تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

فوج کا ٹویٹ ، ردعمل اور بے بس سیاست دان ۔۔ سید مجاہد علی

آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کے ٹویٹ اور اس کے بعد ملک کے سیاستدانوں، مبصروں اور تجزیہ کاروں کے تبصروں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک میں کسی بھی معاملہ میں غیر ضروری مباحث کو اہمیت دینے کا رویہ راسخ ہے جبکہ اصولی موقف اختیار کرنے اور اس پر اصرار کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کے مختلف ادارے اپنی صلاحیت اور اختیار سے تجاوز کرتے ہیں اور انہیں یہ رویہ اختیار کرنے پر تائد و حمایت کرنے والے بھی میسر آ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال پاناما کیس کے حوالے سے دیکھی جا چکی ہے جس میں سپریم کورٹ نے معاملہ کی خالصتاً سیاسی نوعیت ہونے کے باوجود سیاسی پارٹیوں کے دباؤ کی وجہ سے اس کی سماعت کا آغاز کیا اور نواز شریف اور ان کے خاندان کے مالی معاملات کی تحقیقات کے بغیر ہی بینچ میں شامل دو ججوں نے دو ٹوک فیصلہ صادر کر دیا۔ باقی تین نے اگرچہ اس حد تک جانے سے گریز کیا لیکن یہ واضح کر دیا کہ وزیراعظم قابل اعتبار نہیں اور ان کے خلاف سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات ہونی چاہئیں۔ حکومت ، اپوزیشن اور ماہرین فیصلہ کے من پسند حصوں کے حوالے سے تبصرے اور موقف اختیار کر رہے ہیں لیکن ملک کے اعلیٰ ترین قانون دانوں نے بھی یہ سوال اٹھانے سے گریز کیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم کے کیس میں تحقیقاتی ادارے کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے کیوں کر عدالت عظمیٰ کے دائرہ کار کے مطابق سمجھا جائے گا۔ ایک فرد کے خلاف اگر سپریم کورٹ تحقیقات کروا رہی ہے تو اس سے سب کے ساتھ مساوی سلوک کا اصول کیوں کر مستحکم ہوگا۔ اسی طرح تحریک انصاف اور متفرقین نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف الزامات لے کر عدالت گئے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ ان کے پاس وزیراعظم کے خلاف بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے ثبوت موجود ہیں۔ وہ اپنے الزام ثابت نہیں کر سکے تو سپریم کورٹ نے کس اصول قانون کے تحت نواز شریف اور ان کے بچوں پر یہ ذمہ داری عائد کر دی کہ وہ خود کو بے گناہ ثابت کریں۔ یہ کام سپریم کورٹ کی بجائے احتساب اور قانون شکنی کی نگرانی کرنے والے اداروں کا ہے۔ اب سپریم کورٹ انہیں ناکارہ قرار دے رہی ہے۔
کل میجر جنرل آصف غفور کا ٹویٹ جس میں وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک حکم نامہ کو مسترد کیا گیا ہے، اسی رویہ کا مظہر ہے جس کا مظاہرہ 20 اپریل کے فیصلہ میں سپریم کورٹ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ یعنی ہر ادارہ وہ کام کرنا چاہتا ہے جو اس کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ کسی کو اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے کہ فوج خود کو ملک کی اصل حکمران سمجھتی ہے۔ اس مزاج کو مستحکم کرنے میں کئی عوامل شامل ہیں جن میں ملک کے سیاستدانوں نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ 2011 کے میمو گیٹ اسکینڈل میں نواز شریف فوج کا دست راست بن کر خود پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ گئے تھے۔ اس وقت انہوں نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی تھی کہ ان کے اس طرزعمل سے ملک میں جمہوری روایت کمزور ہو گی، خفیہ ایجنسیوں کو منتخب حکومت پر برتری حاصل ہوگی اور عدالت سے ایک ایسے معاملہ پر فیصلہ کرنے کےلئے کہا جائے گا جو اس کے دائرہ کار میں نہیں ہے۔ اب اسی طرح پیپلز پارٹی اپنی باری آنے پر نواز حکومت کے خلاف ویسا ہی طرز عمل اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پاناما کیس کا معاملہ ہو یا ڈان لیکس کا تنازعہ، حکومت کے خلاف سامنے آنے والے کسی بھی اقدام اور بیان کو خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے حکومت کو کمزور کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ میجر جنرل آصف غفور کے ٹویٹ پر سیاسی پارٹیوں نے جو موقف اختیار کیا ہے، وہ ملک میں کسی اصول کی بنیاد پر نظام استوار کرنے کی خواہش سے زیادہ ہوس اقتدار کا آئینہ دار ہے۔ کوئی یہ سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ آئی ایس پی آر کو اتنی عجلت میں وزیراعظم ہاؤس کے ایک اعلامیہ پر دو ٹوک ، درشت اور سخت موقف اختیار کرنے کا حق کیوں کر دیا جا سکتا ہے۔ یہ سوال کرنے کی بھی زحمت نہیں کی جاتی کہ فوج جو بظاہر ایک منظم ادارہ ہے اور اس کا ہر فیصلہ سوچا سمجھا اور صورتحال کے مطابق نپا تلا ہوتا ہے، کیوں ایک ایسے ’’پاور بیس‘‘ میں تبدیل ہو رہا ہے کہ کبھی کور کمانڈرز کانفرنس پاناما کیس تحقیقات میں شفاف کردار ادا کرنے کی بات کرتی ہے اور کبھی فوج کا شعبہ تعلقات عامہ حکومت کے خلاف ایسا بیان جاری کرتا ہے جو کسی بھی آئین و قانون کے مطابق نہیں اور نہ فوج کے پروفیشنل کردار کی نمائندگی کرتا ہے۔ کیا اب فوج یہ اصول منوانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس کا کوئی بھی افسر کسی بھی لب و لہجہ میں اور غور و خوض کے بغیر لکھے گئے الفاظ میں ملک کی حکومت کے خلاف بیان جاری کر سکتا ہے۔
یہ درست ہے کہ ملک میں فوج کے اس کردار کو تسلیم کروانے کےلئے مزاج تیار کر لیا گیا ہے۔ اگر سیاستدانوں کی سیاسی ضرورتوں اور لالچ کے تحت کئے جانے والے تبصروں کو نظر انداز بھی کر دیا جائے اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے عام لوگوں کے تبصروں کو ہی دیکھا جائے تو رائے کی اکثریت سیاستدانوں کو مسترد اور فوج کی تحسین کرتی نظر آتی ہے۔ میجر جنرل آصف غفور کے ناجائز ٹویٹ پر تبصرے کرتے ہوئے بھی سیاستدانوں اور حکومت کی بدکرداری پر رائے زنی کی جا رہی ہے اور یہ تاثر عام ہے کہ فوج کا موقف بالکل درست ہے۔ بلکہ بعض انتہا پسندانہ عناصر تو یہ موقف بھی اختیار کر رہے ہیں کہ فوج کو اپنی صلاحیت اور دیانتدارانہ کردار کی وجہ سے ملک پر حکومت کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ یہ رائے سامنے لانے والے بھول جاتے ہیں کہ فوج نے چار بار ملک پربراہ راست حکمرانی کا شوق بھی پورا کیا ہے اور اسے ہر بار سیاستدانوں سے زیادہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے باوجود فوجی مزاج اور رائے میں سیاستدان تو گناہ گار ، ناکام ، بدعنوان ، ملک دشمن اور سازشی ہوتے ہیں جبکہ فوج ملک کی حفاظت اور سلامتی میں دلچسپی رکھنے والا واحد ادارہ ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے تین سالہ دور میں ’’جانے کی باتیں جانے دو‘‘ جیسے بینر بار بار شہروں کی سڑکوں پر آویزاں ہوتے رہے تھے لیکن فوج پر کبھی یہ حرف زنی نہیں کی گئی کہ وہ اس قسم کی غیر جمہوری اور کسی حد تک غیر قانونی اشتہاری مہم کے خلاف کیوں موقف اختیار نہیں کرتی۔
فوج نے دراصل اسی قسم کی اشتہاری مہموں، حمایتی گروہوں اور میڈیا میں اپنے ہمدردوں کے ذریعے عوام کو یہ باور کروا دیا ہے کہ فوج کبھی غلطی نہیں کرتی بلکہ وہ تو ملک و قوم کے نام پر جان قربان کرنے والوں پر مشتمل ہے۔ آنجہانی بھارتی اداکار اوم پوری نے پاک بھارت تنازعہ اور لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزیوں میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک بھارتی ٹی وی اینکر کے جارحانہ سوالوں کے جواب میں کہا تھا کہ ’’میں نے تو انہیں فوج میں جانے کےلئے نہیں کہا تھا۔ انہوں نے خود فوج میں بھرتی ہو کر یہ کیرئیر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا‘‘۔ اس تبصرہ پر جہاں بھارت میں اوم پوری کو ملک دشمنی کے سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا تو پاکستان میں اس تبصرہ کو سراہا گیا اور کئی اینکر مزے لے لے کر یہ بیان سناتے رہے تھے گویا پاکستان کے کسی سپاہی نے بھارت میں جا کر کوئی میدان مار لیا ہو۔ کیا اس بیان کو پاکستان کی فوج کے کردار پر منطبق کرکے دیکھا جا سکتا ہے۔ کیا کوئی مبصر پاکستانی فوج سے یہ کہہ سکتا ہے کہ ’’حضور آپ ضرور سرحدوں پر کھڑے ہیں۔ ان حالات میں بعض اوقات جان سے ہاتھ بھی دھونے پڑتے ہیں لیکن اس کا فیصلہ بھی تو آپ نے ہی کیا تھا۔ پاکستان میں لازمی بھرتی کا قانون تو ہے نہیں۔ لہٰذا جو نوجوان ایک سنہری اور مالی طور سے فائدہ مند کیرئیر اختیار کرنا چاہتے ہیں، وہی فوج میں جانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ قربانی نہیں ہے۔ یہ آپ کا کام ہے۔ قوم اس کام کےلئے آپ کو بھاری معاوضہ ادا کرتی ہے اور آپ اس کیرئیر میں جو سہولتیں حاصل کرتے ہیں، عام سرکاری ملازمین تو اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے‘‘۔ یقین کیا جا سکتا ہے کہ اس قسم کا سوال اٹھانے والا کوئی بھی شخص ملک و قوم کا سب سے بڑا غدار کہلائے گا۔
اس ماحول میں فوج کا ایک افسر جب منتخب وزیراعظم کے حکم نامہ کا ایک ٹویٹ کے ذریعے خاکہ اڑاتا ہے اور اسے مسترد کرنے کا اعلان کرتا ہے تو سیاستدان اور مبصر تو اس کے اختیار اور ضرورت پر سوال نہیں اٹھائیں گے لیکن فوجی قیادت پر یہ ذمہ داری ضرور عائد ہوتی ہے کہ وہ آئی ایس پی آر کے سربراہ سے جواب طلب کرے کہ انہوں نے اپنے اختیار سے تجاوز کرنے کی کوشش کیوں کی۔ اگر یہ اعلان اور الفاظ کا چناؤ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مرضی اور ہدایت پر کیا گیا تھا تو انہیں قوم کو یہ جواب دینا چاہئے کہ کیا فوج ملک کے آئین میں متعین اپنے کردار کو تسلیم کرتی ہے یا وہ ہر وقت ملکی سیاست میں سپر مین کا رول ادا کرنے کےلئے تیار رہے گی اور اسے اپنے دائرہ کار اور وزیراعظم کے اختیار کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اصولی طور پر تو یہ سوال پوری قوت سے ملک کے ہر کونے اور ہر طبقے کی طرف سے اٹھایا جانا چاہئے۔ ملک کے جمہوری انتظام اور آئینی نظام کو فوج کی پسند اور ناپسند کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ سیاست میں فوج کی مداخلت کل بھی غلط تھی، اس کا کسی بھی طرح اظہار آج بھی ناجائز اور غیر آئینی ہے۔ یہ اصول طے شدہ ہے۔ اور جب بھی اس کی حرمت کو پامال کیا جاتا ہے تو اس کی حفاظت کے ذمہ دار لوگ اور عناصر خود ہی چھلانگ لگا کر فوج کی حمایت پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ جمہوریت کے تسلسل کےلئے یہ بات بھی تسلیم کروا لی گئی ہے کہ ملک میں کوئی حکومت فوج کی درپردہ توثیق کے بغیر قائم نہیں ہو سکتی۔
ڈان لیکس کے جس معاملہ کو سابق آرمی چیف کے پرجوش انداز قیادت کی وجہ سے قومی سلامتی کا اہم ترین معاملہ بنا دیا گیا تھا، وہ دراصل ایک معمولی اخباری رپورٹ تھی جس میں یہ کہنے کی کوشش کی گئی تھی کہ فوج کے ادارے ابھی تک بعض ایسے عناصر کی سرپرستی کر رہے ہیں جو ملک میں شدت پسندی کے فروغ کا سبب بن رہے ہیں اور سول ادارے ان کے خلاف کارروائی میں ناکام رہتے ہیں۔ اگر یہ رپورٹ حقیقی رپورٹنگ کی بجائے افسانہ بھی تھی تو بھی یہ ایسی سچائی کا اظہار تھا جو پوری دنیا کے علم میں ہے اور جس کے مظاہر عام لوگوں کے مشاہدہ میں بھی آتے رہتے ہیں۔ اگر سکیورٹی اداروں میں یہ مزاج موجود نہ ہوتا تو فوج کے ساتھ دارالحکومت کے بیچ مسلح جنگ کرنے والا مولانا عبدالعزیز پوری آن بان سے اب بھی لال مسجد سے اپنی زہر آلود باتیں کرنے کے قابل نہ ہوتا۔ اور نہ ہی حافظ سعید کو صرف حفاظتی حراست میں لے کر منظر نامہ دور کرنے کی کوشش نہ کی جاتی تاکہ امریکہ کو یقین دلایا جا سکے کہ پاکستان کی حکومت انتہا پسند عناصر کے خلاف پوری طرح سرگرم ہے۔ ڈان لیکس کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ ملک کا منتخب وزیراعظم بھی اس معاملہ پر فوج کے احتجاج اور غم و غصہ کو مسترد کرنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ وہ فوج کو یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اگر آپ کو ان باتوں کے اظہار پر اعتراض ہے تو اس رویہ کو ترک کرنے میں ہی بھلائی ہے۔ یہی کمزوری ملک میں جمہوری نظام کی ترویج میں رکاوٹ اور فوج کو غیر ضروری قوت اور حق قیادت دینے کا سبب بن رہی ہے۔
میجر جنرل آصف غفور کے ٹویٹ پر آنے والے تبصروں میں بالکل اسی طرح اصل مسئلہ کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس طرح مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشعال خان کے قتل کے بعد رویہ اختیار کیا گیا تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی حوصلہ افزائی پر طالب علموں کے ہجوم نے ایک طالب علم پر الزام تراشی کرتے ہوئے اسے تشدد کرکے ہلاک کر دیا۔ اس قتل کو مسترد کرنے کےلئے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ مشعال خان توہین مذہب کا مرتکب نہیں ہوا تھا۔ اسے بے گناہ مارا گیا۔ گویا اگر خدانخواستہ اس سے مذہب کے خلاف کوئی کلمات سرزد ہوئے ہوتے تو اسے مارنا جائز تھا۔ اسی طرح آئی ایس پی آر کے ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہنے سے گریز کیا جا رہا ہے کہ فوج اپنے اختیار سے تجاوز کر رہی ہے اور اس طرز عمل کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ البتہ یہ تبصرہ زور و شور سے کیا جا رہا کہ حکومت نے ڈان لیکس پر شفاف کردار کا مظاہرہ نہیں کیا یا اس معاملہ میں ملوث اصل لوگوں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہی اس ملک کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ اور رویہ ناپید ہو چکا ہے۔ اسی لئے مشعال خان کے قاتلوں کی حمایت میں مردان میں 8 ہزار افراد نے مظاہرہ کرکے مشعال کے خلاف نعرے لگائے۔ اور نواز شریف کو مسترد کرنے کے شوق میں لاتعداد سیاست دان اور مبصر فوج کی غلطی کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی توپوں کا رخ حکومت کی طرف پھیر کر گولہ باری میں مصروف ہیں۔
(بشکریہ:کاروان ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker