پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ایک پریس کانفرنس میں ملکی دفاع، سیاست اور معیشت کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ ان باتوں میں کوئی سنسنی خیزی نہیں ہے لیکن اس سے ان سوالوں کے جواب فراہم نہیں ہوتے جنہوں نے اس وقت قومی سیاسی منظر نامہ کو اپنے حصار میں لیا ہؤا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ قومی مفاد کا تقاضہ ہے کہ کسی خاص موضوع پر سوال نہ کیا جائے۔
اسی طرح آئی ایس پی آر کے سربراہ کا یہ دعویٰ بھی ملک میں ہراس اور سنسنی خیزی میں اضافہ کا سبب بنے گا کہ بعض عناصر اداروں کے خلاف سازش کررہے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں ۔ یہ بیان حقیقت حال پیش کرنے کی بجائے، ایک انتباہ کی صورت میں سامنے آیا ہے جو ملک کے نادیدہ ’دشمنوں‘ کو دیا جارہا ہے۔ اس بیان سے ملک میں آزادانہ اظہار خیال اور قومی معاملات کی رپورٹنگ کے جائز حق کو نقصان پہنچے گا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کو آزادی رائے کے حوالے سے بعض نامعلوم عناصر اور نادیدہ سازشوں کا ذکر کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لینا چاہئے کہ وہ عوام اور مسلح افواج کے درمیان پیدا ہونے والے جس رخنہ کے بارے میں پریشانی کا شکار ہیں، وہ اسی قسم کے ’دھمکی آمیز‘ بیانات سے پیدا ہوتا ہے۔
میجر جنرل بابر افتخار کی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ سیاست، معیشت اور دیگر امور مملکت سے متعلق معاملات میں فوج کو ملوث نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے، وہ یہ مشورہ کسے دینے کی کوشش کررہے ہیں؟ کیا ملک کے صحافی اور میڈیا نے پاک فوج کو ملکی سیاست میں حصہ لینے، معاشی معاملات پر تبصرہ کرنے اور سلامتی کے موضوع پر پالیسی سازی پر مجبور کیا ہے ۔ یا ان سارے معاملات کو فوجی قیادت اور اداروں نے اپنا جائز دائرہ کار سمجھ کر رائے دینے، رہنمائی کرنے، فیصلہ سازی میں شریک ہونے اور اپنی اتھارٹی تسلیم کروانے کا اقدام ضروری سمجھا ہے۔ اگر پاک فوج ملکی سیاست میں فریق کی حیثیت سے کردار ادا کرتی رہے گی تو اس حوالے سے ٹاک شوز، سوشل میڈیا اور عام محافل میں فوج کے ارادوں پر تبادلہ خیال بھی ہوتا رہے گا۔ پھر صحافی سوال بھی پوچھیں گے ۔ سوالوں کو سوالوں سے مسترد کرنے سے نہ عوام مطمئن ہوں گے اور نہ ہی سوال سامنے آنا بند ہوں گے۔
کوئی فوجی افسر ایک میڈیا ٹاک کے دوران صحافیوں کے استفسار کو قومی مفاد، سازش یا یا قیاس آرائی کہہ کر کسی معاملہ سے پہلو تہی ضرور کرسکتا ہے لیکن اس طرح ذمہ داری سے گریز ممکن نہیں ہے۔ پاکستانی سیاست میں فوج کا کردار شواہد اور درپیش واقعات کی صورت میں مسلمہ حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ بلکہ صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ معتبر تجزیہ نگار بھی فوج کی مرضی و منشا کا ذکر کئے بغیر ملکی سیاست کی بات مکمل نہیں کر پاتے۔ پاک فوج کے ترجمان اس صورت حال میں کسی ایک موضوع پر اٹھنے والے سوالات کو ’بے بنیاد قیاس آرائی‘ قرار دے کر بات ٹال تو سکتے ہیں لیکن عوامی مباحث اور پریشانی کو ختم نہیں کرسکتے۔ اس پریشانی کو ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ فوج مکمل طور سے نہ صرف سیاسی بلکہ ہر قسم کے سول معاملات میں شراکت داری کے ’حق‘ سے دست بردار ہو جائے۔ جب حالات کی تصویر واضح ہونے لگے گی اور یہ دیکھا جائے گا کہ ملک کی سیاسی حکومت ہی فیصلے کرنے اور انہیں نافذ کرنے کی ذمہ دار ہے تو صحافی بھی پاک فوج کے ترجمان سے سیاسی اور معاشی امور پر رائے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے۔ جب تک حالات کی یہ تصویر راسخ نہیں ہوتی تو پریس کانفرنس میں فوجی ترجمان کے انکار کو انکار نہیں بات ٹالنے کا طریقہ سمجھا جائے گا۔
