عوامی فیصلے کو مسترد کرنے کی سازش نے ایک سیاسی بحران کو جنم دیا جس کے نتیجے میں ہمارے بنگالی بھائیوں، سابقہ مشرقی پاکستانیوں کا نقصان ہوا۔ ایک ایسا نقصان جس کی ہم عام پاکستانی ابھی تک تلافی نہیں کر سکے۔ ہمارے دل بنگلہ دیش اور پاکستان کے مظلوموں کے دکھوں کے لیے ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور اس بات سے قطع نظر کہ ہم کہاں ہیں اور سیاسی طور پر کیسے بھی ہیں، ہمیں یقین ہے کہ انسانیت آگے بڑھتی رہے گی اور ان سے متاثر ہو کر انہیں خراج عقیدت پیش کرتی رہے گی۔ مولانا بھاشانی خاص طور پر ان لوگوں کی آواز تھے جنہوں نے ایک منصفانہ معاشرے کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور کرتے رہیں گے۔
مولانا بھاشانی وہ واحد سیاسی رہنما ہیں جنہیں پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کے جدوجہد کرنے والے عوام کی طرف سے یادکیا جاتا ہے اور احترام دیا جاتا ہے – مولانا، ان دونوں ممالک کے عام لوگوں کے درمیان ایک پل کی حیثیت سے مظلوموں کے لیے ایک تحریک اور ظالموں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ حکمران اشرافیہ آج بھی ان کے نام سے لرزتی ہے ۔
( جاری )
فیس بک کمینٹ

