مسلم لیگ (ن)کا جنوبی پنجاب میں ضمنی انتخابات ہارنا ایک واقعہ ہے جو اس خطے کیلئے اچھی خبر ہے کہ لیگی قیادت نے کبھی زمین زادوں کی ضرورت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی،ترقیاتی کاموں میں اور نہ این ایف سی ایوارڈ کی روح کے مطابق فنڈز فراہم کئے۔ اگر صوبائی بجٹ میں اعداد و شمار درست رکھنے کیلئے فنڈز مختص بھی کئے تو بڑے سمارٹ انداز میں سال ختم ہونے تک فنڈز واپس لاہور لے جائے گئے اس مرتبہ بھی لیگی حکومت نے جو بجٹ دیا ہے اس میں خاص طور پر تعلیم کے حوالے سے فنڈز کو روکا گیا جیسا کہ مظفر گڑھ سمیت دوسرے علاقوں میں یونیورسٹیوں کے قیام کیلئے پی ٹی آئی کی حکومت نے اعلان کررکھا تھا جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ الگ قصہ ہے جو اس وقت محض چند سیکرٹریز کے ساتھ چلایا جارہا ہے جبکہ باقی کے اختیارات پھر سے لاہور سیکرٹریٹ کو منتقل ہوچکے ہیں جس کا کوئی سنجیدہ جواز نہ ہے۔
اب ضمنی انتخابات میں مقامی ووٹرز کو اس کا آج بخوبی اندازہ ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو استعمال کرنا جانتا ہے اور ایسی اطلاعات جو روایتی میڈیا دینے سے قاصر ہوتا ہے وہ ان ذرائع سے پہنچ چکی ہوتی ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وفاقی ہو یا پنجاب دونوں میں حکومت بنانے کیلئے کسی بھی سیاسی جماعت کو جنوبی پنجاب سے کامیابی ضرورت بن چکی ہے یہ حقیقت تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ تحریک انصاف نے مگر خطے میں ایک الگ سیکرٹریٹ بنا کر اسے فعال کردیا جسے اب بوجوہ غیر فعال کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ جنوبی پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ن لیگ اور اتحادیوں کی شکست میں ان دو وجوہات نے بڑی کلیدی کردار ادا کیا ہے اور صرف مظفر گڑھ میں پی پی 273 میں سید سبطین بخاری کے علاوہ تمام نشستیں ہار چکی ہے گو یہ وہ نشستیں تھیں جو ن لیگ یا اتحادی جماعتوں کی نہیں تھیں ان میں آدھے آزاد کامیاب ہوکر تحریک انصاف میں شامل ہوئے بعد میں منحرف ہوکر ان لیگ کی اتحادی حکومت کو ووٹ دیا جس کی بنا پر یہ آئینی طور پر اپنی سیٹ سے فارغ ہوئے تو ضمنی انتخابات میں ن لیگ نے ان تمام کو شیر کا نشان دے دیا۔ شاید اتحادی یہ توقع کررہے تھے کہ تمام جماعتیں مل کر کامیاب ہوسکیں گی لیکن ایسا نہ ہوسکا اور تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے بڑی صفائی سے کرپشن، بیڈ گورننس اور مہنگائی اتحادی حکومت کے کھاتے میں ڈال دی چونکہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز ن لیگ سے ہیں تو پھر تمام ڈس کریڈٹ بھی ان کی جماعت کو ہی جائے گا۔
ووٹروں کا تحریک انصاف کی قیادت پر اعتماد آئندہ انتخابات کیلئے ایک اشارہ ہے خاص طور پر عمران خان کی مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے جہانگیر ترین اور علیم خان مکمل طور پر پس منظر میں چلے گئے ہیں کہ اب کی مرتبہ ہارنے والوں کو گزشتہ انتخابات میں جیتنے پر وہ پارٹی میں لائے تو تحریک انصاف کی حکومت بنانا ممکن ہوا۔ حکومتی امیدواروں کی شکست کی ایک بنیادی وجہ ووٹرز کا مہنگائی کے خلاف اور سخت معاشی پالیسیوں پر عدم اعتماد بھی ہے تو دوسری طرف منحرفین کو ووٹر نے دوبارہ ووٹ دینے سے انکار کیا ہے اگر صرف ملتان،مظفر گڑھ اور لودھراں لے لیں تو ن لیگ کے اپنے عہدیدار، ارکان اسمبلی، سابق ارکان اسمبلی اور کارکن ایسے امیدوار کی حمایت اور پھر اس کیلئے ووٹ مانگنے کی مہم چلانا بہت ہی مشکل تھا کہ مقامی سیاست میں ایک دوسرے کے ساتھی ایسا نہیں کرسکتے تھے،ملتان میں فیصل آباد سے سابق وزیر مملکت عابد شیر علی کو انچارج بنا کر مقامی قیادت کو یونین کونسل تک محدود کردیا گیا۔ عابد شیر علی نے فیصل آباد کی زبان میں لیگی امیدوار کیلئے جو مہم چلائی وہ الٹا ان کے گلے پڑ گئی کہ جلسے،جلوسوں اور کارنر میٹنگز میں کوئی موثر بیانیہ حکومت کی طرف سے سامنے نہ آ سکا۔ ملتان کی سیاست میں لگ بھگ آٹھ سو سال سے سماجی، روحانی اور سماجی زندگی میں زندہ خاندان کے نوجوان، زین حسین قریشی اور ان کے والد مخدوم شاہ محمود قریشی سجادہ نشین شیخ الاسلام حضرت بہاؤ الدین زکریا سہروردی ملتان کے بارے میں انتہائی نازیبا زبان حکومت کی طرف سے استعمال کی گئی جو ملتان کی تہذیبی روایت کے خلاف ہے اور ملتانیوں نے اسے ہضم نہیں کیا۔
اسی طرح اس حلقے کی لیگی قیادت کو مریم نواز کے جلسے میں جس طرح نظر انداز اور بے عزت کیا گیا وہ سونے پر سہاگہ تھا۔حلقہ پی پی 217 کے بارے میں عام رائے تھی شیخ سلمان نعیم جیت جائیں گے جس سے امیدوار اور اس کے والد محمد نعیم کا رویہ حیرت انگیز طور پر متکبرانہ ہوگیا تھا۔ متکبر کے خلاف ووٹرز نے فیصلہ کیا اور تجزیوں میں لیڈ کے ساتھ جیتنے کی پیشین گوئی رکھنے والا سات ہزار کے قریب ووٹو ں سے ہار گیا تو انہوں نے شکست کو تسلیم کیا اور زین حسین قریشی کو مبارک باد بھی دی جو ملتان کی تہذیبی روایت کے عین مطابق ہے۔بہرحال ن لیگ کا اس انتخاب میں حلقے اور انتخابی مہم کی باگ ڈور پیپلز پارٹی اور خاص کر سید یوسف رضا گیلانی کو دینا بھی سابق ٹکٹ ہولڈرز کیلئے پریشانی کا باعث تھا۔ ن لیگ کی مرکزی قیادت انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرچکی ہے ان کا اگلا قدم کیا ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی جن کے بارے میں ان کے سیاسی مخالف اور سابق وفاقی وزیر مخدوم تنویر الحسن گیلانی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف میں یہ واحد سیاستدان ہے، ان کی خدمات کو عمران خان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ عمران خان نے کہا تھا کہ میں اکیلا ہی ان کیلئے کافی ہوں آج سب نے دیکھ لیا گیارہ جماعتوں کے ٹولے کو عوام نے مسترد اور لالچ کے فارمولے کو دفن کرکے عمران خان کے بیانیے کو دوام بخشا ہے۔ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا رچایا کھیل بھی ناکام ہوا۔آج پیپلز پارٹی کا نظریہ بھی ختم ہوا سیاسی پنڈت ضمنی انتخابات کو ن لیگ کا احیاء قرار دے رہے تھے لیکن عوام نے سب غلط ثابت کردیا اورن لیگ سمیت گیارہ جماعتوں کو سیاسی شکست ہوئی ہے۔ عمران خان کے بیانیے کے مقابلے میں حکومتی بیانیے کی ناکامی متوسط طبقے، ضیاء الحق کی لائی ہوئی مذہبیت، عدم برداشت اور نفرت کی جیت ہے۔ اب دیکھتے ہیں حکومت، پیپلز پارٹی اور ن لیگ اس بیانیے کے مقابلے میں کس طرح جمہوریت، برداشت، مذہبی روادری اور مقامی تہذیبی روایت پر مبنی نئے اور مثبت بیانیے کی تشکیل کرتے ہیں۔
فیس بک کمینٹ