میجر جنرل بابر افتخار اگر غور کریں کہ ملکی سیاسی معاملات کے حوالے سے فوج کا کوئی کردار نہ ہو اور سارے معاملات عوام اور ان کی منتخب حکومت ہی کے درمیان طے پارہے ہوں تو پھر انہیں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کے طور پر پریس کانفرنس منعقد کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہ ہو۔ آئی ایس پی آر باقاعدگی سے میڈیا کے ذریعے اپنا مؤقف سامنے لاتا ہے۔ یہ طریقہ ہی اس حقیقت کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ فوج ملکی سیاست میں اہم ترین اسٹیک ہولڈر ہے اور اپنی اس پوزیشن کو قومی مفاد کے لئے اہم سمجھتی ہے۔ اگر فوج اپنی یہ پوزیشن برقرار رکھنا چاہے گی تو اس حوالے سے قیاس آرائیاں بھی ہوں گی اور ان میں بعض قیاسات ایسے بھی ہوں گے جن کا حقیقت حال سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسے کسی قیاس کو ’ملک دشمنی ‘کہہ کر فوج کے غیر عسکری کردار سے انکار ممکن نہیں ہے۔ اس مقصد کے لئے فوج کے طریقہ کار، قومی سیاست اور عمومی فیصلہ سازی کے حوالے سے اس کی دلچسپی اور مداخلت کے ہتھکنڈوں کو ختم کرنا ضروری ہوگا۔ خاطر جمع رکھی جائے کہ جب فوج اس نیک کام کا ارادہ کرے گی تو کوئی صحافی یا تجزیہ نگار فوج کو غیر ضروری طور سے موضوع گفتگو بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا۔
پریس کانفرنس کے دوران سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ’کوئی مسئلہ نہیں ہے‘۔ پھر اس جواب کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ’مسلح افواج حکومت کے تابع فرمان ہیں اور اس کی ہدایت کے مطابق کام کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے‘۔ انہوں نے میڈیا کو مشورہ دیا کہ اسٹبلشمنٹ کو سیاست سے علیحدہ رکھا جائے۔’ ملک میں دوسرے معاملات بھی ہیں مثلاً صحت یا تعلیم۔ ہمیں تو برائے مہربانی اس سے علیحدہ ہی رکھیں‘۔ جیسا کہ عرض کیا میڈیا صرف اسے انہی عناصر کو اہمیت دیتا ہے جو خبر کے حوالے سے اہم ہوتے ہیں۔ اگر فوج ملکی سیاست کے حوالے سے ’لاتعلق‘ ہوجائے گی تو میڈیا بھی فوج کا ذکر کرنا بند کردے گا۔ پھر فوجی ترجمان کو تعلیم اور صحت کی طرف توجہ دینے کا مشورہ بھی نہیں دینا پڑے گا اور نہ ہی معیشت، مہنگائی اور سرکش گروہوں کے ساتھ تعلقات جیسے غیر متعلقہ امور کے بارے میں سوالات کا جواب دینا پڑے گا۔ میجر جنرل افتخار نے فوج کے تابع فرمان ہونے کی جس آئیڈیل صورت حال کا ذکر کیا ہے ، اس میں کسی آرمی چیف کی تقرری یا عہدے کی مدت میں توسیع کے بارے میں نہ تو کسی پبلک پلیٹ فارم پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، نہ میڈیا تبصرے کرتا ہے اور نہ ہی فوجی ترجمان سے اس بارے میں استفسار کیا جاتا ہے۔
میجر جنرل بابر افتخار سے پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے براہ راست پوچھا تھا کہ ’ کیا جنرل قمر جاوید باجوہ کو اس سال کے آخر میں ایک اور توسیع ملے گی‘؟۔ اس پر پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ’بے بنیاد الزام ہے‘۔ غور کیا جائے تو اس سوال میں کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا بلکہ ایک ایسی پریکٹس کے بارے میں پوچھا گیا تھا جو فوج کے متعدد سربراہان کا شعاررہا ہے۔ حتیٰ کہ موجودہ آرمی چیف کے عہدے کی مدت میں توسیع کے سوال پر سپریم کورٹ نے تحفطات کا باقاعدہ اظہار کیا تھا۔ لیکن جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس کے بعد بھی عہدہ چھوڑنے کی بجائے یہ ضروری سمجھا کہ حکومت پارلیمنٹ سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کرواکے فورسز کے سربراہان کے عہدے کی مدت میں توسیع کا اختیار حاصل کرے تاکہ ان کی توسیع کا معاملہ طے ہوسکے۔ تقریباً دو سال قبل اس حوالے سے ہونے والی قانون سازی میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے تعاون کی مثال قائم کی اور چند منٹ کے اندر ترمیم منظور کرلی گئی تاکہ جنرل باجوہ بدستور فوج کی کمان کرتے رہیں۔ جب تک قوم ایسے مناظر کا مشاہدہ کرتی رہے گی، اس وقت تک فوج اور سیاست کے تعلق کے بارے میں یہی مثال دی جاتی رہے گی کہ کہیں ناخن سے گوشت بھی جدا ہوتا ہے؟
سیاست ، معیشت اور پالیسی سازی کے بارے میں سوالوں کے ہجوم میں سب سے اہم موضوع البتہ پاک افغان سرحد پر باڑ اکھاڑنے کے واقعات تھے۔ پاک فوج کے ترجمان نے گو کہ یہ تو کہا ہے کہ باڑ لگانے کا94 فیصد کام ہوچکا ہے ، باقی کام بھی ہر صورت مکمل کیا جائے گا کیوں کہ ’ اس منصوبہ میں ہمارے جوانوں کا خون شامل ہے‘۔ البتہ اس باڑ کے حوالے سے کابل کے حکمرانوں نے جس دوٹوک اور جارحانہ انداز میں بات کی ہے ، وزیر خارجہ کی طرح پاک فوج کے ترجمان بھی اس کا ٹھوس جواب دینے میں ناکام رہے۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ’ یہ باڑ دوونوں طرف آباد لوگوں کی حفاظت اور تجارتی سہولت کاری کے لئے تعمیر کی گئی ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو تقسیم کرنا نہیں ہے بلکہ انہیں تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ہم اس باڑ کے ذریعے امن کا فروغ چاہتے ہیں‘۔ بدقسمتی سے باڑ اکھاڑنے، دھمکیاں دینے اور کابل کے سیاسی بیانات کی شدت کے جواب میں یہ بیان محض وضاحت اور عذر خواہی محسوس ہوتا ہے۔
اس پریس کانفرنس میں اگرچہ کشمیر، ایل او سی کے معاملات، افغانستان کے ساتھ سرحدی امور اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف ایکشن اہم ترین موضوعات تھے لیکن فطری طور سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ہونے والی خفیہ ڈیل کے حوالے سے سوالات اور انہیں قیاس آرائی قرار دینے والے جواب کو سب سے زیادہ توجہ حاصل ہوئی ہے۔ ہوسکتا ہے واقعی نواز شریف کے حوالے سے فی الوقت اسٹبلشمنٹ اور سیاسی عناصرکے درمیان کوئی واضح ’افہام و تفہیم‘ پیدا نہ ہوسکی ہو۔ لیکن یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ اس قسم کی قیاس آرائیاں محض میڈیا کی پیدا کردہ ہیں۔ میڈیا انہی باتوں کو اچھالتا ہے جن کی طرف طاقت کے مراکز اشارہ کرتے ہیں۔ نواز شریف کی ’خفی ڈیل ‘ کا اشارہ کسی اور نے نہیں خود ملک کے وزیر اعظم نے کیا تھا۔ اس لئے ہوسکتا ہے کہ یہ ڈیل آئی ایس پی آر کے سربراہ سے بالا ہی بالا طے ہورہی ہو۔ یا کوئی نیا پیج تیار ہوتے ہوتے بیچ میں کوئی رخنہ آگیا ہو۔
سوال یہ نہیں ہے کہ نواز شریف یا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اسٹبلشمنٹ معاملات طے کرتی ہے یا نہیں بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ فوج اپنے ہی نصب العین کے مطابق کب سول حکومت کی تابع فرمان ہوکر اپنا نیا کردار تسلیم کرنے کے نیک کام کا آغاز کرے گی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

