ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

وزیراعلیٰ سے مخدوم شاہ محمود قریشی کی ملاقات۔۔ظہوردھریجہ

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے کہا کہ جنوبی پنجاب کیلئے علیحدہ سیکرٹریٹ کا قیام اگلے مالی سال میں عمل میں آجائے گا۔ بہاولپور کے بعد کابینہ کے اجلاس دیگر ڈویڑنوں میں بھی منعقد کریں گے۔ اس ملاقات کے دوران صوبے کا کوئی ذکر نہیں۔ تحریک انصاف نے صوبے کا وعدہ کر رکھا ہے، منشور میں بھی صوبے کا ذکر موجود ہے اور وسیب سے ووٹ بھی صوبے کے نام پر لیے گئے۔ سیکرٹریٹ بنانے سے کسی نے نہیں روکا مگر سیکرٹریٹ صوبے کا متبادل نہیں۔ سیکرٹریٹ سے چند چھوٹے ملازمین کو شاید تھوڑا فائدہ ہو جائے مگر وسیب کا مسئلہ حل نہ ہوگا۔ این ایف سی ایوارڈ، سی ایس ایس کا کوٹہ، صوبائی ملازمتوں کا کوٹہ، الگ ہائیکورٹ اور دیگر اہم امور صرف صوبے کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ حکومت بار بار سیکرٹریٹ کا ذکر کرر ہی ہے ، وسیب کے لوگوں کو خوف آنے لگا ہے کہ یہ پانچ سال بھی لولی پاپ میں گزار دیئے جائیں گے ، بعض تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اب ن لیگ اپنی ضرورت کے تحت صوبہ بنانا چاہتی ہے ، تحریک انصاف رکاوٹ ہے اور طارق چیمہ وغیرہ کو ایک سکیم کے تحت صوبے کے مسئلے کو متنازعہ بنانے کا کام سونپا گیا ہے ،ان خدشات اور وسوسوں کو صوبے کے اقدامات سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی کابینہ کا وزیر اپنے کپتان سے مختلف بولی بولے تو سمجھ لیجئے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ میں نے بہت عرصے پہلے ان کالموں میں لکھا تھا کہ صوبے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے دوسری رکاوٹوں کے علاوہ سرائیکی صوبے کے نام پر بھی رکاوٹیں پیدا کریں گے۔ اور اس پر سیاست کریں گے۔ آج وہی ہو رہا ہے حالانکہ دنیا کے اکثر ممالک کے نام ان کی لسانی و ثقافتی شناخت کے مطابق ہیں یہ آج سے نہیں بلکہ صدیوں سے ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ بتاتے ہیں کہ جب سے کائنات وجود میں آئی ہر قوم اور ہر قبیلے کی شناخت بھی وجود میں آئی۔ قرآن مجید میں بھی یہی حکم ہے کہ قومیں اور قبیلے شناخت کیلئے بنائے گئے۔ سرائیکی صوبے کے نام پر اعتراض کرنے والے کیا اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ چین جاپان امریکا فرانس جرمن یونان اور اس طرح کے سینکڑوں ممالک ان لسانی ثقافتی اور تہذیبی شناختی کے مطابق ہیں۔ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو جناب غیر اسلامی ممالک ہیں آپ اسلامی ملکوں کی مثال دیں تو کیا وہ اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ اسلامی ملکوں میں سعودی عرب، عرب قوم، ایران آریہ قوم، افغانستان افغان قوم، بنگلہ دیش بنگالی قوم، تاجکستان تاجک قوم، ترکمانستان و ترکی ترک قوم، ازبکستان ازبک قوم اور بہت سے دوسرے اسلامی ممالک ان کی تہذیبی لسانی اور ثقافتی شناخت کے مطابق موجود ہیں۔ اب سرائیکی زبان اور اس کے نام پر اعتراض ہو رہے ہیں ، جبکہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ابوالفضل کی کتاب آئین اکبری میں ہندوستان کی چند معروف اور مستند زبانوں کے جو نام گنوائے گئے ہیں اس کی تفصیل یہ ہے، دہولی، بنگالی، ملتانی، مارواڑی، گجراتی، تلنگی، کرنا ٹکی، سندھی، افغانی، شال، بلوچستانی اور کشمیری۔ اس تفصیل میں پنجابی یا لاہوری زبان کا کوئی ذکر نہیں، لاہور سے بھی آگے تک علاقہ ملتانی تہذیب ( جسے آج سرائیکی کہا جاتا ہے) کا حصہ تھا اور اس سارے علاقے میں سرائیکی بولی جاتی تھی تاریخی طور پر لاہوری زبان و تہذیب سرائیکی کا حصہ رہی ہے تاریخ کی مشہور کتاب”سیر المتاخرین“ مطبع نامی گرامی نول کشور( 1871ئ) ترجم گوگل پرشاد صفحہ 60 تا63 میں صوبہ لاہور اور صوبہ ٹھٹھہ وغیرہ کے صوبہ ملتان کا ذکر اس طرح ہے۔ اول دوم و سوم اقلیم سے فراخ بلکہ زیادہ کیونکہ ٹھٹھہ کا علاقہ اس صوبہ پر زیادہ ہوا ہے، فیروز سے سبوستان تک چار سو تیس کوس لمبا، اور چتوڑ سے جیسلمیر تک ایک سو آٹھ کوس چوڑا ہے، دوسری طرف سے کیچ اور مکران تک چھ سو ساٹھ کوس ہے، اس کے خاور رویہ سرکار سرہند سے ملا ہوا ہے اور شمالی دریائے شور اور جنوبی صوبہ اجمیر میں اور باختر کیچ اور مکران ہے۔ پورے ملک میں سرائیکی صوبے کے حوالے سے جو بحث ہو رہی ہے اس میں سب سے اہم مسئلہ صوبے کے نام اور اس کی حدود کا ہے، سرائیکی صوبہ سرائیکی وسیب میں بننا ہے اور سرائیکی وسیب کے لوگوں کیلئے بننا ہے سرائیکی صوبے کا نام بھی موجود اور سرائیکی صوبے کی حدود کا نقشہ بھی موجود ہے، لیکن کچھ لوگوں کی نیت ٹھیک نہیں ، اس لئے روڑے اٹکاتے جارہے ہیں۔ پہلے سرائیکی صوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ن لیگ تھی ، اب تحریک انصاف ہے۔ ن لیگ والے کہتے تھے کہ لسانی بنیاد پر صوبہ نہیں بننے دیں گے انتظامی صوبے کی بات کرو۔ حالانکہ آئین میں انتظامی صوبے کا کوئی ذکر نہیں، آئین کے تحت نیا صوبہ اسی طرح کا صوبہ بنے گا جس طرح دوسرے صوبے ہیں۔ جناب طارق بشیرچیمہ اور دوسرے صاحبان کہتے ہیں کہ انتظامی صوبے ہونے چاہئیں حالانکہ انتظامی صوبے وحدانی طرز حکومت میں ہوتے ہیں ، فیڈرل سسٹم میں فیڈرل اکائی ہوتی ہے، انتظامی نہیں۔ فیڈریشن کے آئین میں انتظامی صوبے کی گنجائش نہیں، بلتستان کا حوالہ دیا جاتا ہے تو وہ علاقہ غیر ہے، اس کی وہ پوزیشن نہیں جو سرائیکی خطہ کی ہے۔ طارق بشیر چیمہ اور دوسرے لوگ جو سمجھتے ہیں اس کا تو سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ صوبہ نہیں بنانا چاہئے ، صوبے کے مسئلے کو زیر التوا رکھنا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو اس پر غور کرنا چاہئے اور وسیب کے لوگوں کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ اس سلسلے میں مشاورت و ڈائیلاگ سیاسی جماعتوں کے ساتھ وسیب سے بھی کرنے چاہئیں۔ دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی گر کچھ مشورے باہم نہ ہونگے
(بشکریہ:روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker