ پر چند روز پہلے قبضہ کی کوشش ہوئی تو انتظامیہ نے نئے تعمیر شدہ احاطے مسمار کیے نیز ابھی مکمل مکان نہیں بنے تھے۔ان کے خیال میں قبضہ مافیا احاطے بنانے والوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور اس میں کسی سیاسی شخصیت کا کوئی تعلق نہیں، یہ معمول کی کارروائی تھی۔
وفاقی وزیر ہاوسنگ طارق بشیر چیمہ سے ہندو آبادی میں آپریشن سے متعلق موقف لینے کے لئے رابطہ کیا گیا لیکن ان سے بات نہیں ہوسکی۔
انسانی حقوق کے ادارے ایچ آر سی پی کی جانب سے اس آبادی میں آپریشن پر تشویش کا اظہار کیاگیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔سیکرٹری ایچ آر سی پی کے مطابق انکوائری ٹیم موقعے پر پہنچ چکی ہے جو مکمل چھان بین کر کے رپورٹ جاری کرے گی۔
آبادی میں آپریشن کیوں کیا گیا؟
اسسٹنٹ کمشنر یزمان محمد شاہد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ یہ تحصیل یزمان کا چک نمبر 52بی ہے جہاں ہندو برادری آباد ہے۔ یہاں پندرہ ایکڑ سے زائد سرکاری زمینوں پر ہندوبرادی قابض ہے اور گھر تعمیر کر رکھے ہیں۔یہ معاملہ عدالت میں ہے جب فیصلہ ہوگا تو اس کے مطابق کارروائی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک رواں ہفتہ ہونے والے تجاوزات کے خلاف آپریشن کی بات ہے تو انہیں اطلاع ملی کہ ہندوبرادری کی جانب سے پندرہ ایکڑ کے علاوہ تین ایکڑ پر مزید تعمیرات شروع کر دی گئی ہیں تو متعلقہ ٹیم نے وہاں جاکر آپریشن کیا۔
لیکن اس میں کوئی آباد گھر مسمار نہیں کیا گیا بلکہ نئے تعمیر شدہ احاطے مسمار کر کے زمین واگزار کرائی گئی۔ان کے خیال میں سرکاری زمینوں پر قبضہ کرانے کے لیے وہاں ایک قبضہ گروپ موجود ہے جو لوگوں سے پیسے لے کر پہلے قبضہ کراتاہے اور جب آپریشن کیاجائے تو عدالتوں میں بے بسی ظاہر کر کے سٹے آرڈر لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ اس میں کسی سیاسی شخصیت کا ہاتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ یزمان میں بیشتر ہندو بستیوں میں قبضہ مافیا نے سرکاری زمینوں پر پیسے لیکر قبضے کرارکھے ہیں لیکن پرانی آبادیوں میں گھروں کو مسمار کرنے سے گریز کیاجاتاہے۔
ہندوبرادری کا موقف اور ایچ آر سی پی کا ایکشن:
متعلقہ یونین کونسل کے سابق اقلیتی کونسلر بھاگے رام نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایاکہ بستی میں مشاورت سے جن زمینوں پر تعمیرات کا فیصلہ ہوا وہ اس بنیاد پر ہواکہ جن کے گھروں میں مزید رہائش کی گنجائش نہیں وہ مزید آگے بڑھا سکتے ہیں اسی لیے بیس افراد نے تعمیرات شروع کردیں۔ انہیں آبادی کے ہی ایک گروپ نے یقین دلایا کہ وہ زمین انہیں الاٹ ہوگئی ہے لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ انتظامیہ یہاں آپریشن کرنے آرہی ہے تو انہوں نے سول عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر لیا۔
لیکن ان کے بقول انتظامیہ نے چند دن پہلے آپریشن کر کے نئی تعمیرات گرادیں۔ اس پر متاثرین نے کمشنر بہاولپور آفس کے سامنےاحتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے دوبارہ تعمیر کی اجازت نہیں دی تاہم ملبہ بھی قبضے میں لے لیاگیاہے۔
انہوں نے بتایاکہ تحصیل یزمان میں پندرہ ہزار سے زائد ہندو آباد ہیں۔ یہاں سب سے بڑا مسئلہ انہیں گھروں کے لیے الاٹ ہونے والی زمینوں کا درپیش ہے۔آئے روز اس طرح کا تنازعہ کھڑاہوتاہے۔
ایچ آر سی پی کی جانب سے اس آبادی میں آپریشن پر انسانی ہمدردی کے تحت تشویش کا اظہار کیاگیا۔سیکرٹری جنرل ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان حارث خلیق نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ انہیں اطلاع ملی کہ یزمان میں ہندوبرادری کی آبادی میں آپریشن کیاگیا ہے جس میں مبینہ طورپرغریب لوگوں کے گھر مسمار ہوئے ہیں لہذا ایچ آر سی پی نے انسانی ہمدردی کے تحت اس کی مذمت کی۔ مزید تحقیقات کے لئے انکوائری ٹیم یزمان پہنچ چکی ہے جو مکمل چھان بین کر کے اپنی رپورٹ تیار کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں جائزہ لیاجائے گا کہ کیا ہندوبستی میں آپریشن کے دوران گھر مسمار کیے گئے یا نہیں اور زمین پر قبضے کی کوشش ہوئی یا ان کا حق تھا۔
ان کے مطابق تحقیقاتی ٹیم یہ حقائق بھی جاننے کی کوشش کرے گی کہ یہ اقدام کسی سیاسی شخصیت کی ایما پر کیاگیا یا معمول کی محکمانہ کارروائی تھی۔جنرل سیکرٹری ایچ آر سی پی کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ تیار ہونے کے بعد اگلا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

ٰ( بشکریہ : انڈپنڈنٹ اردو )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker