سرائیکی وسیبظہور احمد دھریجہکالملکھاری

ملتان سرائیکی صوبے کی تحریک کا حصہ کیوں نہیں بنتا ؟ ۔۔ ظہور دھریجہ

سولہ مئی 2018 کو جھوک سرائیکی ملتان میں سرائیکی جماعتوں کا اہم اجلاس ہوا، جس میں ”سرائیکستان صوبہ محاذ “کے نام سے نیا اتحاد وجود میں آیا۔ اجلاس میں مختلف سرائیکی جماعتوں نے شرکت کی اور فیصلہ ہوا کہ آج کے اجلاس میں جو جماعتیں یا ان کے رہنما شریک نہیں ہو سکے ان کو آئندہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی اور اتحاد کا حصہ بنایا جائے گا۔ اتحاد کے قیام بارے گفت و شنید کافی عرصہ سے جاری تھی اور پاکستان سرائیکی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری اکبر انصاری ایڈووکیٹ اس سلسلے میں سب سے زیادہ متحرک اور فعال تھے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے نیا اتحاد وجود میں آیا جس کے باعث سرائیکستان صوبہ محاذ کی اہمیت بڑھ گئی کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ سرائیکی شناخت پر حملہ تھا۔ سرائیکستان صوبہ محاذ سے پہلے سرائیکستان عوامی اتحاد کے نام سے 8سرائیکی جماعتوں کا اتحاد کام کر رہا تھا اس اتحاد نے چار سالوں میں تاریخی کامیابیاں حاصل کیں اور تاریخی سرائیکستان لانگ مارچ بھی کرایا مگر چند ایک ممبروں کی نادانی کی وجہ سے یہ اتحاد برقرار نہ رکھا جا سکا سرائیکستان صوبہ محاذ کوئی نیا نہیں ہے ، تقریباً چالیس سال پہلے سرائیکی صوبہ محاذ کے نام سے یہ محاذ پہلے بھی کام کرتا رہا ہے اور اس محاذ میں سیٹھ عبید الرحمن ، ریاض ہاشمی محروم کی قیادت میں ہم نے کافی عرصہ کام کیا۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ سرائیکی صوبہ محاذ نے بہاولپور صوبہ محاذ کے وجود سے جنم لیا۔ حقائق اس طرح ہیں کہ پنجاب کےحکمرانوں نے جب بہاولپور صوبہ تحریک کو طاقت کے زور پر کچل دیا تو ہمارے اکابرین ہاشمی صاحب اور سیٹھ صاحب نے بہالپور صوبہ محاذ ختم کر کے سرائیکی صوبہ محاذ قائم کیا۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اہل بہاولپور کی سرائیکی کیلئے بہت خدمات ہیں ، بہاولپور ہی وہ سر زمین ہے جس نے سب سے پہلے تخت لاہور کو للکارا اور اس کیخلاف عملی مزاحمت کی ، سرائیکی حوالے سے بہاولپور کو بہت بڑا کریڈٹ جاتا ہے لیکن اتنے بڑے کریڈٹ کو محمد علی درانی جیسے تخت لاہور کے ایجنٹوں نے خراب کیا اور انہوں نے مخصوص وسیب دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر سرائیکی صوبہ تحریک کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہوئے سرائیکی سے الگ ریاستی زبان کا نعرہ لگایا اور بہاولپور صوبے کی بات شروع کر دی، بہرحال ہم نے ان کے سازشی حملے کو بری طرح ناکام بنایا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ دراڑ ڈال کر سرائیکی صوبہ تحریک کو نقصان پہنچایا ۔ چونکہ میرا تعلق بہاولپور سے ہے میں ڈی آئی خاں ، ڈی جی خاں، میانوالی یا جھنگ جاﺅں تو مجھے لوگ بہاولپور صوبہ والوں کی غلط سوچ کے طعنے دیتے ہیں اور اس کے جواب میں مجھے وضاحتیں دینی پڑتی ہیں، اسی طرح بہاولپور والوں کو بھی ملتان سے شکایتیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بہاولپور صوبہ تحریک کے دوران جب تخت لاہور ہم پر گولیاں برسا رہا تھا ، ہمارے لوگ شہید ہو رہے تھے ، گرفتاریاں ہو رہی تھیں تو اپنے سرائیکی بھائیوں کی مدد تو کیا ملتان کے بڑے بڑے سیاستدانوں نے ہمدردی کے دو بول بھی نہ بولے ۔
گزشتہ روز سرائیکستان صوبہ محاذ کا اجلاس جاری تھا تو سرائیکی قومی اتحاد کے سیکرٹری جنرل نذیر کٹپال صاحب نے ملتان کے دوستوں کے رویے کی شکایت کی۔ اس وقت میں نے دست بستہ گزارش کی کہ ہم سب ایک ہیں، ہمارا پورا سرائیکی وسیب ایک ہے، اگر کسی علاقے کے کسی شخص کی غلطی ہے تو اُسے ذاتی طور پر سمجھانے کی ضرورت ہے مگر ایک آدمی کی سزا کے طور پر سارے علاقے کو گندا نہ کہا جائے،یہ بات اپنی جگہ ٹھیک ، لیکن یہ بھی دیکھئے کہ 13مئی 2018ءکو سرائیکی لوک سانجھ اور سٹوڈنٹس تنظیموں کی طرف سے ملتان میں سرائیکی صوبہ ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں افراد موجود تھے۔ ٹانک و ڈی آئی خان سے بہت بڑا قافلہ آیا ہوا تھا ، ریلی میں پورا سرائیکستان موجود تھااگر نہیں تھا تو ملتان نہیں تھا ۔ ریلی چوک کچہری سے ہوتی ہوئی اور گھنٹہ گھر تک آئی۔ ریلی کے شرکاءکا جوش و خروش دیدنی تھا ، شرکاءفلک شگاف نعرے لگا رہے تھے ، سڑک کے دونوں طرف دکاندار باہر نکل کر ریلی کا نظارہ کر رہے تھے لیکن افسوس کہ کسی ایک دکاندار نے بھی ہاتھ ہلا کر ریلی کو ویلکم نہ کیاان میں سے اکثریت سرائیکی دکانداروں کی تھی۔ میں یہ بات نہیں لکھنا چاہتا تھا لیکن مجھے دکھ اور صدمہ ہے کہ ٹانک ، ڈی آئی خان ، بھکر، لیہ ، ڈی جی خان اور صادق آباد تک کے لوگ اپنے کام کاج چھوڑ کر اپنے خرچے پر آئے ہوئے تھے اور اس صوبے کا مطالبہ کر رہے تھے جس صوبے کا دارالحکومت ملتان بنے گا،سب سے پہلا فائدہ بھی ملتان شہر کے لوگ اٹھائیں گے مگر افسوس کہ وسیب کے دوسرے شہروں کے لوگ صوبے کی جنگ لڑ رہے ہیں اور جنہوں نے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے وہ بیہوش ہیں۔ میں نے پہلے بھی کئی مرتبہ کہا کہ دو سو سالوں کے بعد خوش بختی ملتان کے دروازے پر آکر دستک دے رہی ہے مگر ملتانی ہیں کہ گھر سے باہر نہیں نکل رہے ،کتنی بے حسی کی بات ہے کہ پورا وسیب اہل ملتان کے سر پر تاج رکھنا چاہتا ہے لیکن ملتان والوں کا یا تو سر نہیں اور اگر ہے تو سوچ سمجھ سے خالی ہے، بہرحال یہ ایک بات تھی جو میں نے کر دی ، لیکن یہ بھی ہے کہ اُمید ملتانی مرحوم اورپروفیسر شوکت مغل جیسے چند ایک لوگ ملتان شہر سے ایسے بھی ہیں جنہوں نے سرائیکی زبان و ادب اور سرائیکی صوبے کیلئے بے پناہ بہت کام کیا ہے۔
اپنی تمام سرائیکی جماعتوں اور اپنے وسیب سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سرائیکستان صوبہ محاذ کا آئندہ اجلاس کوٹ مٹھن میں ہو رہا ہے ، عید کے فوری بعد دھریجہ نگر اور دیرہ اسماعیل خان میں سرائیکستان یکجہتی کانفرنسیں ہونگی ۔ آئندہ اجلاس میں نئے جماعتیں شامل ہوں گی اور سرائیکستان صوبہ محاذ میں شامل ہونیوالے رہنماﺅں کو عہدے دئیے جائیں گے ، کچھ دوست شکوہ کر رہے ہیں کہ ہمیں بائی پاس کیا گیا ، میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ انشاءاللہ سرائیکستان صوبہ محاذ میں سب شامل ہونگے کسی کو بائی پاس کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا ،کہ سرائیکی صوبہ تحریک کونسی پھولوں کی سیج ہے یہ تو کانٹوں کا سفر اور مسلسل اپوزیشن کا کردار ہے، یہ مراعات نہیں مسائل کی تحریک ہے، جو بھی دکھ بانٹنے آتا ہے اسے کون ویلکم نہیں کرے گا؟ میں نے اجلاس سے پہلے اور اجلاس کے دوران بھی یہی بات کی کہ ہمیں سب کو ساتھ لیکر آگے چلنا ہے ۔ ابھی سرائیکستان صوبہ محاذ کا اسٹرکچر بننا ہے ، منشور و آئین تیار ہوگا، قوائد و ضوابط بنیں گے ، ممبر سازی ہوگی۔ یہ تمام کام ہم سب نے ملکر کرنے ہیں ۔ حرف آخر کے طور پر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اپنے وطن وسیب اور صوبے کیلئے مل کر جدوجہد کرنی ہے۔ آج سے محض 14دن بعد (2جون 1818ء۔ 2جون 2018ء) سرائیکی پر رنجیت سنگھ کے قبضہ کو 200سال پورے ہو رہے ہیں ۔ یہ پورا سال ہم نے ”کالا ورہا“”Black Year“ کے طور پر منانا ہے اور تخت لاہور و تخت پشور کے قبضے سے اپنے وسیب کو آزاد کرانا ہے اور خصوصی طور پر اپنے نوجوانوں کو بتانا ہے کہ جو بات ہم بھولے ہوئے ہیں وہ قابض قوتوں کو یادہے کہ مجھے لاہور پریس کلب میں ایک پنجابی صحافی دوست نے کہا تھا کہ لاہور کی ترقی پر آپ لوگ کیوں چیخ چلا رہے ہیں، صوبہ ملتان تخت لاہورکا مفتوحہ علاقہ ہے اگر ہمت ہے تو مفتوحہ علاقہ واپس لے لیں، اگر نہیں تو پھر چیخ پکار نہ کریں کہ مفتوحہ علاقے کی ”ہر چیز “فاتح کے لئے مال غنیمت ہوتی ہے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker