اسلام آباد : بابر اعوان ، فردوس عاشق اعوان ،احمد حسن ڈیہڑ اور امتیاز صفدر وڑائچ سمیت وفاداریاں تبدیل کرنے والے بہت سے اہم سیاست دان پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے محروم رہ گئے ۔ تحریک انصاف نے بابراعوان کو اسلام آباد سے پارٹی ٹکٹ دینے سے معذرت کرلی ہے ،خیبر پختو نخوا سے سابق رکن قومی اسمبلی علی محمد خان اور شہریار آفریدی کو بھی ٹکٹ نہیں ملے،فردوس عاشق اعوان، امتیاز صفدر واڑئچ اور فیصل واڈا ویٹنگ لسٹ شامل ہوگئے ۔پی ٹی آئی کی جانب سے ٹکٹوں کی تقسیم میں کئی بڑے امیدواروں کو نظر انداز کرنے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں ، ذرائع کے مطابق بابراعوان کو پارٹی ٹکٹ نہ دینے کے بدلے میں پارٹی عہدہ دیا گیا ہے ۔پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف کا حصہ بننے والے امیتاز صفدر وڑائچ کے ٹکٹ کا فیصلہ سروے سے مشروط کردیا گیا ہے ، سابق وفاقی فردوس عاشق اعوان کو ٹکٹ دینے کےحوالے سے پارٹی نے’ انتظار فرمائیے‘ کی لسٹ میں شامل کردیا ہے اس فہرست میں کراچی کے فیصل واؤ ڈا کا نام بھی ہے ۔فردوس عاشق اعوان بھی اب تک پارٹی ٹکٹ سے محروم ہیں، ذرائع بتاتے ہیں ، ان کے حلقے سے ایم پی اے کا فیصلہ ہونے کے بعد فردوس عاشق اعوان کے ٹکٹ کا فیصلہ ہوگا، کیونکہ فردوس عاشق جسے ایم پی اے لانا چاہتی ہیں، پارٹی ان سے مطمئن نہیں ۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اپنے سابق اراکان قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے ،اس لئے انہیں ٹکٹ دینے کا فیصلہ کارکنوں کی رائے سے مشروط کردیا گیا ہے ،جن میں سابق ایم این اے علی محمد خان اور شہریار آفریدی جبکہ ایم پی اے شوکت یوسفزئی شامل ہیں۔ٹکٹوں کے معاملے پر ناراضی کا عمل بھی سامنے آرہا ہے ،گوجرانوالہ کی ایک نشست سے میاں رشید کو ٹکٹ دینے پر امتیاز صفدر وڑائچ کے حامی ناراض ہے جبکہ ایک نشست پر غلطی سے کسی اور ٹکٹ ملنے پر بلال اعجاز ناراض ہوگئے جنہیں بعد ازاں ٹکٹ دیدیا گیا ۔تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم پر کارکنوں نے پارٹی قیادت کے فیصلے تسلیم کرنے سے انکارکرتے ہوئے بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کےباہراحتجاج کیا۔پی ٹی آئی کارکنوں نے ٹکٹوں کی تقسیم میں میرٹ کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا ۔اس موقع پر بنی گالہ میں کے باہر تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان جمع ہوئے اور ٹکٹوں کی تقسیم کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔کارکنان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 54 سے سرور خان کو ٹکٹ دینے کی مخالفت کی اور کہا کہ انہیں سرور خان بطور امیدوار قبول نہیں۔ پی ٹی آئی کارکنان نے مطالبہ کیا کہ این اے 54 پر اجمل راجا کو پارٹی ٹکٹ دیا جائے۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے گزشتہ روز قومی اسمبلی کے 173 اور صوبائی اسمبلیوں کے 290 امیدواروں کی انتخابی فہرست جاری کر دی ہے۔امیدواروں کے اعلان کے بعد عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ امیدواروں کا انتخاب نہایت اہم مگر کٹھن مرحلہ تھا لیکن نہایت محنت و دیانتداری سے فیصلے کیے ہیں ۔
بدھ, اپریل 29, 2026
تازہ خبریں:
- سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی ملازمت ختم : غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب کارروائی کا باعث بنی
- عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم
- قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے
- جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم
- ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
- کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- صحافی کی گرفتاری اور رہائی : پاکستانی میڈیا کے لیے غیر ضروری خبر : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
- اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری

