عقیلہ اور رحیم کا اچانک 27 سال بعد آمنا سامنا ہوا تو وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر بھونچکا سے ہی رہ گئے، دل گویا اچھل کر حلق میں ہی آگیا ہو ، آج وہ قریب 27 سال بعد ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ اور ایک وقت تھا کہ ایک دوسرے کو دیکھے بنا ان کا دن نہیں چڑھتا تھا۔ آج ان کی ملاقات ایک رشتہ دار کے یہاں شادی پر ہو رہی تھی، دونوں بہت بدل گئے تھے، وقت نے بہت گہری تحریریں ان کے چہروں پر کندہ کردی تھیں جو کچھ کہے سنے بنا بھی با آسانی پڑھی جا سکتی تھں۔ جب بچھڑے تھے تو عمریں بیس اور پچیس سال تھیں اور آج سروں میں چاندی بھرے دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔ رحیم نے حال پوچھا کہ کیا حال چال ہیں؟ تو عقیلہ نے وہی پرانی کھنک دار آواز اور اپنے مخصوص چنچل انداز میں اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا کہ اللہ کا بڑا کرم ہے میں بالکل ٹھیک ہوں اور تم، تو رحیم نے ایک لمبی سانس بھر کر کہا کہ ہاں میں بھی ٹھیک ہی ہوں۔ رحیم کی نسبت عقیلہ کا لہجہ زیادہ پر اعتماد اور خوشگوار تھا۔ دونوں کچھ دیر خاموش کھڑے رہے جیسے کہنے سننے کیلئے کچھ رہ ہی نہ گیا ہو۔ پھر رحیم نے کہا کہ چلو بیٹھ کر بات کرتے ہیں، تو عقیلہ نے کہا کہ زرا بارات آلے تو میں تمہارے پاس آکر بیٹھتی ہوں، تم زرا انتظار کرو۔ عقیلہ تو یہ کہہ کر چلی گئی اور رحیم کی جیسے فلم ستائیس سال پیچھے ریوائنڈ ہونا شروع ہوگئی، یہ وہ وقت تھا جب رحیم یونیورسٹی میں اور عقیلہ کالج میں پڑھتی تھی، دونوں دور کے رشتہ دار تھے مگر دونوں گھرانوں میں میل ملاپ بہت تھا، عقیلہ روز کالج سے رحیم کے گھر آجاتی تھی، اس کا کالج رحیم کے گھر کے قریب ہی تھا، شام تک وہ ان کے گھر ہی رہتی تھی کھانا کھاتی اور آرام بھی لیتی تھی کہ شام کے وقت عقیلہ کی والدہ یا والد اسے لینے آجاتے تھے اور وہ ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر اپنے گھر چلی جاتی تھی، اس دوران رحیم اور اس کی خوب گاڑھی چھنتی تھی، گھر میں اس دوران رحیم کی والدہ کے سوا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ تو دونوں کو خوب مل بیٹھنے کا موقع مل جاتا تھا، خوب شعر و شاعری ہوتی ، دیگر موضوعات پر بحث ہوتی ساتھ ساتھ آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو پسندیدگی کے پیغامات بھی دیئے جاتے۔ مگر دونوں نے کبھی بھی کھل کر اظہار نہیں کیا تھا۔ عقیلہ ایک گلابی رنگت، بادامی آنکھوں اور بھورے گھنگھریالے بالوں والی دراز قد حسین لڑکی تھی ، والدین کی اکلوتی بیٹی ہونے کے ناطے گھر بھر کی خاص کر بھائیوں کی بڑی لاڈلی تھی، جس نے اس کی شخصیت میں چنچلتا کے ساتھ ساتھ کچھ کچھ غرور بھی شامل کردیا تھا،
جس نے اس کی خوداعتمادی اور بے رخی میں بے انتہا اضافہ کر دیا تھا اور وہ عمومی طور پر لوگوں کو زیادہ خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ حسین تھی ، لاڈلی تھی، پیسے والی تھی تو پھر اس کا خود سر و مغرور ہونا جیسے بنتا تھا۔ وہ جب چاہتی تھی جس کا چاہتی تھی بینڈ بجا دیتی تھی۔
گریجویشن کرتے ہی رحیم کو کراچی میں نوکری مل گئی اور اسے شہر چھوڑ کر کراچی آنا پڑا عقیلہ وہیں رہ گئی، اس کے بعد زندگی کی گاڑی کچھ ایسی تیز رفتاری سے چلی کہ پچھلے سارے منظر دھندلاتے چلے گئے رحیم کی شادی ہوگئی بچے ہوگئے ترقیاں ہوگئیں، اور وہ سب کچھ فراموش کرکے اپنی خانگی زندگی میں مصروف ہوگیا، کبھی کبھی جب بات نکلتی تو اسے عقیلہ یاد بہت آتی تھی، مگر وہ جانتا تھا کہ سب لاحاصل ہے ، کچھ اڑتی اڑتی خبریں عقیلہ کی بربادی سے متعلق رحیم تک پہنچتی تھیں مگر ان کی صداقت کا کچھ علم نہ تھا کیوں کہ وہ بہت ہی غیر معمولی اور ناقابل یقین ہوا کرتی تھیں۔ وہ ابھی ان ہی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک عقیلہ کی آواز سے چونک اٹھا، وہ معنی خیز انداز میں اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی، کہاں گم تھے جناب، کہیں پرانی یادوں میں تو نہیں کھو گئے تھے۔ رحیم زرا جھینپ سا گیا، ایک ٹھندی سانس لے کر بولا ہاں مجھے گزرا زمانہ یاد آرہا تھا۔ خیر چھوڑو تم سناؤ زندگی کیسی ہے کیا کر رہی ہو؟ عقیلہ کچھ دیر تک تو اسے غور سے دیکھتی رہی ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اسے کچھ بتانا نہیں چاہ رہی ہو، پھر دھیرے سے بولی ، بھئی میری کچھ کہانی نہیں ہے، بہت ہی عام سی زندگی ہے، کئی بیماریوں کا شکار ہوں، تنہا ہوں اور بس۔۔۔ عقیل پر جیسے کسی نے ڈھیروں برفیلا سرد پانی ڈال دیا ہو، وہ سکتے کے عالم میں اسے دیکھ رہا تھا او ر چہرہ جیسے سوالیہ نشان بن کر رہ گیا تھا، تب وہ بڑے کرب سے مسکرائی اور کہنے لگی کہ لو سنو!!
