چترال : صوبہ خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقام چترال میں سیلابی ریلوں کی وجہ سے درجنوں افراد پھنس کر رہ گئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ان میں وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی شامل ہیں۔حکام کے مطابق یہ ریلے ایک اپر چترال میں شاہدس نامی نالے میں طغیانی اور لوئر چترال میں گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ کی وجہ سے آئے ہیں۔
صحافی زبیر خان نے ریسکیو کے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے زمینی راستہ مکمل طور پر منقطع ہے اور دو ٹیمیں دیگر راستوں سے متاثرہ علاقوں اور لوگوں تک پہچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔شاہدس نالے میں شدید طغیانی کے باعث شندور کے مقام پر جاری سالانہ میلے میں شرکت کے لیے جانے والے درجنوں سیاح بھی پھنس گئے اور انھوں نے اتوار کی شب اپنی گاڑیوں میں گزاری۔ان افراد میں ریسکیو 1122 کے ایمرجنسی ڈائریکٹر انجیئر کاشف بھی شامل ہیں جو شندور میلے میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے لیے جا رہے تھے
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ شاہدس نالے میں پانی کا بہاؤ انتہائی تیز تھا اور یہ پانی سڑک پر سے بھی گزر رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ کم از کم 50 چھوٹی بڑی گاڑیاں اس مقام پر پھنس گئیں۔آگے بڑھنے اور پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ رات کے اندھیرے اور دور دراز علاقے میں اس وقت کسی قسم کی امدادی سرگرمی بھی ممکن نہیں تھی جس کے بعد صرف انتظار ہی کیا جا سکتا ہے کہ پانی کا یہ ریلا گزر جائے تو تمام مسافر اپنی منزل کی طرف بڑھ سکیں۔‘انجیئر کاشف کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین برس سے اس نالے میں طغیانی نہیں آئی تھی مگر اس برس سردیوں میں زیادہ برفباری اور حالیہ دنوں میں درجہ حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے گلیشیئرز سے برف تیزی سے پگھلی جس وجہ سے اس نالے میں سیلابی ریلا آیا جس کا ہر سال شندور میلے میں شرکت کرنے والوں کو اندازہ نہیں تھا۔
تاہم اسٹنٹ کمشنر چترال عالمگیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ شاہدس نالے میں اس موسم میں طغیانی معمول کی بات ہے اور اسی وجہ سے چترال کی انتظامیہ نے نوٹس بھی جاری کیا تھا کہ شندور میلے میں شرکت کرنے والے سیاح شام اور دوپہر کے وقت علاقے میں سفر نہ کریں بلکہ چترال سے شندور کی جانب سفر کے لیے صبح سویرے روانہ ہوں تا کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اپنی منزل پر پہنچ سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ دن کے وقت درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے جس وجہ سے گلیشیئرز سے برف بھی تیزی سے پگھلتی ہے اور صبح نو بجے کے بعد پانی کا بہاؤ تیز ہونا شروع ہو جاتا ہے جو کہ عموماً دوپہر اور شام کے وقت طغیانی کا سبب بنتا ہے۔خیال رہے کہ شندور پولو فیسٹیول گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کا مشترکہ میلہ ہے جو ہر سال سات سے نو جولائی تک منعقد ہوتا ہے جاتا ہے۔ ہر سال سیاح دنیا بھر سے شندور کا رخ کرتے ہیں اور یہاں واقع دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ میں منعقد ہونے والے میچوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو)

