ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

یوم دفاع اور سرائیکی وسیب (2):وسیب/ظہور دھریجہ

اہل ملتان خوش ہیں کہ ملتان کور کے درمیان یوم دفاع پاکستان کے موقع پر ایوب سٹیڈیم میں شہریوں کے لئے دو روزہ جنگی ساز و سامان کی نمائش شہریوں کی دلچسپی کا باعث ہے ۔ نمائش میں جدید اسلحہ ، گن شپ ہیلی کاپٹر، فائٹر ایئر کرافٹ، ٹینک ،راڈار سسٹم ، مشین گنز، برج فیلڈ ہسپتال اور دیگر سامان موجود ہے۔ نمائش میں خواتین و حضرات خصوصاً سکول و کالج کے طلبہ بہت زیادہ دلچسپی لیتے ہیں ۔ نمائش کے موقع پر وطن کی محبت سے سرشار ملی نغمے نوجوانوں کے دلوں میں ولولے بکھیرتے ہیں اور ہر شخص وطن کی مٹی کی محبت سے سرشار ہوتا ہے ۔فوجی بینڈ کی دھنیں نوجوانوں کو فوج میں شمولیت کی دعوت دیتی نظر آتی ہیں ۔ وسیب کا بچہ بچہ وطن کی محبت سے سرشار ہے ۔ ضروری ہے کہ اس موقع پر سرائیکی دھنوں میں گائے گئے ملی نغموں کا بھی اہتمام ہونا چاہئے اور وسیب میں کیڈٹ کالجوں کے قیام کے ساتھ ساتھ وسیب کے نوجوانوں کو فوج میں کمیشن حاصل کرنے کے مواقع مہیا کئے جانے ضروری ہیں ۔ اس کیلئے جس طرح سندھ رجمنٹ وجود میں لائی گئی،اسی طرح وسیب رجمنٹ ضروری ہے ۔ سرائیکی وسیب کے لوگ ایک عرصے سے مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ پاک آرمی میں وسیب کے لوگوں کو بھی خدمات کے مواقع ملنے چاہئیں ۔ جس طرح کہ سندھ میں سندھ رجمنٹ وجود میں آئی ، اسی طرح وسیب رجمنٹ بھی ہونی چاہئے تاکہ وسیب کے پڑھے لکھے نوجوان کمیشن حاصل کر کے خدمات سر انجام دے سکیں ۔ وسیب کے لوگوں کا یہ مطالبہ ان کی حب الوطنی پر مبنی ہے ۔ ان کے مطالبے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان سے بھی محبت کرتے ہیں اور آرمی سے بھی محبت کرتے ہیں ۔ وسیب میں کیڈٹ کالج قائم نہیں ہو سکے ، کیڈٹ سازی میں کیڈٹ کالجوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ جس طرح حکومت نے بلوچستان کے لوگوں کو پاک آرمی میں شمولیت کیلئے مواقع مہیا کئے ہیں ، اسی طرح سرائیکی وسیب کے لوگوں کو بھی پاک آرمی میں شمولیت کے مواقع ملنے چاہییں ۔ حکومت نے بلوچستان کی پسماندگی ختم کرنے کیلئے آغاز حقوق بلوچستان کے نام سے پلان شروع کیاہوا ہے ‘ اسی طرح کا پلان سرائیکی وسیب کے لئے بھی ہونا چاہئے ، وسیب رجمنٹ کا مطالبہ اس لئے بھی جائز اور درست ہے کہ سرائیکی ریاست بہاولپور کی رجمنٹ موجود تھی ، ریاست کے پاکستان میں ضم ہونے پر وہ رجمنٹ پاک آرمی کا حصہ بنی ۔ اگرایک طرف سندھ کے لوگوں کو پاک آرمی میں نئی رجمنٹ کے قیام کی سہولت دی گئی ہے تو وسیب کا حق اس لئے زیادہ بنتا ہے کہ بہاولپور رجمنٹ پہلے سے موجود تھی اور اس کے افسران اور عام سپاہی بھی انگلینڈ سے تربیت یافتہ تھے ۔ سابق ریاست بہاولپور کی افواج کا پس منظر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ’’پہلی جنگ کابل 1837ء شاہ شجاع کو کابل کے تخت پر بحال کرنے کی غرض سے بہاولپور کی ریاستی افواج نے خدمات پیش کیں ۔ اسی طرح دوسری جنگ کابل 1879ء میں بھی ریاستی افواج کا ذکر ملتا ہے۔ جنوبی افریقہ کی جنگ کے لئے بھی بہاولپور کے جنگی گھوڑوں نے حصہ لیا ۔ نواب محمد بہاول خان سوم نے ریاست بہاولپور کی افواج پر بہت توجہ دی اور فوجیوں کا انتخاب میرٹ پر کیا ۔ فوج میں بھرتی کیلئے فوجی کے پس منظر کو بھی سامنے رکھا جاتا۔ جیسا کہ ریاستی فوج میں چانڈیہ ، کھوسہ ، داؤد پوتہ ، دشتی ،شراور جتوئی قبائل کے لوگ قابلِ ترجیح رہے ۔ 1866ء میں نواب محمد بہاول چہارم کی وفات پر قائم ہونیوالی برطانوی ایجنسی نے فوج کی انتظامیہ کو ٹھوس بنیادوں پر مستحکم کیا ۔ نومبر 1879ء میں نواب صادق چہارم کو حکمرانی کے اختیار ملے تو انہوں نے بھی ریاستی افواج کی ترقی پر توجہ دی ۔ 1888ء میں نئی اصلاحات لائی گئیں ۔ اسی طرح 1890ء میں میجر ڈرومنڈ کی سفارش پر مزید بہتری لائی گئی ۔ 1900 ء میں جنگ چین شروع ہونے پر ریاست بہاولپور نے حکومت کو افواج کی خدمات پیش کیں ۔ نظام رجمنٹ کا قیام 1901ء میں عمل میںآیا۔ ریاستی فوج نے 1904ء میں میڈیکل کا شعبہ قائم کیا گیا۔ اس سال 5760مریضوں کا علاج کیا گیا۔‘‘ (بحوالہ کتاب: ریاست بہاولپور، مصنف ملک محمد دین) قوموں پر جب بھی مشکل وقت آتا ہے تو جواں ہمت انسانوں نے جہاں بہادری کے جوہر دکھائے وہاں شاعر ،ادیب ، فنکار کسی سے پیچھے نہیں رہے ۔قومی امنگوں کو اجاگر کرنے اور قوم میں جذبہ حریت پیدا کرنے کی غرض سے 6 ستمبر 1965ء میں شعراء نے ملی اور رزمیہ گیتوں ، نظموں اور خصوصاً غزلوں اور غزل نما ترانوں کے ذریعے اپنے جذبہ حب الوطنی کا جو یادگار ثبوت فراہم کیا ہے وہ نہ صرف یہ کہ ایک قومی شعری سرمائے کے طور پر محفوظ ہو چکا ہے۔ بلکہ پوری قوم کے جذبات کی نمائندگی کرنے والے ہمارے شعراء کے قومی و ملی جذبہ کی ایک ایسی مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رہے گا جس کا کوئی نعم البدل نہیں ۔1965ء کی جنگ کے موقع پر مسعود رانانے حمایت علی شاعر کے لکھے ’’ جاگ اُٹھا ہے سارا وطن ‘‘ ترانے گائے ۔ اس کے علاوہ ولی صاحب کا ’’ یہ غازی کا قافلہ ‘‘ ، جوش ملیح آبادی کا ’’ اے وطن ہم ہیں تیری شمع ‘‘ ، آشور کاظمی کا ’’ نعرہ حیدری ‘‘ بریگیڈیئر ضمیر احمد جعفری کا ‘‘ زندہ باد اے وطن کے غازیوں ‘‘ اور حبیب جالب کا لکھا ’’ کر دے گی قوم زندہ‘‘ ترانے گائے ۔ بہت سے دوسروں کے ساتھ مہدی حسن نے ’’ اپنی جاں نذر کرو ، اب فتح مبین ہے، وطن کی آبرو رکھ لی ، سیالکوٹ کے میدان خاردار کو دیکھ ، اس قوم کی شمشیر کی حاجت نہیں ہرتی ، تو نگہبان چمن ہے، ہم پسندوں کو نہیں جنگ گوارا، پاک شاہینوں کو سلام‘‘، عنایت حسین بھٹی نے ’’ وطن کو تم پر فخر ہے ، اے مرد مجاہد جاگ ذرا ، قدم بڑھاؤ ساتھیو اور زندہ دلوں کا گہواراہ ہے ، سرگودھا میرا شہر ‘‘ جیسے ترانے گائے ۔ عالم لوہار نے ’’ جگنی پاکستان دی ، ساڈے شیراں پاکستان دی ، جنگ دی جگنی ‘‘ جیسے فوک نغمے گائے۔ مجیب عالم نے ’’ اے میرے وطن ، پاکستان کے سارے شہروزندہ رہو پائندہ رہو ‘‘ اوراستاد امانت علی خان نے ’’ اے وطن تجھ کو جنت بنائیں گے ہم، وطن پاک کی عظمت کے سہارے ہو تم اور اے شہیدان وطن تم پر سلام ‘‘ رونا لیلی نے ’’ تم کو سلام میرا اور وطن کی راہ میں جو مرتے ہیں ‘‘ جیسے ملی و جنگی ترانے گا کر نہ صرف عوام بلکہ افواج کے لہو کو گرمایا اور ان میں جذبہ حب الوطنی اجاگر کیا ۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی زبانوں سندھی ،پنجابی ، بلوچی ، پشتو کے ساتھ ساتھ سرائیکی میں بھی بہت سے ترانے لکھے گئے ، ریڈیو پاکستان کے مختلف اسٹیشنوں پر نشر ہوتے رہے ۔ شاعروں ، ادیبوں اور اہل قلم کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker