نام ور شاعر معالج اور دانشور ڈاکٹر مقصود زاہدی سے ہماری رفاقت کا عرصہ کم وبیش ایک عشرے پر محیط ہے۔ ہم انہیں پہلی بار سکول کے زمانے میں ملے۔ اور پھر 1988ءتک بارہا ان سے ملاقاتیں ہوئیں۔ہماری فکری تربیت میں جن ہستیوں نے بنیادی کردار ادا کیا ان میں ڈاکٹر صاحب کا نام سرفہرست ہے ۔ زاہدی صاحب سے اپنی ملاقاتوں کا احوال ہم مختلف مضامین میں تحریر کرچکے ہیں۔ ان کا یہ انٹرویو ہم نے 1985ءمیں کیا تھا۔ یہ ہماری صحافت کا ابتدائی زمانہ تھا۔ اس زمانے کے انٹرویوز کی کتاب” ملتان سے مکالمہ“زیرطبع ہے۔گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ڈاکٹر صاحب کی صاحبزادی محترمہ ماہ طلعت زاہدی نے ان کی شخصیت کے حیران کن گوشے قلم بند کیے تو جی چاہا کہ ہم بھی اپنی کتاب کاوہ باب قارئین کی نذر کریں جو ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ایک طویل مکالمے پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت پر کام کرنے والوں کے لیے یہ انٹرویو یقیناً اہمیت کاحامل ہوگا۔

۔۔۔۔۔
رضی الدین رضی : ڈاکٹر صاحب آپ نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانے سے کیا اور ”ذکر و فکر“ کے نام سے آپ کے افسانوں اور مضامین کا مجموعہ بھی شائع ہوا تھا لیکن بعد ازاں آپ نے افسانے کی بجائے رباعی پر زیادہ توجہ دی اس کی کیا وجہ ہے؟
مقصود زاہدی: میں نے پہلے پہل افسانوی ادب کا مطالعہ کیا ملکی اور غیر ملکی افسانے پڑھے اور ان سے متاثر ہو کر 1939 ءمیں پہلا افسانہ ” میلے کو“ لکھا ۔ پھر دوسرا افسانہ ”فریب خیال“ پھر کچھ اور افسانے اور مضامین لکھے ان کا مجموعہ بھی شائع ہوا لیکن میں نے یکدم یہ سلسلہ منقطع نہیں کیا ۔ 1950ءتک میں افسانے لکھتا رہا پھر اس کے بعد تنقید کی طرف میلان زیادہ ہو گیا۔
رضی الدین رضی : آپ نے یہ بتایا کہ 1939 ءسے لے کر 1960 ءتک آپ کا رجحان افسانے کی طرف رہا، اس دور میں افسانے کا مزاج کیسا تھا؟
مقصود زاہدی: 1939 ءسے لے کر 1950 ءتک برصغیر میں ترقی پسند تحریک کا زور تھا ۔ بیشتر لکھنے والے ترقی پسند تحریک سے متاثر تھے ۔ کیونکہ زندگی کے بہت سے مسائل کو ترقی پسند تحریک ایک نئے انداز سے دیکھ رہی تھی ۔ قارئین بھی ترقی پسند نظریہ رکھنے والوں کی تحریر خوشی سے قبول کرتے تھے۔ اس زمانے میں لوگ حقائق کی طرف زیادہ توجہ دیتے تھے۔ اس طرح افسانہ نگار بہت سی غلط باتوں کو رد کرتے ہوئے لوگوں کے مسائل پر نظر رکھتے تھے۔
رضی الدین رضی : ان دنوں کس افسانہ نگار کا شہرہ تھا؟
مقصود زاہدی: ان دنوں ایک افسانہ نگار نہیں تھا ۔ پہلے تو سجاد ظہیر، پروفیسر احمد علی ، ڈاکٹر رشید جہاں نے حقائق پر توجہ دی ۔ ” انگارہ“ کے بھی دو شمارے نکالے ۔ اس کے بعد کرشن چندر، عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی، حسن عسکری، اوپندر ناتھ اشک کی ٹیم آئی۔ پھر ابوالفضل صدیقی تھے ۔ ان کو ہم ترقی پسندتحریک سے منسلک نہیں کریں گے ۔ ان کا ایک اپنا رنگ تھا۔ میں بھی اسی انداز سے لکھتا تھا۔
رضی الدین رضی :ترقی پسند تحریک کے حوالے سے یہ بھی پوچھنا چاہوں گا کہ اس تحریک کی ناکامی کا کیا سبب تھا؟
مقصود زاہدی: اس تحریک کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب ہجرت ، تقسیم ملک اور آبادی کا اِدھر سے اُدھر منتقل ہو جانا یہ سب سے بڑا سبب تھا ۔ مثلاً یہاں جو ترقی پسند لکھاری تھے وہ ہندوستان چلے گئے اور ہندوستان سے بہت سے لکھنے والے ایسے آئے جو پہلے ترقی پسند نظریات پر ایمان رکھتے تھے لیکن یہاں آ کر جب انہوں نے معاشرے کا دوسرا رنگ دیکھا تو وہ دامن کش ہو گئے ۔ کچھ عرصہ تو انہوں نے لکھنا ہی چھوڑ دیا لیکن جب لکھا تو ایک دوسرے ہی رنگ میں لکھا۔ میرے خیال میں ترقی پسند تحریک کو تقسیم ملک نے بری طرح متاثر کیا ہے وہ اس لیے کہ مسائل ہی نئے پیدا ہو گئے تھے۔
رضی الدین رضی : اس کے علاوہ کوئی وجہ؟
مقصود زاہدی: میرے خیال میں یہ بہت بڑی وجہ ہے ۔ اس کے علاوہ مذہب کا جب غلبہ ہو جاتا ہے ۔ مذہبی نقطہ ءنظر جب سامنے آتا ہے اور دوملکوں میں متنازعہ کیفیت پیدا ہو تی ہے تو لوگ ریاست سے وفاداری کو اولیت دینے لگتے ہیں ۔
رضی الدین رضی : آپ نے یہ بتایا کہ اس دور میں افسانہ نگار حقائق بیان کرتے تھے اور ترقی پسند تحریک کا ایک نعرہ یہ بھی تھا کہ ” وہ صبح ضرور آئے گی “ ان کے ہاں رجائیت کا اندازہ تھا ۔ یہاں میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ آج افسانہ نگار اپنے افسانوں میں حقائق بیان نہیں کر رہا ؟
مقصود زاہدی: آج کا افسانہ نگار حقائق پیش کر رہا ہے ۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ اور وہ جو آپ نے ”صبح“ کا ذکر کیا ۔ میرے خیال میں ترقی پسندوں کو اس ”صبح“ نے بھی خاصا نقصان پہنچایا ہے ۔ وہ اس لیے کہ یہ تصور کیا گیا کہ شاید لوگ زندگی میں کسی قسم کا انقلاب لانا چاہتے ہیں اور اس سے ظاہر ہے حکومت نے تو گھبرانا ہی تھا ۔ انہوں نے سوچا کہ شاید یہ کوئی ایسا انقلاب لانا چاہتے ہیں جس سے زندگی کی تمام اقدار الٹ پلٹ جائیں گی ۔ اسے ظاہر ہے نیا معاشرہ تو قبول نہیں کرتا ۔ لیکن میرے خیال میں ترقی پسند نقطہ ءنظر کبھی بھی اتنا نہیں ہوتا۔ ہر معاشرے میں ترقی پسندی موجود رہتی ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ لوگ مل بیٹھ کر کوئی مشورہ نہ بنائیں لیکن ترقی پسند نقطہ ءنظر ضرور ہوتا ہے۔ آج کے افسانہ نگاروں میں بھی یہ بات موجود ہے۔
رضی الدین رضی : جابر علی سید صاحب نے ایک جگہ کہا تھا کہ ” مغرب میں شاعری کے زوال کے باعث نثری نظم وجود میں آئی اور علامتی افسانہ اس لیے وجود میں آیا کہ افسانہ نگاروں کے پاس کہنے کو کچھ نہ رہا تھا “۔ کیا آپ اس بات سے متفق ہیں ؟
مقصود زاہدی: جب اظہار پر کسی قسم کا جبر مسلط ہو جائے تو خواہ وہ اظہار افسانے میں ہو یا نظم اور غزل میں لوگ باگ علامات کا سہارا لیتے ہیں اور علامتی انداز میں باتیں کہتے ہیں ۔ کیونکہ بات تو ضرور کہنی ہے۔ اگر یوں نہیں کہیں گے تو علامات کے انداز میں کہیں گے ۔
رضی الدین رضی : قیام پاکستان سے پہلے بھی انگریزوں کی پابندیاں ہوں گی انہوں نے جبر مسلط کیا ہو گا ۔ اس دور میں علامتوں کا سہارا کیوں نہیں لیا گیا ؟
مقصود زاہدی: اس دور میں علامتوں کا سہارا اس لیے نہ لیا گیا کہ اول تو انگریز ہر معاملے میں فراخ دل تھا ۔ اسے معلوم تھا کہ اس کے اپنے ملک میں لوگ ڈٹ کر اظہار خیال کرتے ہیں ۔ کیونکہ وہاں اظہار خیال پر کوئی خاص پابندی عائد نہ کی گئی ۔لیکن ایک بات ضرور ہے کہ جب بھی کوئی لکھنے والا معاشرتی حدود و قیود سے تجاوز کرتا تو اس سے معاشرے کی طرف سے لے دے ہوتی تھی جس پر حکومت گرفت کرتی تھی ۔ مثلاً عصمت چغتائی کے افسانے ” لحاف“ کا خاصا نوٹس لیا گیا ۔
رضی الدین رضی : اس کا مطلب یہ ہے کہ اظہار موروضی صورت حال کے طابع ہے ۔ اگر یہ صورت حال بدل جائے گی تو ہمارے اظہار کا زاویہ بھی بدل جائے گا؟
مقصود زاہدی: جی بالکل بدل جائے گا ۔ قیام پاکستان سے پہلے صورت حال مختلف تھی ہم انگریزوں کے طابع تھے ۔ اب ہم ایک آزاد ملک کے شہری ہیں ۔ ہمارے مسائل بدل چکے ہیں ۔ اُس وقت صورت حال کچھ اور تھی اب کچھ اور ہے۔
رضی الدین رضی :ڈاکٹر صاحب آپ نے بہت سے یادگار خاکے بھی لکھے ہیں ۔ آپ اب تک کتنے خاکے لکھ چکے ہیں ؟
مقصود زاہدی: تقریباً 30 خاکے لکھے ہیں جن میں سے 12 شائع ہوئے ہیں ۔ یعنی ایک کتاب اور منظر عام پر آ سکتی ہے۔
رضی الدین رضی : آج کل خاکہ لکھنے کی بجائے خاکہ اڑانے پر توجہ دی جاتی ہے ۔ آپ کے خاکوں سے سنجیدگی جھلکتی ہے تو آپ کے خیال میں خاکے کی کیا حدود ہونی چاہیئے جس میں رہتے ہوئے خاکہ نگار خاکہ لکھ سکے۔
مقصود زاہدی: میرے خیال میں کبھی بھی تخلیق کار کے لیے حدود کا تعین تو نہیں کیا جا سکتا ۔ کسی بھی تخلیق کار پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی کہ وہ اس طرح سے ان حدود میں رہ کر لکھے۔ ہر شخص اپنے انداز میں لکھتا ہے ۔ جن کی طبیعت میں مزاح ہوتا ہے ان کے خاکوں میں بھی مزاح جھلکتا ہے ۔ فارغ بخاری کے ہاں مزاح جھلکتا ہے ۔ ہر ایک کا جدا انداز ہوتا ہے ۔ میں جن لوگوں سے متاثر ہوا ہوں میں نے ان کے خاکے لکھے۔ لیکن میں نے ان کا خاکہ اڑانے کی کوشش کبھی نہیں کی ۔
رضی الدین رضی : ڈاکٹر صاحب آپ نے یہ کہا کہ آپ جن لوگوں سے متاثر ہوئے آپ نے ان پر خاکے لکھے تو متاثر ہو کر کسی کا رنگ بھی اپنایا جاتا ہے ۔ افسانے میں شاعری یا خاکہ نگاری میں آپ نے کسی کا رنگ اپنایا؟
مقصود زاہدی: میرے خیال میں خاکہ نگاری میں مَیں کسی خاص شخص سے متاثر نہ تھا۔ میں نے اگر خاکے پسند کیے تھے تو وہ احمد بشیر کے خاکے تھے۔ انہوں نے میرا جی کا ایک خاکہ لکھا تھا۔ لیکن میں نے ان کے خاکوں سے کوئی اثر نہیں لیا۔ میرا ایک اپنا انداز تھا ۔ اپنی یادوں کے حوالے سے لکھتا رہا ۔
رضی الدین رضی : آپ نے تنقیدی مضامین بھی لکھے اس حوالے سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ آج کے نقاد پر الزام ہے کہ اس کا رویہ جانبدارانہ ہوتا ہے۔ جس کے باعث تنقید کا معیار بڑھنے کی بجائے گر رہا ہے ۔ نقادوں کے اس رویے پر آپ کیا کہنے چاہیں گے ؟
مقصود زاہدی: بہت افسوس ناک پہلو ہے اور یہ ہمارے ادیبوں میں اس لیے آیا ہے کہ اس میں گروہ بندی کا بہت عمل دخل ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اچھا لکھنے والے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے محض اس لیے کہ وہ ہمارے حلقے سے تعلق نہیں رکھتا ۔
رضی الدین رضی : یہاں تو گروہ بندی نے ادب کو نقصان پہنچایا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ گروہ بندی ادب کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے ؟
مقصود زاہدی: ہاں اگر گروہ بندی میں شاعر اور ادیب ذاتیات پر حملے نہ کریں ، کسی کی پگڑی نہ اچھالیں تو مقابلے کا سا رجحان پیدا ہو جاتا ہے اور وہ بہت صحت مند رویہ ہوتا ہے ۔
رضی الدین رضی : اس کا مطلب ہے کہ اخبار کے ایڈیشن سے کچھ فائدہ ہوا ہے ؟
مقصود زاہدی: اوپندر ناتھ اشک نے ایک بار کہا تھا کہ میں اس بات کا قائل ہوں کہ آدمی جب کچھ لکھے تو چھپے ضرورخواہ وہ پرچہ کسی بھی معیار کا ہو۔ اس سے کوئی بحث نہیں ۔ لکھاری کو چھپنا چاہیے۔ اس لیے اخبارات لکھاری کو چھپنے کا موقع تو دیتے ہیں ۔
رضی الدین رضی :ہمارے ہاں بعض پرچے چھ ماہ بعد یا بسا اوقات ایک سال بعد شائع ہوتے ہیں اور پھر قیمت اور ضخامت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایک عام آدمی اسے نہیں خرید سکتا۔ یہ ادب کی خدمت تو نہ ہوئی ۔ یہ تو سرا سر کاروبار ہو گیا۔
مقصود زاہدی: نہیں یہ ادب کی خدمت بھی نہیں اور ادیبوں کو سب سے زیادہ نقصان بھی اسی وجہ سے ہوا ہے کہ ایک انار سو بیمار والا معاملہ ۔ ایک پرچہ ہوتا ہے اور لکھنے والے زیادہ ہوتے ہیں ۔ اب تو تین چار سال سے جگہ جگہ سے چھوٹے چھوٹے پرچے نکل رہے ہیں جن سے لوگوں کو بڑا سہارا ہوا ہے اور لکھنے کے ذرائع انہیں میسر آئے ہیں ۔
رضی الدین رضی : ادبی پرچوں اور اخباروں کے ذکر پر یاد آیا کہ آپ کا صحافت سے بھی تعلق رہا ہے اور آپ اداریہ لکھا کرتے تھے۔
مقصود زاہدی: میں جس زمانے میں اپنی کتاب ”ذکر و فکر “ چھپوا رہا تھا تو میں کوئی ایک ڈیڑھ ماہ دِلی میں رہا اور دِلی میں یونہی گھومتا پھرتا تھا ۔ اس زمانے میں رشید بزمی ایک اخبار سے منسلک تھے جس کا نام ” الجمیعت“ تھا ۔ رشید اختر ندوی اس کے مدیر تھے ۔ انہوں نے مجھے کہا کہ زاہد صاحب اخبار والوں کو ایک ایڈیٹر کی ضرورت ہے ۔ آپ وہاں کام کریں اور اس کا اداریہ لکھا کریں ۔ پرچے کا نام ” مسلمان “ تھا ۔ انہوں نے ہمیں ملوا دیا۔ میں وہاں جا کر اداریہ لکھ دیا کرتا تھا ۔ پھر انہوں نے مجھے ایک ہندو سے ملوایا جن کا پرچہ ” آج“ شائع ہوتا تھا ۔ انہوں نے بھی اداریے کی خواہش ظاہر کی ۔ اب ان دونوں پرچوں کا مزاج مختلف تھا ۔ دونوں پرچوں کے مسلک مختلف تھے ۔ پھر ” الجمیعت“ میں بھی میں ادارتی نوٹس لکھنے لگا ۔
رضی الدین رضی : ان کی پالیسیاں مختلف تھیں ؟
مقصود زاہدی: بالکل مختلف، تینوں پرچوں میں کوئی مطابقت نہ تھی ۔ تینوں کے لیے مختلف انداز میں سوچنا پڑتا تھا ۔
رضی الدین رضی : آپ تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن رہے تو کیا اس دوران قائد اعظم سے آپ کی ملاقات ہوئی ؟
مقصود زاہدی: میں قائد اعظم سے ایک بار نہیں متعدد بار ملا تھا ۔
رضی الدین رضی : پہلی مرتبہ آپ قائداعظم سے کب ملے تھے ؟
مقصود زاہدی: 1937 ءمیں ۔
رضی الدین رضی :آپ کی عمر کیا تھی اس وقت؟
مقصود زاہدی: 19 یا 20 سال ۔
رضی الدین رضی : قائد اعظم سے آپ کی ملاقاتیں کتنی کتنی دیر کی رہیں ۔ یعنی طویل ترین ملاقات کتنی رہی ۔
مقصود زاہدی: قائداعظم سے اس طرح ملاقاتیں نہیں رہیں کہ میں نے بطور خاص ٹائم لیا ہواور ان سے بیٹھ کر باتیں کی ہوں مگر یہ کہ تقاریر میں ان کے ساتھ رہا ۔ لکھنوءمشن میں مجھے سٹیج پر ان کے پس پشت ڈیوٹی دینے کا شرف حاصل ہوا ۔ اس اجلاس میں مولانا ظفر علی خان بھی موجود تھے ۔
رضی الدین رضی :ایک دلچسپ واقعہ آپ اکثر سنایا کرتے ہیں کہ آپ نے اپنی کتاب ”ذکر و فکر“ گھر گھر جا کر فروخت کی ؟
مقصود زاہدی: ڈاکٹر عابد حسین نے مجھ سے کہا کہ آپ نے کتاب تو چھپوا لی ہے لیکن آپ یہ بتائیں کہ آپ اس کو فروخت کیسے کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ فرداً فرداً ہر شخص سے ملیں اور اس کتاب کو متعارف کرائیں ۔ اس سے آپ کو یہ فائدہ ہوگا کہ آپ کی اپنی شخصیت میں نکھار پیدا ہو گا اور کتاب بھی فروخت ہو جائے گی ۔
رضی الدین رضی : کیا قیمت تھی کتاب کی ؟
مقصود زاہدی: ایک روپیہ۔
رضی الدین رضی : اور صفحات کتنے تھے؟
مقصود زاہدی: 128 صفحات تھے اس میں ۔ زیادہ افسانے ہیں ، کچھ مضامین اور دو انشائیے ہیں ۔ کتاب سے میرے ذہنی رحجان کا اندازہ ہوجا تا ہے۔ میں سیاسی طور پر سوچتا تھا ۔ پھر انشائی رنگ بھی تھا ۔
رضی الدین رضی : انشائیے کے بارے میں آج کل بہت سی متضاد آراءپائی جاتی ہیں ۔ آپ کے نزدیک انشائیے کی اصل تعریف کیا ہے ؟
مقصود زاہدی: انشائیے کا مسئلہ ایسا ہے کہ لوگ اس بارے میں بہت کچھ کہہ رہے ہیں ۔ لیکن صورتحال رہی کہ ہم مغربی ادب سے متاثر ہوئے اور وہاں سے یہ صنف لی ۔ وہاں یہ Eassy تھا یہاں انشائیہ ہے۔
رضی الدین رضی : آپ کے نزدیک پہلا انشائیہ نگار کون ہے یعنی انشائیے کی ابتداءکہاں سے ہوئی ؟
مقصود زاہدی: ہمارے ہاں تو انشائیے کی ابتدا سر سید احمد خان سے ہوئی ۔ تہذیب اخلاق میں انہوں نے یہ مضامین شروع کیے اورپھر ان کی رو چل پڑی۔
رضی الدین رضی : آپ کی اصل پہچان رباعی ہے۔ آپ نے خود کو رباعی تک کیوں محدود رکھا؟
مقصود زاہدی: میں نے کچھ نظمیں بھی لکھیں ۔ لیکن صورت یہ ہے کہ میں نے جب ہوش سنبھالا تو میں اپنے والد کے پہلو میں لیٹا ہوتا تھا اور وہ مجھے میر انیس دبیر کی رباعیاں سنایا کرتے تھے۔ میں وہ یاد کر لیتا اس کا اثر میرے ذہن پر ایسا ہوا کہ میں نے سوچا کہ رباعی ایسی صنف ہے جس میں چار مصرعوں میں خوبصورتی سے بات کہی جا سکتی ہے۔ بس پھر میں نے رباعی پر ہی توجہ دی ۔
رضی الدین رضی : رباعی میں عموماً صوفیانہ ، فلسفیانہ اور اصلاحی مضامین ہوتے ہیں ۔ آپ نے رباعی میں کن موضوعات پر توجہ دی ہے ؟
مقصود زاہدی: جس طرح سے کوئی بھی صنف کسی موضوع کی پابند نہیں اس طرح رباعی بھی پابند نہیں ہے۔ پہلے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ رباعی میں صوفیانہ اور فلسفیانہ مضامین ہوتے ہیں لیکن میر کی رباعیات میں وہی غزل والا انداز ہے ۔ اکبر الہ آبادی کے ہاں طنز اور مزاح آ گیا۔
رضی الدین رضی : آپ نے رباعی میں کوئی تجربہ کیا ہے ؟
مقصود زاہدی: نیا تجربہ یہی ہے کہ میں ہر موضوع کو چار مصرعوں میں سمونے کی کوشش کرتا ہوں ۔ یہ ہے تو مشکل کام مگر جب کسی کو کسی صنف سے محبت ہو جائے تو اس کے لیے یہ کام آسان ہو جاتا ہے ۔
رضی الدین رضی : آپ پر ایک الزام یہ ہے کہ آپ غزل کو پسند نہیں کرتے اور اس لیے آپ نے غزل نہیں کہی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ شاعروں کے بھی مخالف رہے ہیں ؟
مقصود زاہدی: میں غزل کا مخالف نہیں ہوں بلکہ شاعروں کی اس زندگی کا مخالف ہوں جس میں وہ اپنی ر اتیں مشاعروں کی نذر کر دیتے ہیں یا یہ کہ وہ دوست احباب کی محفلوں اور ہوٹلوں میں بیٹھ کر گھر بار کو بھول جاتے ہیں ۔ اس قسم کا شاعر ہونا میں نے کبھی پسند نہیں کیا کہ انسان اپنی بیوی بچوں سے بے خبر ہو کر مشاعروں میں بھاگا پھرے ۔ عرش صدیقی میرے پڑوس میں رہتے تھے انہوں نے مجھے دعوت نامہ بھیجا کہ مظفر گڑھ میں مشاعرہ ہے آپ وہاں چلیں آپ کو پچاس روپے ملیں گے ۔ یہ خاصی پرانی بات ہے ۔ میں نے انکار کر دیاکہ میں اس انداز میں مشاعرے پڑھنے کا قائل نہیں ۔
رضی الدین رضی : ڈاکٹر صاحب آپ کو یاد ہو گا کہ گاندھی جی نے اردو ہندی تنازع کو ہوا دی تھی ۔ اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟
مقصود زاہدی: جہاں تک اردو ہندی کا تعلق ہے یہ بہت پرانا مسئلہ ہے ۔ مولوی عبدالحق نے اس مسئلے پر بہت کچھ لکھا اور وہ اردو کے بڑے حامیوں میں سے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اردو ہندوستان کے ہر طبقے کی زبان ہے۔ لیکن ایک بات جو میں نے محسوس کی کہ ہندوؤ ں کا اردو کے بارے میں رویہ اتنا متعصبانہ نہیں تھا ۔ یعنی جس سکول میں میں پڑھتا تھا اس میں اردو کی کلاس ہوتی تھی تو اس میں تو بہت سے ہندو لڑکے آن بیٹھتے تھے۔ لیکن جب ہندی کی کلاس لگتی تھی تو اس میں مسلما ن ایک آدھ ہی ہوتا تھا ۔ یعنی مسلمانوں میں یہ فراخدلی نہ تھی کہ وہ ہندی کو اس طرح پڑھتے جس طرح ہندو اردو کو پڑھتے تھے ۔ اگر یہ کیفیت ہوتی تو ہندو بھی اردو سے بےزار نہ ہوتے بلکہ ان کا رویہ مختلف ہوتا۔
رضی الدین رضی : آپ ملتان کے ادب پر رائے دیتے ہوئے بتائیں کہ ملتان میں ادب کے مستقبل سے آپ کس حد تک پر امید ہیں ؟
مقصود زاہدی: میرا خیال ہے کہ ہر ادبی تنظیم کچھ نہ کچھ کام کر رہی ہے ۔ پھر اخبارات کے ادبی ایڈیشنوں اور ادبی پرچوں نے بھی خاصا کام کیا ہے۔
رضی الدین رضی : آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اپنے قیمتی لمحات میں سے کچھ وقت ہمارے لیے نکالا۔
مقصود زاہدی: آپ کا بھی شکریہ ۔
( روزنامہ نوائے ملتان ، منگل 2 اپریل 1985 ءملتان )

