آنچلڈاکٹر فرزانہ کوکبلکھاری

یوم مئی اور محنت کش خواتین ۔۔ ڈاکٹر فرزانہ کوکب

یکم مئی کا دن ہمیں مزدوروں کی اس جدوجہد کی یاد دلاتاہے جو انہوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کی خاطر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف کی تھی۔ 1884ء میں امریکا کے شہر شکاگو میں ورکرز نے روزانہ آٹھ گھنٹے اوقات کار مقرر کرانے اور اپنی آزادی انجمن سازی کے بنیادی حقوق منوانے کی جدوجہد میں ہڑتالی ریلی نکالی۔ جس میں پولیس کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں بہت سے ورکرز مارے گئے۔ اس روز کی یاد میں دنیا بھر کے 80 ممالک میں شکاگو کے مزدوروں کو خراج تحیسن پیش کرنے کے لیے اس دن کو ایک یاد کی صورت میں منایا جاتا ہے۔ برسلز میں منعقدہ ایک میٹنگ میں یکم مئی کو منانے کے لیے باقاعدہ طور پر اس دن کو لیبر ڈے کا نام دیا گیا تھا۔
پاکستان میں بھی مزدور پالیسی کا آغاز 1972ء میں ہوا اور یکم مئی کو مزدوروں کے دن کا نام دیا گیا۔تاریخ کے اسی تسلسل میں 1917ء میں روس میں برپا ہونے والا بالشویک انقلاب نہ صرف سرمایہ داری بلکہ بادشاہت اور جاگیر داری کے خلاف محنت کش طبقہ کی پہلی فتح تھی۔ اس انقلاب کا آغاز روس کے ایک شہر سینٹ پیٹرز برگ میں واقع ایک فیکٹری کی محنت کش خواتین کی ہڑتال سے ہوا۔ جس میں پہلے مرحلہ میں خواتین مزدوروں نے سڑکوں پر آکر تشدد کے لیے بھیجے گئے فوجی جوانوں کو گولی نہ چلانے پر راضی کرلیا۔ جو کہ بعد میں ایک انقلابی بغاوت کی صورت اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں پھیل گیا لہٰذا یہ بالکل ایک واضح حقیقت ہے کہ یکم مئی خالص مزدوروں کا نہیں بلکہ محنت کش عورتوں کا دن بھی ہے۔ جو مردوں کے برابر معاشی میدان میں اپنے حصہ کا کردار ادا کررہی ہیں۔ ہمارے ملک کی 52 فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ اور نصف سے زیادہ اس آبادی کا بھی 70 فیصد محنت کش خواتین پر مشتمل ہے۔
ان مزدور اور محنت کش عورتوں میں گھروں میں اجرت پر کام کرنے والی عورتیں بھی شامل ہیں۔ گھر میں بیٹھ کر کام کرنے والی خواتین بھی بھی جو مختلف فیکٹریوں، صنعتوں، فارماسیوٹیکل اور دیگر ادویہ ساز کمپنیوں وغیرہ سے خام مال لاکر گھروں میں مصنوعات تیار کرتی ہیں۔ نیز سلائی کڑھائی، دیگر دستکاریاں اور مختلف النوع اشیاء تیار کرتی ہیں اور وہ خواتین بھی ہیں جو گھروں سے باہر مردوں کے شانہ بشانہ کھیتوں میں اور بھٹوں پر کام کرتی ہیں۔ مزید برآں تعمیراتی پراجیکٹس میں مردوں کے ہمراہ ریت بجری ڈھونے ، پتھر کوٹنے کی مزدوری بھی کرتی ہیں۔
مختلف سروے رپورٹس کے مطابق وطن عزیز کی 18 کروڑ آبادی میں صرف 14 فیصد شہری ایسے ہیں جن کے پاس باقاعدہ ملازمتیں ہیں جبکہ 87 فیصد شہریوں کی زندگی کا دارومدار اتفاقیہ آمدنی پر ہے۔ محنت کشوں کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مذکورہ بالا شعبوں میں محنت کش خواتین میں سے بھٹہ پرتقریبا 35 فیصد، زرعی شعبہ میں48 فیصد قالین بافی میں 62 فیصد اور غیر رسمی شعبہ میں 85 فی صد خواتین انتہائی برے حالات میں غربت اور معاشی بدحالی کی وجہ سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔
مذکورہ بالا مختلف شعبوں میں کام کرنے والی محنت کش خواتین کو مختلف پہلوؤں سے متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک بڑا اور اہم مسئلہ تو یہ ہے کہ زرعی شعبہ، ہوم بیسڈ ورکرز، غیر رسمی اور دیگر شعبوں کے لیے اب تک کوئی قانون ہی نہیں بنا۔ جس کے باعث یہ خواتین باقاعدہ ملازم کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہوتیں۔ فیکٹریوں اور چھوٹی صنعتوں میں کنٹریکٹ اور سب کنٹریکٹ کے تحت کام کرتی ہیں۔ جہاں انہیں باقاعدہ تقرر نامہ بھی نہیں دیا جاتا۔ جس کے باعث انہیں نہ تو مستقل ملازم کی حیثیت سے اجرت دی جاتی ہے اور نہ ہی قوانین محنت کے تحت ملنے والی مراعات سے مستفید ہوسکتی ہیں۔ حالانکہ حکومت پاکستان نے آئی۔ایل۔او۔ کے 36 کنونشز کو منظور کیا ہے۔ مگر تاحال ان کے تحت محنت کش خواتین کی حالت زار میں بہتری کے لیے کوئی قابل ذکر اقدامات عملی سطح پر نہیں اٹھائے جاسکے۔
ہمارے سماج میں صنفی امتیاز بھی ان محنت کش خواتین کے استحصال کا باعث ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ سال 2014 میں عالمی اقتصادی فورم کی جانب سے جاری صنفی امتیاز کی فہرست میں پاکستان کو یمن کے بعد صنفی مساوات کے حوالے سے دنیا کا دوسرا بدترین ملک قراردیاگیا ہے۔ حالانکہ قیام پاکستان کے آغاز میں ہی خواتین کو سرکاری سطح پر برابر کا شہری تسلیم کرلیا گیا تھا اور وطن عزیز کے آئین 1958ء اور 1973ء میں بھی معاشرتی حقوق میں مساوات اور صنفی امتیاز کے خاتمہ کی ضمانت دی گئی ہے۔ لیکن پدرشاہی اقدار پر مبنی نظام اور سماج ابھی تک عورت کو بحیثیت انسان مساوات یا برابری کا درجہ دینے کو تیار نہیں۔ حتیٰ کہ ٹریڈ یونیز اور لیبر یونیز میں بھی صنفی امتیاز کے غلط اثرات کے باعث محنت کش عورتوں کو مناسب اور مر مؤثر نمائندگی نہیں دی جاتی اور ان کے مسائل کے ادراک اور ان کے حل کے لیے اقدامات اٹھانے سے اغماض برتا جاتا ہے۔
پاکستان میں غیر سرکاری تنظیموں کے اندازوں کے مطابق ملک بھر میں خام مال لاکر مصنوعات تیار کرنے والے ہوم بیسڈ ورکرز کی تعداد دوکروڑ کے لگ بھگ ہے۔ جن میں ایک کروڑ بیس لاکھ خواتین ہیں۔ تاہم غیر رسمی شعبہ میں کام کرنے والے ان مزدوروں کو 67سال بعد بھی باقاعدہ مزدور کا درجہ مل سکا اور نہ ہی ان کے حقوق اور زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی قانون موجود ہے۔
اس تلخ اور افسوسناک صورت حال کا سامنا گھروں میں اجرت پر کام کرنے والی عورتوں کو کرنا پڑتا ہے۔
اس حوالے سے ایک الم ناک اور انسانیت سوز پہلو گھریلو بالخصوص کم سن ملازماؤں پر مختلف نوعیت کا تشدد بھی ہے۔ گھریلو ملازماؤں اور مختلف شعبوں میں محنت کش خواتین کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرنا، بے عزت کرنا اور ان کی تحقیر کرنا ہمارے معاشرے کا ایک عام وطیرہ ہے۔ جبکہ اپنے اہل خانہ گھر کے مردوں اور رشتہ داروں کی طرف سے بھی تحقیر، بے عزتی اور گھریلو تشدد کو بھی ان مجبور خواتین کی زندگیوں کا لازمہ بنا دیاگیاہے۔
زراعت کے شعبہ میں کام کرنے والی عورتوں کی حالت زار دوسرے شعبوں کی محنت کش خواتین سے مختلف نہیں۔ برطانیہ کے ایک معروف تھنک ٹینک او ڈی آئی کے مطابق ایشیاء بھر میں دیہی مزدوروں کی اجرتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ پاکستان ان چند ایشیائی ممالک میں سے ایک ہے۔ جہاں گذشتہ دس برسوں کے دوران زرعی شعبہ میں مزدوروں کے معاوضہ میں اضافہ کی بجائے کمی ہوئی ہے۔ جبکہ خواتین کو اجرت میں مزید کمی روا رکھی جاتی ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی تقریباً 76 فیصد خواتین کھیتی باڑی کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ ان کی گزر بسر اور گھر کے روز گار کا انحصار اسی پیشے سے وابستہ ہے۔ جس کے سبب وہ یہ کام چھوڑ نہیں سکتیں جبکہ محصولات کا یہ حال ہے کہ چنائی کے بعد خواتین کو نقد ادائیگی کی بجائے ایک رسید جس پر انفرادی چنائی کا وزن درج ہوتا ہے۔ تھمادی جاتی ہے اور ریٹ کا فیصلہ فصل کے منڈی میں اچھے داموں فروخت ہونے کے بعد بھی تاجر کی مرضی سے مشروط ہوتا ہے۔ ورنہ جانوروں کے لیے چارہ دے دیا جاتا ہے۔ یا ادائیگی کو کئی مہینوں تک ملتوی کردیا جاتا ہے۔
کھیتوں اور باغات میں گرم سرد موسموں کی شدت میں سارا سارا دن کام کرنا بہت ہمت اور صبر آزما عمل ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ کام کے دوران لو لگ جانا، سانپوں کا ڈسنا، چنائی کے دوران زہریلے کیڑے مکوڑوں کا کپڑوں اور جسموں سے چمٹ جانا، کپاس کے سخت پھولوں سے ہاتھوں کا کٹنا، اور کیڑے مار ادویہ کے مضراثرات کا شکار ہونا جیسے خطرات سے چھٹکارا پانا تقریباً ناممکن ہے۔
عورت فاؤنڈیشن کی نبیلہ شاہین کا بھی یہی کہنا ہے کہ محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ پنجاب ویمن پیکج پر عمل کررہا ہے مگر آج بھی کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کو مناسب اجرت نہیں ملتی۔
درحقیقت ایک طبقاتی اور استحصالی بنیادوں پر قائم نظام میں عورت کے ساتھ مزید ناانصافی اور حق تلفی کی جڑیں مادر سری نظام کے خاتمہ اور پدرسری نظام کے آغاز سے جاملتی ہیں۔ جب ضرورت سے زائد پیداوار اور اس کی ملکیت کے سوال کے ابھرنے کے ساتھ ہی طبقاتی معاشرہ کا آغاز ہوا۔ جس نے عورت کو مجبوری اور محکوم بنانے کی بنیادیں فراہم کیں۔ غلام داری، جاگیرداری اور پھر سرمایہ داری درحقیقت ملکیتی رشتوں پر مبنی نظام ہیں اور انہوں نے عورت پر استحصال کی بدترین شکلوں کو جنم دیا ہے۔ اس لیے ملکیتی رشتوں پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام اور سرمایے کے جبر کا خاتمہ عورتو ں کی غلامی سے آزادی کی پہلی شرط ہے۔ اور اس کے لیے محنت کش خواتین کو نہ صرف اپنے محنت کش ساتھیوں کے ساتھ اس نظام کے مکمل خاتمے کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی بلکہ اپنے معا شی حقوق کے حصول کے لیے بھی پوری آگہی کے ساتھ منظم کوشش او رہمت سے کام لینا ہوگا۔ کیونکہ خواتین کی معاشی اور سماجی آزادی اور خود مختاری طبقاتی نظام کی تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ سرمایے کے جبر کے خاتمے سے ہی انسان آزاد ہوسکتا ہے اور تب مرد عورت کا مرتبہ یکساں اور اختیار برابر کرکے اور حقوق میں مساوات قائم کرکے ایک متوازن، صحت مند معاشی طور پر مضبوط اور ترقی یافتہ خوشحال سماج کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker