زاہدہ حناکالملکھاری

اماں ونی، اماں ونی/ زاہدہ حنا

یہ سطریں جس وقت لکھی جا رہی ہیں ‘ اس کے چاہنے والے اسے قومی اعزاز کے ساتھ دفن کر رہے ہیں ۔37 ہزارکی گنجائش والا سویٹو اسٹیڈیم ان لوگوں سے بھرا ہوا ہے جنہوں نے اس کی شعلہ بار تقریریں سنیں ، نسلی امتیاز کے دیوسے اُسے لڑتے دیکھا ، بار بار جیل جاتے اور بد ترین تشدد کے مرحلوں سے گزرتے دیکھا ۔
وہ نسلی امتیاز اور سفید فاموں کے ظلم وستم سے اپنے لوگوں کوبچانے کے لیے سینہ سپر تھی،اس وقت بھی وہ سویٹومیں رہتی تھی اور جب سفید فاموں کا اقتدار ختم ہوا اور بیشترسیاہ فام رہنما ان علاقوں اورشہروں میں منتقل ہوگئے جو چندبرس پہلے صرف سفید فام شہریوں کے لیے مخصوص تھے، تب بھی اس نے سویٹوسے نقل مکانی نہیں کی ۔
وہ کہتی تھی کہ میں اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتی کہ جب صبح میری آنکھ کھلے تومیری نگاہ کسی دشمن پر پڑے ‘ سفید فام اقلیت نے جنوبی افریقا کی سیاہ فام اکثریت سے نسلی امتیازکو جس انتہا پر پہنچایا ‘ اس نے سیاہ فاموں کی اکثریت کے سینے میں نفرت کی ایسی آگ بھڑکائی جو اب بھی بہت سے سینوں میں جلتی ہے۔
نیلسن منڈیلا اور بعض دوسرے سیاہ فام رہنماؤں کو اس بات کی داد ملنی چاہیے جنہوں نے عفو ودر گزر اور معاف کر دینے کا رویہ اختیارکیا، ورنہ ڈر تو یہ تھا کہ جنوبی افریقا کی سفید فام اقلیت کاایک ایک فرد ذبح کر دیا جاتا ۔
کیسی عجیب بات ہے کہ برصغیر جہاں1947سے پہلے ہندو ‘ مسلمان اور سکھ تینوں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے وہاں تقسیم کے وقت نفرت کا ایسا زہر ان تینوں مذاہب کے ماننے والوں کے اندر پھیلایا گیا کہ تینوں نے خون کی ندیاں بہا دیں اور مخاصمت کی بنیادرکھ دی گئی ۔ اس تناظرمیں دیکھیے توجنوبی افریقا کی سیاہ فام اکثریت ہم سے کہیں زیادہ برد بار اور انسان دوست ثابت ہوئی ۔
اس وقت سویٹوکے اسٹیڈیم میں’ ماما ونی ‘ کے نعرے لگ رہے ہیں۔ ونی کی کہانی پڑھیے تومحسوس ہوتاہے کہ کچھ لوگوں کا مقدر عجیب ہوتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کسی عظیم مقصد کے لیے دان کردیتے ہیں لیکن وہ عظیم مقصد جب حاصل ہوجاتا ہے تو وہ حاشیے پر رہ جاتے ہیں ۔ایسی ہی ایک ہستی ونی کی ہے۔ ونی کا خاندانی نام مادی کیزمیلا تھا۔ 22 برس کی عمر میں 15برس بڑے شخص سے شادی کی تو نام میں منڈیلا کا اضافہ ہوا اور وہ ونی منڈیلا ہوگئی ۔
ایک ذہین، خوش ادا اور پُرجوش ونی کی زندگی ہنگامہ خیزیوں کے سمندر میں ڈوبتی اور ابھرتی رہی۔ وہ دل جان سے افریکن نیشنل کانگریس کی تحریک آزادی میں شریک رہی۔نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے اس نے جان لڑادی۔ بقول منڈیلا، وہ ایک طاقت ور اور شعلہ خو عورت تھی، نہ ہوتی تو بارہا جیل نہ جاتی، قید تنہائی کوحوصلے سے نہ جھیلتی اور نیلسن منڈیلا اور اس کے قیدی ساتھیوں کے لیے سینہ سپرنہ رہتی۔
اس وقت سویٹوا سٹیڈیم میں لوگ ’’اماں ونی‘‘ کے نعرے لگا رہے ہیں، کچھ پھوٹ پھوٹ کر رو رہے ہیں اور کچھ کہہ رہے ہیں کہ اگر اماں ونی نہ ہوتی توہم کہاں ہوتے۔ جنوبی افریقا کے نائب صدر اور متعدد وزیر اسے خراج عقیدت ادا کررہے ہیں۔ اس کی ایک ساتھی ریٹازنگا آنسوؤں سے لبریز آواز میں لوگوں کو بتا رہی ہے کہ جب ونی پہلی مرتبہ جیل گئی تو وہ بھی اس کے ساتھ تھی۔یہ وہ وقت تھا جب دونوں شیرخوار بچوں کی ماں تھیں اور پولیس نے ان کے دودھ پیتے بچوں پر بھی رحم نہیں کیا تھا۔
