افسانےلکھاری

ظہیر عباس بھٹی کا افسانہ : عشق مجازی سے عشق حقیقی تک

گھر کے باہر آزادی کے نعرے لگ رہے تھے ، یوں لگ رہا تھا کہ جیسے جوشیلے نوجوان اسی لمحے انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کر کے رہیں گے – ایسے میں گھر کے صحن میں لیٹا منصور علی اپنی انگریز محبوبہ کے خیالوں میں کھویا ہوا تھا ، اس لمحے وہ جدو جہد آزادی سے بالکل غافل دکھائی دے رہا تھا ، وہ یہ بات بھی بھلا چکا تھا کہ وہ اپنے خطے کی ایک بڑی سیاسی جماعت کا مرکزی عہدیدار ہے ، شاید مر جانے عشق نے غالب کی طرح منصور علی کو بھی نکما کر دیا تھا –
صحیح کہتے ہیں کہ عشق انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا ، یہی کچھ منصور علی کے ساتھ ہوا ، چار بچوں اور تین بیویوں کی موجودگی بھی انہیں نئے عشق سے باز نہ رکھ سکی – مگر کم بخت گھر کی ذمہ داریوں نے عشق کو پروان نہ چڑھنے دیا ، ہر پل کسی کی یادوں میں گزارنے والا لمحہ لمحہ محبوبہ کے قرب کو ترس رہا تھا – اپنے دل کی کیفیت وہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتے تھے ، آخر وہ جدوجہد آزادی کرنے والی سیاسی جماعت کے کرتا دھرتا تھے ۔
منصور علی عشق مجازی کی منازل طے کرتے اور فراق یار کا صدمہ اٹھائے ہی اس دار فانی سے کوچ کر گئے ، مگر ان کی جماعت کے دیگر سرکردہ رہنماؤں نے آزادی کے جذبے کو ٹھنڈا نہیں ہونے دیا اور بالآخر ایک الگ ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا ۔
کچھ عرصہ پہلے آزادی کی جنگ لڑتے ایک رہنماء کی اولاد میں سے کسی نے دعویٰ کیا کہ انہیں منصور علی خواب میں ملتے ہیں اور اکثر ایک ہی جملہ دہراتے ہیں ۔ مگر تین سال ہو چکے منصور علی کا وہ جملہ اس بڑی شخصیت کے صاحب زادے نے کسی کو نہیں بتایا ۔
لوگوں کی زبانی اس جملے کی شہرت سن کر منصور علی خان کے سگے نواسے صالح محمد کے دل میں بھی جدوجہد آزادی کے ہیرو صداقت علی کے بیٹے سے ملنے کی تمنا بیدار ہوئی اور انہوں نے ولایت حسین کے گھر کا پتہ حاصل کیا ، ایک روز ڈھلتی شام کے وقت صالح محمد نے گھنے پیڑوں میں گھرے اکلوتے گھر کے دیمک زدہ دروازے پر دستک دی ، قریب تھا کہ ان کی دستک کے بوجھ سے دروازہ زمین بوس ہو جاتا ، ایک نحیف سی آواز نے پوچھا ، کون ہے ؟
منصور علی کے نواسے نے ڈرتے ڈرتے اپنا تعارف کروایا ، اور دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے لگا ، لاٹھی کے سہارے چلتے بزرگ نے دروازہ کھولتے ہی صالح محمد کو حیرت سے تکتے ہوئے پوچھا ! خیریت تو ہے ؟ اتنے بڑے لیڈر کا نواسا میرے گھر میں ؟ ولایت حسین کی حیرت کو بھانپتے ہوئے صالح محمد گویا ہوئے ، یار لوگوں سے سنا ہے کہ آپ کو میرے نانا جان کی زیارت مسلسل نصیب ہو رہی ہے ، یار لوگ کسی جملے کے بابت اکثر تذکرہ کرتے رہتے ہیں ، سوچا خود حاضر ہو کر آپ سے وہ جملہ سننے کا شرف حاصل کروں ۔
ولایت حسین صالح محمد کے اس تقاضے پر کچھ دیر تو خاموش رہا اور تھوڑی دیر بعد تقریباً کپکپاتے لبوں سے اتنا ہی کہہ پایا ۔ دنیا عشق مجازی کے متلاشیوں کو بھی عشق حقیقی کا دیوتا سمجھتی ہے ، اس کے بعد فضاء دو انسانوں کی ہچکیوں کی آواز کے بوجھ سے ایسے بھر گئی کہ یوں لگا کہ دنیا کا اختتام ہو گیا ہے ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker