Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, مئی 20, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • Revisiones de Casinos: La Clave para Jugar con Seguridad
  • Karaoke Team slot machine enjoy totally free demo video game casino pandas run on the web
  • Ideas on how best slot apps to Deposit & Withdraw Financing So you can Wager Online
  • Jurassic months slot machine james dean online information and facts
  • Avi Hotel & Local casino inside Laughlin, Nevada Your best vacation to the Tx River! Play, casino grey eagle casino win, dine, and stay to possess a memorable experience
  • Forest Jim El Dorado Position Remark, Incentives and 100 percent la playa $1 deposit free Enjoy 96 30percent RTP
  • Best on-line casino no-deposit bonus rules 50 free spins versailles gold 2026
  • Gamble 50 free spins on mayan princess no deposit Now!
  • Mobile casino ladbrokes online Harbors 2026 Have fun with the Greatest Cellular Slot Games On the web
  • Jingle choosing the best online casinos in nz Jackpots Slot No-deposit Added bonus: 20 Free Potato chips!
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»کالم»وادی سندھ کی تہذیب‘ نہیں! ہڑپہ کی تہذیب: ہزار داستان / مستنصر حسین تارڑ
کالم

وادی سندھ کی تہذیب‘ نہیں! ہڑپہ کی تہذیب: ہزار داستان / مستنصر حسین تارڑ

ایڈیٹرجولائی 18, 20189 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
mustansar hussain tararr columns at girdopesh.com
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

تو بات موہنجو داڑو کے کھنڈروں میں سے برآمد ہونیوالے ’’گرینڈ پریسٹ‘‘ کے کھمبے کی ہو رہی تھی جس نے اپنے شانوں پر سندھی اجرک اوڑھ رکھی ہے۔ اجرک اور سندھی ٹوپی سندھ کی ثقافت اور قدیم رہن سہن کی ترجمان ہیں اور میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ میں نے آج تک کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جس نے سندھی ٹوپی پہنی ہو اور وہ اچھا لگا ہو۔ سر پچکا ہوا سا لگتا ہے اور اس کے باوجود سندھی اپنی ٹوپی کی شان میں خصوصی دن مناتے ہیں اور میں یہ بھی ہمیشہ کہتا ہوں کہ میں نے آج تک کوئی ایسا شخص بھی نہیں دیکھا جس نے اجرک اوڑھی ہو اور وہ یکدم اس پہناوے سے خوش شکل اور باوقار نہ ہو گیا ہو۔ جب مجھے اور میری بیگم کو حکومت چین نے سنکیانگ کے سرکاری دورے کے لیے مدعو کیا تو کنڈیارو کے جمیل عباسی نے مجھے درجن بھر اجرکیں بھجوا دیں کہ انہیں اہل سنکیانگ کو سندھ کی جانب سے پیش کر دیجیے گا۔ میں بیان نہیں کر سکتا کہ اس تحفے کی کتنی پذیرائی ہوئی بلکہ جب میں نے آخری اجرک اپنی مترجم اور ہمہ وقت ہم سفر چینی خاتون جوائے کو پیش کی اور وہ عام حالات میں بس یونہی سی لگتی تھی‘ اجرک اوڑھتے ہی تقریباً خوش شکل سی ہو گئی۔
آج سے تقریباً چھتیس برس پیشتر جب میں نے گلبرگ میں اپنا پہلا چھوٹا سا گھر تعمیر کیا تو برخوردار فضل حیات جو کہ صر ف گورنر ہاؤسوں اور عالی شان رہائش گاہوں کی اندرونی آرائش کرتا ہے کہنے لگا’’مُس چاچا‘‘میں آپ کے گھر کی انٹیریئر ڈیکوریشن کروں گا‘ تو میں نے کہا کہ بچے میرے پاس تو گھر میں بجلی کے بلب لگانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ قرض جتنا لے سکتا تھا لے چکا تو میں اس اندرونی آرائش کی عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس پر فضل نے لہک کر کہا ‘مس چاچا‘ آپ مجھے صرف تین سو اجرکیں مہیا کر دیجیے باقی سب کام میرے ذمے۔ ان دنوں جو کوئی مہمان آتا لاؤنج میں داخل ہوتا تو دنگ رہ جاتا۔ تمام دیوراریں ‘ گولائیاں اور کھڑکیوں کے پردے سب کے سب اجرک کی سجاوٹ سے سجے ہوئے‘ بلکہ شائد مصطفی قریشی نے کہا تھا کہ تارڑ صاحب آپ نے تو اپنے گھر کو سندھ بنا دیا ہے۔
اچھا میں نے یہ تفصیل صرف ایک ناقابل یقین ذاتی تجربے کے حوالے سے بیان کی ہے میرا خیال تھا کہ میں اس اجرکی آرائش کو دیکھ دیکھ کر اکتا جاؤں گا ۔اجرک کی مہندی رنگ آرائش اور گل بوٹوں کو برس ہا برس تکتے بیزار ہو جائوں گا اور ایسا ہرگز نہ ہوا۔ دس برس تک ہر سویر جب میں اپنے لاؤنج میں داخل ہوتا تو اجرک کے رنگ اور گل بوٹے یوں دکھائی دیتے جیسے میں زندگی میں پہلی بار اس عجوبہ آرائش کو دیکھ رہا ہوں۔ میں کبھی اسے دیکھ دیکھ کربور نہ ہوا۔ اکتایا نہیں اور تب مجھ پر انکشاف ہوا کہ اگر موہنجو داڑو کے زمانوں سے آج کے زمانوں تک اجرک کے رنگ اور آرائش وہی چلی آتی ہے تو صرف اس لیے کہ یہ ہر دور میں آنکھوں کو بھلی لگتی رہی ہے۔ اس کے رنگوں اور سجاوٹوں کو اس دھرتی نے پسندیدگی کی سند عطا کی ہے۔