والدین کے انتقال کے بعد بڑے بھائیوں نے بہت سہارہ دیا، پوری عزت و اعزاز کے ساتھ مجھے اپنے گھر میں رکھا، مگر میری شادی نہ کر سکے حالات کو دیکھتے ہوئے میں نے ایک اسکول کھول لیا، جو وقت کے ساتھ اچھا خاصہ چل پڑا، زندگی مزے سے گزر رہی تھی کہ سب سے چھوٹے بھائی نے شادی کرلی، اس کی بیوی بہت ہی مشکل اطوار کی خاتون تھی لہذا دونوں بڑے بھائیوں کو اپنے بچوں کے ساتھ والدین کے آبائی گھر کو چھوڑنا پڑا، زندگی اب بھی بہت پریشان کن نہ تھی، معاملات میں بگاڑ اس وقت آنا شروع ہوا جب دونوں بڑے بھائی چند سالوں کے وقفہ سے انتقال کر گئے۔ اب چھوٹا بھائی بالکل ہی بدل چکا تھا جانے کیوں مجھ سے شدید نفرت کرنے لگا تھا ، مجھے والدین والے گھر کی گلی میں داخلے تک کی اجازت نہ تھی۔ اسکول میرا اچھا چلتا تھا تو ایک کرائے کا مکان لے کر اپنے سب سے چھوٹے بھتیجے کو ساتھ لے کر رہنا شروع ہو گئی، اس دوران میری ملاقات شارق نام کے ایک ڈاکٹر سے ہوئی جس کی کلینک میں نے کبھی نہیں دیکھی، اس نے مجھے شادی کا پیغام دیا حالات کو دیکھتے ہوئے میں نے ہاں کردی، بظاہر وہ ایک مناسب آدمی لگتا تھا، چند مہینے بہت اچھے سے گزر گئے آہستہ آہستہ وہ مکمل میرے خرچہ پر آگیا، کوئی کام نہیں کرتا تھا، نہ کلینک نہ اسپتال، بس گھر میں سویا رہتا تھا، یا پیسے مانگتا رہتا تھا۔
ایک دن کہنے لگا کہ اس کو سعودیہ کے ایک بڑے ہسپتال میں بہت ہی عمدہ نوکری مل گئی ہے، جاکر وہ فوراً ہی فیملی ویزے پر مجھے بھی بلا لے گا تب مجھے اسکول چلانے کے معاملات میں مشقت کی ضرورت بھی نہیں رہے گی، میں اس کی چکنی چپڑی باتوں میں آگئی ظاہر ہے اکیلے پن نے مجھے بالکل کمزور کرکے رکھ دیا تھا اور وہ ڈاکٹر میرا واحد سہارا تھا، اس نے جیسا کہا میں کرتی چلی گئی، اپنا سارا زیور، بینک بیلنس سب کچھ نکال کر اس کے حوالے کردیا، اور وہ چلا گیا!! اتنا کہہ کر وہ سانس لینے کو رکی، دوبارہ کچھ یوں گویا ہوئی کہ وہ بس ایسا گیا کہ آج پندرہ سال ہونے کو آئے اس کا کچھ اتا پتہ نہیں ہے، پہلے سنا تھا کہ وہ سعودیہ میں روڈ حادثہ میں مارا گیا ہے، مگر اب سنا ہے کہ وہ کراچی میں رہ رہا ہے، اس دوران چھوٹے بھائی نے والدین کی تمام جائیداد پر قبضہ کرلیا، مجھ سے بالکل لا تعلق ہوگیا اور ملنا جلنا تو درکنار شکل دیکھنا تک گوارہ نہیں کرتا۔ زندگی بڑی مشکل کا شکار ہوگئی ہے ، کیونکہ میں مسلسل ذہنی دباؤکی وجہ سے محتلف بیماریوں کا شکار ہوتی چلی گئی جو بھتیجا ساتھ رہتا تھا وہ بھی میری شادی کے وقت واپس اپنی ماں کے پاس چلا گیا تھا تو رہی سہی کسر تنہائی نے پوری کردی ۔ اب حال یہ ہے کہ اسکول بند کردیا ہے کہ چلانے کی سکت ہے نہ ہمت، کرائے کا مکان ہے اور میں ان سب بیماریوں کے ساتھ اکیلی وہاں رہتی ہوں، کوئی پانی پوچھنے والا بھی نہیں ہے۔ بس اتنی سی کہانی ہے میری، عقیلہ نے جب بات ختم کی تو رحیم جیسے لوٹ کر واپس اس دنیا میں آگیا مگر بہت اداس اور رنجیدہ تھا، وہ سوچ رہا تھا کہ کہاں وہ شہرزادیوں سی شان رکھنے والی پری چہرہ عقیلہ اور کہاں یہ برقعہ پوش پریشان حال بوڑھی عورت۔ وقت نے عقیلہ کی زندگی کے ساتھ بڑا عجیب کھیل رچایا تھا جو ہزار کاوش کے بعد بھی اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔
فیس بک کمینٹ

