پی ٹی آئی کے مومنین ، ایثار کی روایت اور پیاسا کتا ۔۔ علی نقوی


ali naqvi
  • 24
    Shares

پی ٹی آئی نے جہاں کئی ایک انقلابی اقدامات کئے ہیں وہیں ایک انقلابی قدم ایسا بھی لیا گیا کہ جس کی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ یہ انقلابی قدم تاحال پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کی نظروں سے بھی اوجھل ہے، یہ انقلاب اس وقت دیکھنے میں آیا کہ جب آنے والے انتخابات کی ٹکٹیں تقسیم ہوئیں اور ہم نے دیکھا کہ ایثار اور قربانی کی وہ مثال قائم ہوئی جو پاکستان تو کیا ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے دنیا کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ، کہ جب قومی اسمبلی کی 173 ٹکٹوں میں سے باقی جماعتوں سے آنے والے مہاجرین کے لئے 148 ٹکٹیں اور پی ٹی آئی کے انصار کے لئے صرف 25 ٹکٹیں مختص کی گئیں ۔ پی ٹی آئی میں پہلے سے موجود مومنین نےجوق در جوق آنے والوں کے لئے جگہ چھوڑ کر اس نئے پاکستان کی عملی بنیاد رکھ دی جس کا تذ کرہ قائد تبدیلی بارہا کر چکے ہیں۔ جناب معاملہ یہاں رکا نہیں بلکہ قربانی اور ایثار کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے موجودہ قائدین (شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین) نئے آنے والوں کے لیے جگہ بناتے بناتے آپس میں بھی الجھ بیٹھے اور اسی الجھاؤ میں نئے آنے والوں کے لیے اتنی جگہ بنی کہ اس میں شاہ محمود کا وہ بیٹا بھی فٹ ہوگیا کہ جس کو اپنے حلقے کے کل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد بھی ٹھیک سے معلوم نہیں ۔ انصارانِ تحریک انصاف( جن میں انصاری برادری کے لوگ قابل ذکر ہیں ) پیچھے ہٹتے ہٹتے یہاں تک پہنچے کہ علی محمد خان جیسے صف اول کے مجاہد نے ٹکٹ لینے سے یہ سوچ کر انکار کردیا کہ شاید کوئی بھوکا پیاسا بے حال مجاہد ابھی راستے میں ہو اور کسی بھی وقت تیل کی دھار یا امپائر کی انگلی دیکھ کر نئے پاکستان کی ٹرین کے پلیٹ فارم تک پہنچ جائے اور ایسا نہ ہو کہ نئے پاکستان کے تمام ٹکٹس ختم ہو چکے ہوں۔۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے مشرکانہ اقدامات سے تنگ آئے ہوئے تمام مجاہدین اب ان شیطانی قوتوں کے چنگل سے نکل کر قائد تبدیلی کے جھنڈے تلے جمع ہو چکے ہیں لہذا اب نئے پاکستان کی بنیاد اس ریاست کی طرز پر رکھی جائے گی جس کا وعدہ عمران خان کئی بار قوم سے کر چکے ہیں۔ اسلامی فلاحی ریاست جہاں کوئی کتا بھی پیاسا نہ رہے گا کہ کالا باغ ڈیم جو بن جائے گا ۔

Views All Time
Views All Time
425
Views Today
Views Today
3
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*