یہ پنجاب کا کھیس ہو‘ طرّے دار پگڑی ہو‘ بلوچستان کی گھیرے دار شلوار ہو‘ چترال کی ٹوپی ہو یا نگر اور ہنزہ کے اونی چوغے ہوں یا پھر لوک گیت ہوں۔ رسمیں اور رقص ہوں‘ خوراکیں ہوں۔ اگر یہ سب آج تک پسندیدہ ہیں تو صرف اس لئے کہ دھرتی کی کوکھ میں سے پھوٹے ہیں۔ درآمد شدہ نہیں ہیں۔ ہڑپہ کے بہت ترتیب شدہ میوزیم کے شو کیسوں میں جھانکتے ہوئے میں نے ٹیپو رانا سے پوچھا کہ میوزیم ہڑپہ میں سے برآمد ہونے والے آثار کا ہے تو اس میں موہنجو داڑو کی نشانیاں کیوں نمائش کی گئی ہیں تو انہوں نے جو میں جانتا تھا اسے بیان کیا کہ تارڑ صاحب۔ برصغیر کی قدیم تاریخ ہمیشہ سے ’’ہڑپہ تہذیب‘‘ کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے چنانچہ موہنجو داڑو بھی ہڑپہ تہذیب کا نمائندہ ایک شہر ہے۔ اس لئے اس کے کھنڈروں کے آثار یہاں ہڑپہ میں نمائش کیے گئے ہیں۔
ہم میوزیم سے باہر آئے تو ہماری آنکھوں میں تیز دھوپ کے تیر اترے‘ بدن پسینے میں نہا گیا ‘دماغ پگھلنے لگے‘ اتنی تیز دھوپ تھی۔ اور ہاں ہڑپہ میں موہنجو داڑوکی مانند پرشکوہ تالاب ‘گلیاں‘ کنویں اور چوڑی گلیاں اور رہائش گاہیں نہیں ہیں کچھ ٹیلے ‘کچھ ڈھیر ہیں ‘چند قبریں اور دو چار قدیم دیواریں ہیں اور ایک نادان سیاح مایوس ہو کر کہتا ہے کہ ہڑپہ کہاں ہے۔ وہ قدیم شہر جو موہنجو داڑو پر بھی سبقت رکھتا تھا‘ اس لیے بھی کہ رگ وید میں اور قدیم کتابوں میں اس کا تذکرہ ’’ہری یوپیا‘‘ کے نام سے آتا ہے۔ جسے آریائی دیوی دیوتاؤں نے اندرا ایسی قہر انگیز دیوی نے اپنی بجلیاں گرا کر تباہ کیا تھا۔
موہنجو داڑو کا تذکرہ تو کسی بھی قدیم مخطوطہ میں نہیں ملتا تو وہ ہڑپہ کہاں ہے؟ دراصل وہ ہڑپہ لاہور سے ملتان جانے والی براستہ ساہیوال جانے والی ٹرین کی پٹڑی تلے دفن ہے۔ انگریزوں نے جب یہ ریلوے لائن تعمیر کی تو مقامی ٹھیکیداروں نے ہڑپہ کے کھنڈروں میں بیکار پڑی ہوئی لاکھوں اینٹوں کو کھود کر انہیں بیل گاڑیوں پر لاد کر ٹرین کی پٹڑی تلے بچھا دیا۔ یعنی کیسا معجزہ ہے کہ انسان اپنی تازہ ترین ایجاد ریل گاڑی کی پٹڑی کی بنیاد قدیم ترین تہذیب کی اینٹوں پر رکھتا ہے۔ چنانچہ جب کبھی آپ لاہور سے ساہیوال کی جانب ٹرین پر سفر کرتے ہیں تو جان لیجیے کہ ہڑپہ کی قدیم اینٹوں پر سفر کرتے ہیں۔ انجن کی چھک چھک کے ساتھ اگر دھک دھک کی آواز آتی محسوس کرتے ہیں تو یہ ان ہڑپہ کی اینٹوں کے دل ہیں جو اب تک دھڑکتے ہیں۔ بقول مجید امجد… میرا دل ہے یا شہر میونخ ہے‘ برف گرتی ہے ساز بجتے ہیں۔
مجھے خوشی ہوئی کہ ہڑپہ ایک غفلت زدہ کھنڈر نہیں ہے۔ اس کا دھیان رکھا جا رہا ہے۔ آثار کے درمیان میں سیاحوں کے لیے راستے اور روشیں تعمیر کی جا رہی ہیں اور مجھے خوشی ہوئی کہ روزانہ سینکڑوں بچے سکولوں کے ہڑپہ کے کھنڈروں میں گھومتے اپنی قدیم تاریخ سے آگاہ ہوتے ہیں۔ رانا ٹیپو کا کہنا تھا کہ ستمبر گیارہ کی ستم گری سے پیشتر یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں سے آثار قدیمہ کے طالب علم بہت کثرت سے ہڑپہ آیا کرتے تھے۔ عراق ‘ مصر‘ ترکی اور ہندوستان کے علاوہ آرکیالوجی میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ہڑپہ قدیم تہذیب کا ایک مکہ ہوا کرتا تھا۔ اتنی کثرت سے تو نہیں لیکن اب بھی تحقیق کرنے والے لوگ آتے رہتے ہیں اور ہم انہیں یہاں اپنے ریسٹ ہاؤس میں ٹھہراتے ہیں۔ البتہ مجھے ایک اور طمانیت اور مسرت بہت ہوئی جب ٹیپو نے مجھے بتایا کہ مقامی سکولوں کے نصاب میں ہڑپہ تہذیب کا تذکرہ شامل ہے اور بچے نہایت اشتیاق سے ان کھنڈروں میں بہت وقت گزارتے ہیں۔
ویسے مقامی سکولوں کے نصاب میں ہی کیوں پاکستان بھر کے سکولوں کے نصاب میں ہڑپہ تہذیب کا کوئی باب کیوں شامل نہیں ہے ۔شائد اس لیے کہ ہماری تہذیب کا آغاز ٹین ایجر سپہ سالار محمد بن قاسم کے حملے سے ہوتا ہے۔ اس کی آمد سے پیشتر سوائے تاریکی کے اور کچھ نہ تھا اور اس لیے ایک بچے نے اپنے باپ سے پوچھا تھا کہ ابا جی کیا محمد بن قاسم کے نزول سے پیشتر ہر جانب پانی ہی پانی تھا اور ہم اس بچے کو کیسے بتائیں کہ نہیں‘ اس کی آمد سے پیشتر یہاں پانی ہی پانی نہیں تھا۔ شاندار اور پرشکوہ اور قابل فخر تاریخی قدامت تھی۔ اشوک اعظم‘ چندر گپت موریا‘ پورس اور پانینی بھی تھے ۔ہم اس بچے کو قطعی طور پر یہ تو بتا نہیں سکتے کہ وہ قاہر حجاج کا نوخیز بھتیجا جس نے صرف ایک مسلمان لڑکی کی پکار پر ظلمت کدہ ہندوستان پر دھاوا بول دیا تھا جب واپس گیا تو بغداد کے غلاموں کے بازار میں لونڈیوں‘ باندیوں کے ریٹ گر گئے اگرچہ وہ بھی ایک قالین میں لپیٹ کر ہلاک کر دیا گیا کہ جب وہ واپس گیا تو وہاں اس کے حجاج چاچا نہ تھے۔ ان کی جگہ ایک اور چاچا تخت پر براجمان ہو چکے تھے۔
ہم ہری یوپیا میں تھے۔ بلوچستان کے مہر گڑھ کے بعد برصغیر کے قدیم ترین شہر کے کھنڈروں میں تھے۔ دھوپ کی شدت سہتے گھومتے تھے اور ہر قدم پر ہمارے پاؤں میں کسی ہڑپن دوشیزہ کا گھڑا ٹوٹتا تھا‘ کسی سوہنی کا گھڑا ٹوٹتا تھا کوئی جام ریزہ ریزہ ہوتا تھا۔ کسی بچے کا کھلونا ٹوٹتا تھا اور تب ہمارے بن بلائے گائیڈ نے اعلان کیا کہ اب میں آپ کو ایک ایسا ٹیلا دکھائوں گا جہاں دنیا میں سب سے زیادہ شراب کے پیالوں یعنی گوبلٹس کے شکستہ ڈھیر ہیں۔ واہ! یعنی شراب کے پیالوں کی ٹھیکریوں کے انبار کا ٹیلا۔ چلو چلو وہاں چلو جہاں ہڑپہ کی شراب کے رِند توبہ کر کے اپنے جام توڑتے تھے۔
(بشکریہ:روزنامہ 92 نیوز)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleجیل ، کھیل اور نادرہ خیال: واللہ اعلم /اختر شمار
Next Article بھٹو اور بی بی کی سیاست اور مارکسی ملائیت ۔۔ ڈاکٹر علی شاذف
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

Revisiones de Casinos: La Clave para Jugar con Seguridad

مئی 20, 2026

Karaoke Team slot machine enjoy totally free demo video game casino pandas run on the web

مئی 20, 2026

Ideas on how best slot apps to Deposit & Withdraw Financing So you can Wager Online

مئی 20, 2026
Leave A Reply

حالیہ پوسٹس
  • Revisiones de Casinos: La Clave para Jugar con Seguridad مئی 20, 2026
  • Karaoke Team slot machine enjoy totally free demo video game casino pandas run on the web مئی 20, 2026
  • Ideas on how best slot apps to Deposit & Withdraw Financing So you can Wager Online مئی 20, 2026
  • Jurassic months slot machine james dean online information and facts مئی 20, 2026
  • Avi Hotel & Local casino inside Laughlin, Nevada Your best vacation to the Tx River! Play, casino grey eagle casino win, dine, and stay to possess a memorable experience مئی 20, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.