سرائیکی وسیبظہور احمد دھریجہکالملکھاری

ماں بولی کا دن اور تاریخ کا سبق ۔۔ ظہور احمد دھریجہ

وہ کون انسان ہے جسے اپنی ماں بولی سے محبت نہ ہو ‘ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں ماں بولیوں کا دن نہایت ہی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور فروری کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو تقریبات کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے۔ دو دن قبل 17، 18 فروری 2018ءکو حسب سابق حکومت پاکستان کے ادارے لوک ورثہ اسلام آباد کی طرف سے ماں بولی کا قومی میلہ منعقد کیا گیا۔ یہ میلہ پاکستانی زبانوں کے حوالے سے نہایت ہی اہمیت کا حامل تھا ۔ سندھی، پنجابی، پشتو، بلوچی، سرائیکی ، ہندکو، پوٹھوہاری، براہوی، مارواڑی، بلتی، پہاڑی، خوار، گوجری، شینا، اردو ، سب رنگ موجود تھے۔ پاکستانی زبانوں اور ثقافتوں کا یہ گلدستہ بہت خوبصورت اور بھلا نظر آیا کہ سب کے اپنے اپنے رنگ تھے ‘ اپنی اپنی خوشبوئیںتھیں ۔ میلے میں منعقد کی گئی ورکشاپس ، سیمینارز ، کانفرنسوں اور کلچرل شوز کے ذریعے ایک دوسرے کی زبانیں سمجھنے اور ایک دوسرے کے قریب آنے کے مواقع ملے۔ ہم نے سرائیکی کی نمائندگی کی، سرائیکی کتابوں کا سٹال ‘ سرائیکی اجرکیں اور سرائیکی تصاویر پر مشتمل پینا فلیکس نمایاں نظر آئے۔ اس سے زیادہ خوشی کی بات یہ تھی کہ سندھی اجرک کے سٹال پر سرائیکی اجرک بھی فروخت ہو رہی تھی اور یہ سرائیکی اجرکیں حیدر آباد سے بن کر آئی تھیں۔ میں نے رب کا شکر ادا کیا اور سرائیکی دوستوں سعید اختر سیال، اکرم میرانی اور پروفیسر شمیم عارف قریشی کو بتایا کہ یہ وہی صاحب ہیں کہ جب میں سرائیکی اجرک بنوانے حیدر آباد گیا تو انہوں نے سرائیکی اجرک بنانے سے نا صرف انکار کیا بلکہ سرائیکی اجرک کا سیمپل واپس کرکے کہا کہ یہ نہیں چلے گی کہ یہ سندھی اجرک کے مقابلے کیلئے ہے۔ میں نے اُن سے کہا تھا کہ یہ مقابل نہیں متبادل ہے اور میں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کہتے ہیں یہ چلے گی نہیں ، میں کہتا ہوں کہ یہ رکے گی نہیں کہ یہ عظیم سرائیکی قوم کی پہچان ہے۔ لیکن اس صاحب کا غصہ کم نہ ہوا میں واپس آگیا لیکن آج ہمارے سندھی بھائی سرائیکی اجرک خود فروخت کر رہے ہیں، یہ سرائیکی قوم کی عظیم کامیابی ہے۔
میں نے لوک ورثہ کی کانفرنس میں اپنے مقالے میں کہا بدیسی زبانوں کے مقابلے میں دھرتی کی زبانوں کی اپنی حیثیت ہوتی ہے ۔ ابھی کل کی بات ہے ، فارسی نے پورے ہندوستان پر صدیوں تک راج کیا لیکن جونہی فارسی کو نافذ کرنے والے مغل حکمران گئے تو فارسی بھی چلی گئی ۔ لیکن اس کے مقابلے میں دبائے جانے کے باوجود دھرتی کی زبانیں ہمیشہ زندہ رہیں ۔ آنے والا وقت دھرتی کی زبانوں کا ہے اور پاکستان کا آئندہ بیانیہ ثقافتی پاکستان کے حوالے سے نظر آ رہا ہے ۔ سرائیکی جو کہ موجودہ پاکستان کی اصل وارث اور قدیم زبان ہے کو دارا اول سکندر اور رنجیت سنگھ سے انگریز سامراج تک ختم کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں مگر سرائیکی کو ختم کرنے والے خود ختم ہوگئے مگر سرائیکی آج بھی زندہ ہے اور پوری آب و تاب کے ساتھ انسان دوستی کے زمزمے بکھیر رہی ہے۔ 2013ءکے الیکشن میں ن لیگ کامیاب ہوئی تو سرائیکی کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا گیا کہ سرائیکی تحریک کو بھی ہم نے دفن کر دیا ۔ آج سرائیکی ادیبوں ، شاعروں ، فنکاروں اور سیاسی رہنماؤں کی جدوجہدکا نتیجہ ہے کہ لودھراں میں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف اپنی تقریروں کا آغاز سرائیکی میں کر کے فخر محسوس کرتے ہیں ۔ اسی طرح سرکاری سطح پر باغِ جناح لاہور میں بہت بڑا سرائیکی فیسٹیول منعقد کرایا گیا ہے جو کہ خوش آئند ہونے کے ساتھ ساتھ آنے والے نئے وقت کی نوید بھی دے رہا ہے کہ آنیوالا وقت سرائیکی کا ہے۔
ماں بولی کے عالمی دن کے حوالے سے پس منظر کے حوالے سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ1999ءمیں اقوام متحدہ نے 1952ءمیں شہید ہونے والے بنگالیوں کی یاد میں 21 فروری کو ماں بولی کا دن قرار دیا ہے، پوری دنیا میں یہ دن جوش ، جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے، یہ دن پنجابی و اردو تنظیمیں بھی مناتی ہیں، حالانکہ ان کو یہ دن ”یوم حساب“ کے طور پر منانا چاہےے کہ اس دن کی مجرم پنجابی و اردو اشرافیہ ہے، انہی کی ہٹ دھرمی اور انہی کے ظلم سے 21 فروری 1952ءکا واقعہ ڈھاکہ میں پیش آیا، انہی کی وجہ سے بنگالی طلبہ شہید ہوئے ، انہی کی وجہ سے مشرقی پاکستان الگ ہوا، یہی لوگ تھے جنہوں نے اردو مسلمانوں کی قومی زبان کا مصنوعی فلسفہ گھڑا، انہی کی وجہ سے 21 فروری کی ملامت ہمیشہ کیلئے پاکستان کے حصے میں آئی۔ پاکستان کو قائم اور باقی رکھنے کیلئے ضروری ہے ، ہر طرح کی نا انصافی کا خاتمہ کیا جائے، قوموں کو ان تاریخی ، ثقافتی، جغرافیائی اور معاشی حقوق دیئے جائیں ، لسانی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے، پاکستانی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے اور بدیسی زبانوں کو ان کے اپنے مقام پر رکھا جائے۔ بحیثیت زبان اردو یا پنجابی کا جتنا حق بنتا ہے انہیں ملنا چاہیے مگر دوسری پاکستانی زبانوں کو بلڈوز کرنے اور ان کی توہین کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے اور ریاست کسی بھی زبان کا جبری نفاذ نہ کرے
21 فروری کا سبق یہ ہے کہ ہمارے پاس غلطیوں کی مزید گنجائش نہیں۔
(بشکریہ :روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker