لاہور : صوبائی ڈزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 45 ہزار کیوسک ہے اورقصور اور چنیان کے 72 دیہاتوں سے سینکڑوں خاندانوں کا انخلا کیا گیا ہے جبکہ قصور میں تین افراد سیلابی پانی میں ڈوب گئے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 45 ہزار کیوسک ہے جبکہ ہیڈ سلیمانکی کے قریب پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 22 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ہیڈ اسلام میں پانی کا بہاؤ 31872 کیوسک ہے جہاں 22 اگست سے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے، تاہم سندھ، جہلم، چناب اور راوی دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر ہے۔
دریائے ستلج سے ملحقہ اضلاع کے انتظامی حکام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور ستلج کے قریب علاقوں میں لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو دریائے ستلج کے کنارے قائم حفاظتی بندوں کو مضبوط کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق دریائے ستلج سے ملحقہ انتظامیہ کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام اداروں کی تیاریاں مکمل ہیں، تاہم پی ڈی ایم اے کنٹرول روم سے بھی 24 گھنٹے مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے۔
نبیل جاوید نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز سمیت دیہی رپورٹنگ سنٹرز بھی مکمل فعال ہیں اور افسران فیلڈ میں رہیں اور تمام تر صورتحال کی نگرانی جاری رکھیں۔
نبیل جاوید نے کہا کہ دریائے ستلج سے ملحقہ تمام اضلاع کو سیلابی صورتحال میں استعمال ہونے والا سامان مہیا کر دیا گیا ہے اور کسی بھی ضلع یا ادارے کے پاس وسائل کی کمی نہیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ممکنہ سیلابی علاقوں میں ریلیف کیمپس کا قیام عمل میں لائے، ہنگامی صورتحال میں بروقت ریسکیو آپریشن کا آغاز ہونا چاہیے اور لوگوں کے جان و مال کا تحفظ تمام اداروں کی ذمہ داری ہے۔
قصور میں سیلابی پانی میں ڈوبنے والے تین میں سے دو دیہاتیوں کو نکال لیا گیا ہے جبکہ تیسرے شخص کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق گاؤں اتھ سنگھ کے جمشید اور گاؤں ورم جھوگیاں کے اسلم اور مولا اپنے طور پر محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن تیز بہاؤ کی وجہ سے ڈوب گئے۔لوگوں اور مویشیوں کو بچانے کے لیے انتظامیہ کو ہدایات دیتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کو کم کرنے کے لیے حفاظتی بندوں کو مضبوط بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ قصور میں گنڈا سنگھ سرحد کے قریب 2 لاکھ 87 ہزار کیوسک پانی بڑھ رہا ہے، اور حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محسن نقوی نے انکشاف کیا کہ 10 سے 12 فٹ گہرا سیلابی پانی قصور کے کئی دیہات میں آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 6 ہزار 5 سو لوگوں کو متاثرہ دیہات سے نکالا گیا ہے، اگر ضرورت پڑی تو جانی نقصان کو روکنے کے لیے زبردستی انخلا کیا جائے گا۔ تاہم علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا ہے۔
فیس بک کمینٹ