ریٹا اور ونی کا عمر بھرکا ساتھ رہا ۔ لوگ ریٹا کی جدوجہد کا بھی اعتراف کرتے ہیں۔ ریٹا لوگوں کو بتاتی رہی کہ پولیس نے کتنی مرتبہ ونی کے گھر کا دروازہ گولیوں کی بوچھارسے توڑا‘کتنی مرتبہ وہ مظاہروں کے دوران گھسیٹ کر پولیس وین میں ڈالی گئی اورکتنی مرتبہ اس نے جیل میں قید تنہائی کاٹی۔
ونی کی اس جدوجہد کا اعتراف نیلسن منڈیلا نے اپنی خودنوشت ’’آزادی کا طویل سفر‘‘ میں جابجا کیا ہے۔منڈیلانے لکھا:’’ہمارے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا۔ اس دوران درجنوں لوگوں کو گرفتارکیا گیا۔ ونی کی بہن بھی گرفتار ہوگئی۔ پولیس ونی کوگرفتار کر کے گھسیٹ کر لے جا رہی تھی اورمیری بیٹی زینی اور زندزی اس کے دامن سے چمٹی ہوئی تھیں۔اسے پریتوریا میں قید تنہائی میں رکھا گیا۔
ایک اور جگہ منڈیلا نے لکھا: سوویٹو میں طالب علموں کے مظاہرے جاری تھے۔ مجھے خبرملی کہ ونی اور ڈاکٹر موتالانہ سیاہ فام والدین کی تنظیم میں شامل ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر موتلانہ میرادوست تھا۔حکام جس قدرطالب علموں سے خائف تھے اتنا ہی والدین سے۔ ان مظاہروں کے شروع ہونے سے پانچ ماہ بعد تک ونی جوہانس برگ میں فورٹ جیل میں قیدوبندکی صعوبتیں کاٹتی رہی۔
نیلسن منڈیلا27 برس کی قید کاٹ کر رہا ہوئے تو اب افریقن نیشنل کانگریس اور منڈیلا کے بہت سے دوستوںکو ونی کی ضرورت نہیں تھی۔ تحریکیں چل رہی ہوں اورمردجیل چلے جائیں تویہ عورتیں ہوتی ہیں جوان تحریکوں کوزندہ رکھتی ہیں ‘انھیں آگے بڑھاتی ہیں لیکن جب آزادی کی تحریک کامیاب ہوجائے توانھیں حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال انقلاب فرانس کی ہے۔
’روٹی انقلاب‘ پیرس کی غریب اور سیاسی شعوررکھنے والی عورتوں نے برپا کیا تھا۔ یہ انقلاب کامیاب ہوا تواس میں سرگرم عورتوں سے کہا گیاکہ اب وہ گھر جائیں اور چولہا چکی سنبھالیں۔ یہ سن کر ان بہادرعورتوں نے کہا تھا کہ گولی کھانے کے لیے ہم تھے اوراب جب کہ پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا وقت آیاہے تو ہمیں چولہا چکی سنبھالنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔
منڈیلا کی رہائی کے بعد ونی سے یہ تو نہیں کہاگیا لیکن منڈیلا کے چند ساتھی ونی کی شعلہ بیانی اور منڈیلا کے شانہ بہ شانہ چلنے کو پسندنہیں کرتے تھے۔ ادھر سفید فام حکومت تھی جوونی کی پُرشورخطابت اور قائدانہ صلاحیت سے پریشان تھی۔ اسی لیے ونی کے خلاف الزام اوربہتان کی ایک مہم شروع کی گئی۔
اس بارے میں خود منڈیلا نے لکھا:’’میری رہائی کے دن سے حکومت میری بیگم کی شہرت خراب کرنے کے لیے کوشاں تھی۔ چار نوجوانوں کو مبینہ طور پر ونی کی جانب سے اغوا کرایاگیا اور ان میں سے ایک کوہلاک کردیا گیا۔ ونی کے خلاف پہلے تو افواہیں پھیلائی اور پھر رسمی طور پرچارنوجوانوں کے اغوا کے ، ایک کے قتل کامقدمہ قائم کردیاگیا۔ اس کے خلاف یہ الزامات اتنی شدومدسے عائد کیے جارہے تھے کہ میرا اور ونی کا اس بات پر اتفاق رائے ہوگیا کہ اسے عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرنی چاہیے۔
میری بیگم کے مقدمے کی سماعت جوہانس برگ کی سپریم کورٹ میں فروری میں شروع ہوئی۔ اے این سی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ میں نے بھی مقدمے کی کارروائی سنی۔ مجھ سے سماعت کے دوران حاضری سے اپنی بیگم کو حمایت کا یقین دلانا اور اس کی بے گناہی پراپنے ایمان کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔ جارج نزوز نے بڑے احسن طریقے سے اس کادفاع کیا وہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ اغوا اورایذارسانی کے واقعات سے ونی کا کوئی تعلق نہ تھا۔ ساڑھے تین ماہ بعد عدالت نے اُسے اغوا اور ایذارسانی کے واقعات میں ملوث قراردیا۔
اسے چھ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی اور دوران اپیل اسے رہاکردیاگیا۔ میری پریشانی صرف اس حدتک تھی کہ عدالت کا فیصلہ جو بھی ہواس کی معصومیت پر شک کی گنجائش نہ پیدا ہو۔‘‘
ونی ایک سرشور اورطیش سے بھری ہوئی رہنما تھی۔ جدوجہدآزادی کا مشکل سفر ونی نے تن تنہاکیا۔اس دوران اس سے بعض غلطیاں سرزد ہوئیں۔اس نے کچھ لوگوں کے ساتھ بہت سخت رویہ اختیارکیا۔ اس کے حکم پر بعض نوجوانوں پر جان لیوا تشددکیا گیا۔آگے چل کر ان کے درمیان ایسی دراڑ پڑی جو پاٹی نہ جا سکی۔13اپریل 1992کو منڈیلا نے ونی سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا:
’’ کامریڈ ونی اور میں نے اپنے ملک میں آزادی کی جدوجہد کے ایک نازک موڑ پر شادی کی تھی ۔ اے این سی کے ساتھ اپنی وابستیگوں اور نسلی امتیاز کے خاتمے کی کوششوں میں ہم عمومی خاندانی زندگی نہ گزار سکے۔ ان مجبوریوں کے باوجود ہماری شادی چلتی رہی اور محبت بڑھتی رہی۔ جزیرے میں میری بیس سالہ قید کے دوران وہ میری ذات کے لیے آرام سکون اور حمایت کے مضبوط ستون کی طرح تھی۔کامریڈ ونی نے اکیلے ہی بچوں کی تربیت کا سلسلہ جاری رکھا اور حکومت کے مظالم کو بڑے صبرسے سہا۔اُس نے حکومتی ہتھکنڈوں کا بے جگری سے مقابلہ کیا۔آزادی کے لیے اُس کی جدوجہد میں کبھی لغزش نہیں آئی۔اُس کے کردار کی پختگی کی وجہ سے میرے دل میں اُس کے لیے عزت، محبت اورپیار کے جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ میرے دل میں اُس کی محبت کبھی کم نہ ہوگی۔ تاہم گزشتہ کچھ مہینوں سے کچھ مسائل پر ہم اتفاقِ رائے قائم نہیں کرسکے۔ ہمارے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ ہم نے باہم مل کر علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ہم دونوں کی بھلائی اسی میں ہے۔ میرے اس فیصلے کی وجہ ذرائع ابلاغ میں اُس پرلگائے گئے حالیہ الزامات نہیں ہیں۔کامریڈونی اور میں نے جو زندگی ایک دوسرے کی رفاقت میں بسر کی مجھے اُس پرکوئی پشیمانی نہیں۔ میرے دل میں اُس کے لیے جو پیار پہلی ملاقات سے لے کر جیل کی زندگی اور جیل سے باہر پیدا ہوا ہمیشہ رہے گا۔‘‘
یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ دونوں کی شادی جیل اور جدائی کے 30 برس کے دوران صحیح سلامت گزری لیکن آزادی کے چند برس نہ جھیل سکی۔ منڈیلا نے ونی سے علیحدگی کے بعد دوسری شادی کر لی۔ منڈیلا کی بیوہ ونی کے جنازے میں شریک تھی۔قیمتی لباس اور ہیرے کی انگوٹھیوں کے ساتھ وہ عزاداروں کی پہلی صف میں تھی۔ 81برس کی بوڑھی اوردل شکستہ ونی کے جنازے کوسرکاری اعزازکے ساتھ دفنایا جا رہا ہے‘ منڈیلا کی بیوہ جس کا تحریک آزادی میں کوئی حصہ نہ تھا،اس کے جانے کیا محسوسات ہوں گے۔
ونی جنوبی افریقا کی تاریخ میں ایک ایسی متنازعہ شخصیت رہے گی جس کے چاہنے والوں اورجسے ناپسند کرنے والوں کی کمی نہیں ۔ منڈیلا کے قریبی ساتھی اور تحریک آزادی میں شریک متعدد رہنما ونی کا احترام کرتے تھے اور بعض کا خیال ہے کہ اگراس نے باہر بیٹھ کر منڈیلا کی رہائی اور افریقن نیشنل کانگریس کی نسلی امتیازکی جدوجہد کے لیے اتنی جاںفشانی سے مہم نہ چلائی ہوتی تو جنوبی افریقا کی تاریخ وہ نہ ہوتی جوآج ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker