ملتان ( رضی الدین رضی سے ) عام انتخابات کے موقع پراہل سنت والجماعت کی مختلف پارٹیوں ،دھڑوں اورگروپوں نے متحدہ نفاذ نظام مصطفی محاذ کے نام سے انتخابی اتحاد قائم کیاہے ۔اوراہلسنت والجماعت کے بیشترامیدواراسی پلیٹ فارم سے عام انتخاب میں حصہ لیں گے ۔ان امیدواروں میں سابق وفاقی مذہبی امور اورنامورعالم دین صاحبزادہ حامد سعید کاظمی بھی شامل ہیں ۔ذرائع کے مطابق اس اتحاد میں جمعیت علمائے پاکستان جے یوپی کے دونوں دھڑے، سنی مجلس عمل ،نظام مصطفی پارٹی اورسنی تحریک شامل ہیں ۔جے یوپی کے ایک دھڑے کی قیادت علامہ ابوالخیر زبیر اوردوسرے کی قیادت انجینئر سمیع اللہ کررہے ہیں، جبکہ سنی مجلس عمل کے قائد مولانافضل کریم کے صاحبزادے صاحبزادہ احمد رضاہیں،نظام مصطفی پارٹی کی قیادت سابق وفاقی وزیر حاجی حنیف طیب کررہے ہیں جبکہ سنی تحریک کے قائد اعجاز ثروت قادری ہیں۔اس اتحاد کو چونکہ الیکشن کمیشن میں رجسٹرنہیں کرایاجاسکااس لئے اسے کوئی انتخابی نشان بھی الاٹ نہیں ہوسکا۔فیصلہ کیاگیاہے کہ اس پلیٹ فارم سے تمام امیدوارآزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گے ۔اوریہ تمام جماعتیں اپنے اپنے حلقوں میں ان امیدواروں کی حمایت کریں گی ۔واضح ہوکہ گزشتہ روز سابق صدر اورپاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کے دوران صاحبزادہ حامد سعید کاظمی نے پاکستان پیپلزپارٹی کاٹکٹ لینے سے انکارکردیاتھااورکہاتھاکہ میں آزادامیدوارکی حیثیت سے لیاقت پورسے عام انتخابات میں حصہ لوں گا۔دریں اثناءصاحبزادہ حامد سعید کاظمی کے ترجمان اورنامور ماہر قانون وسیم ممتازنے ”اے پی پی “سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اہلسنت جماعتیں بہت عرصے سے اس بات پرغورکررہی تھیں کہ ہمیں متحدہوکرعام انتخابات میں حصہ لیناچاہیے تاکہ ہم برسراقتدارآکراپنے کاز کوآگے بڑھاسکیں۔انہوں نے کہاکہ اس وقت مذہب کے نام پرانتہاپسندی کے خاتمے اورایسے بیانیے کوفروغ دینے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں مذہب کے نام پرقتل وغارت کی حوصلہ شکنی ہوسکے اوراسلام کااصل چہرہ سامنے آسکے جو امن اورمحبت کاپیغام دیتاہے ۔
بدھ, اپریل 29, 2026
تازہ خبریں:
- سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی ملازمت ختم : غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب کارروائی کا باعث بنی
- عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم
- قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے
- جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم
- ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
- کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- صحافی کی گرفتاری اور رہائی : پاکستانی میڈیا کے لیے غیر ضروری خبر : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
- اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری

