قیصر عباس صابرکشمیرلکھاری

بارش، برف ، آبشاریں اور گھوڑے : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

جیپ دواریاں سے رتی گلی کی طرف روانہ ہوئی تو بارش نے بھرپور ساتھ دیا ۔ فوربائی فور جیپ میں ڈرائیور اور ساجد کے علاوہ ہم سب اپنے بچوں سمیت گیارہ سیاح تھے جو پل سے گزرتے ہوئے پانی کی روانی کی متضاد سمت پختہ سڑک پر اوپر کی طرف یوں اٹھ رہے تھے جیسے چاند گاڑی کا سفر ہو۔ صرف ایک کلومیٹر بعد پختہ سڑک پتھریلی راہگزر میں تبدیل ہوئی تو پہاڑ ی سفروں والے ہچکولے شروع ہوگئے۔ بارش نے موسم کو تو آگ لگاہی رکھی تھی اس پر تیل چھڑکنے کا کام وہ چھوٹی چھوٹی ندیاں کررہی تھیں جو دائیں جانب کے بلند پہاڑوں سے اترتی تھیں اور سڑک نما راستے کو عبور کرکے اس تیز بہاﺅ والے نالے میں شامل ہورہی تھیں جو رتی گلی جھیل سے آتا تھا اور دواریاں کے مقام پر نیلم کا حصہ بنتا تھا۔
آپ جب کسی اچھے خطیب کو سنیں ، کوئی دل کو موہ لینے والا نغمہ سنیں یا کسی ایسی شخصیت کو دیکھیں جو آپ کو اپنی نشست سے کھڑا ہونے پر مجبور کردے اور آپ تالیاں بجانے لگیں ، سبحان اللہ کا ورد کرنے لگیں ، بالکل ایسے ہی یہ مناظر آپ کو اپنی نشست سے کھڑا کرکے تالیاں بجانے پر مجبور کردیتے ہیں ، آپ گنگنانے لگتے ہیں۔
میں جیپ کی چھت اتروا کر کھڑا ہوگیا تو سب بچے بھی کھڑے ہوگئے۔ تالیاں بجانے لگے ، گیت گانے لگے۔ بلندو بالا درخت یوں تھے جیسے آب زم زم سے نہائے ہوئے تھے اور ان درختوں پر لاتعداد رنگوں کے پھول تھے ،کسی بھی پہاڑی سفر میں اتنے گلیشیئر نہیں آتے جتنے دواریاں سے رتی گلی کے رستے میں پڑتے تھے۔ جابجا آپ برف پر چلتے تھے، جیپ مشکل سے پھسل جانے سے بچی تھی۔ تین گھنٹے کی جیپ ڈرائیو بہت آسان لگ رہی تھی۔
بہت سی آبشاریں جو ہماری جیپ کو ڈوبنے سے ذرا سا بچاتی تھیں اور ان میں تو ڈوب جانا بھی برا نہیں لگتا تھا۔ کنول، فوزیہ دونوں مل کر سندس کو بولنے پر ،لب کھولنے پر اکساتی تھیں مگر پھر اپنا سا منہ بنا کر بیٹھ جاتی تھیں۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے غلام شبیر اور راشد ڈوگر ہم سے بالکل ہی لاتعلق تھے۔ راشد صرف ویڈیو بناتے تھے ۔ اس کیمرہ مین کی طرح جو حادثے میں زخمی ہونے والے کو ریسکیو کرنے سے زیادہ اہمیت ویڈیو بنانے اور اسے اپ لوڈ کرنے کو دیتا ہے۔ ان کو یہ منظر اپنی نظروں کے راستے ذہن کی میموری میں محفوظ کرلینے چاہیے تھے اور آبشاروں کی قدرتی سر یں سماعتوں میں رس گھولنے کے لئے کافی تھیں۔ کس قدر شفاف پانی تھا جو بڑے پتھروں سے ٹکراتا ہوا اپنے بہاﺅ میں بے مثال تھا اور ہم اس کے الٹ رخ کی طرف اوپر اٹھتے چلے جاتے تھے ۔
جیپ کے انجن کی آواز اس وادی میں زہر گھولتی تھی ۔ کتنے پھول اور رنگ بد ذائقہ ہوجاتے تھے ، کتنے پرندے بے اماں ہوتے تھے ، ڈیزل کا دھواں بھی اس خالص ماحول میں ایک ملاوٹ تھا ۔ ہم سب سے بڑے تماش بین تھے جو اس وادی کو طوائف سمجھ کر آلودہ کرنے چلے جارہے تھے ۔ یہ وادی صرف ایک قدرتی شاہکار نہ تھی بلکہ وجود کے اندر چھپے وحشی کی حسین قاتل بھی تھی ۔ ہمارے اندر جو سفاکیت خون کی نالیوں میں رواں تھی اس کو بھی کم کرتی تھی۔ اس وادی کے حسن کو دیکھ کر ہم اپنے آپ سے کراہت محسوس کرتے تھے۔ برف کے تودے جو کئی مہینوں سے آرام فرماتے تھے اب ان کے اندر سے پانی نے سوراخ کرلئے تھے ، اپنے رستے بنالئے تھے اور انہی برفیلے نالوں سے کشید ہوکر گزرنے والا پانی ہمارے اندر کپکپاہٹ پیدا کرتا تھا۔ دائیں جانب ایستادہ چوٹیوں سے لڑھکتے ہوئے گلیشئرز راستوں میں رکاوٹ تھے مگر انسان نے اپنی وحشت سے ان کے اطراف سے رستے بنالئے تھے۔
دواریاں سے رتی گلی تک انیس آبشاریں، بیالیس ندیاں اور سات گلیشیئر ز آپ کے سفر کو خوشگوار بناتے ہیں ۔ ہم خوش نصیب تھے جو جولائی کے آخری ایام میں آبشاروں کو دیکھتے تھے ، ندیوں کو عبو ر کرتے تھے اور گلیشیئرز پر قدم دھرتے تھے ۔ مسلسل بلند ہوتی چڑھائی کے بعد جیپ رک گئی ۔ وہاں اور بھی کئی جیپیں رکی تھیں ، کچھ چڑھنے والی اور کچھ اترنے والی۔ سڑک کے ایک طرف لکڑی کے کھوکھے میں پکوڑے تلے جارہے تھے جس کی خوشبو ماحول میں پھیلی تھی اور دوسری طرف چائے پراٹھے بن رہے تھے۔ ظاہر ہے یہی ہم سب کا پسندیدہ مشغلہ بھی تھا اور پیٹ کی مجبوری بھی ، اس لئے خوب پلیٹ پر پلیٹ اور کپ پر کپ چلتا رہا۔ جب ہم پکوڑوں کے ساتھ انصاف کررہے تھے اس وقت راشد آنے جانے والیوں کی ویڈیو بنا کر وطن عزیز کے روشن چہرے کی شہادت دے رہے تھے کہ کون کہتا ہے پاکستان میں انتہا پسندی ہے ، جبر مسلط ہے جو خواتین کو باہر نکلنے نہیں دیتا، یہ دیکھو ثبوت کہ ٹھنڈے موسم میں آگ بگولہ ہوئے جاتے چہرے اور رتی گلی سے واپسی پر سیراب اور آباد آنکھیں۔ہمارے ساتھ بھی خواتین تھیں جو لڑکیاں بنی جاتی تھیں اور اپنے بنے جانے پر بضد بھی تھیں۔
ہم بالکل نہیں جانتے تھے ، ہم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ صرف ایک گھنٹے بعد ہم جہاں اترنے والے ہیں وہ اک اور جہاں ہے جو پہلے تصویروں میں یا تصور میں بھی نہیں دیکھا گیا اور کچھ موسم کا کمال بھی تھا کہ اگر شیش ناگ جیسے بادل نہ ہوتے تو یہاں دھوپ ہوتی ، زرد دھوپ اور وہ ہمیں اس وادی کے حسن میں غرق ہونے سے بچاتی ، مگر اس موسم نے بھی ہمارے دلوں کو ہمیشہ کے لئے فتح کرلیا اور الزام رتی گلی پر آگیا ۔ یہ بادل اور بارش ہمیشہ کے لئے تو یہاں نہیں رکتے ، ان کے بغیر بھی تو یہ ایک وادی تھی ، درخت تھے، پھول تھے، ندیاں رواں تھیں اور دھوپ میں تو ان ندیوں کی طغیانی بڑھ جاتی تھی، مگر اس وقت بادل اور بارش نے اس وادی کو نکھارا ہوا تھا ، چار چاند لگائے تھے۔
پکوڑے ، چائے اور نمکو کھالینے کے بعد ہم چاند گاڑی جیسی جیپ پر آگے کی جانب بڑھتے تھے اور رتی گلی کے فاصلے کم ہوتے جارہے تھے ۔ ایک اور موڑ راستے میں آن پڑا، برف کے پل پر سے گزرتے تھے اور پل کے نیچے پانی رواں تھے ۔ یہ پل چند دنوں کا مہمان تھا کہ جس رفتار سے برف پگھل کر پانی میں تبدیل ہورہی تھی ، بس یہ چند دنوں کے لئے ہی قائم رہ جانے والا پل رہ گیا تھا جو پگھلتے پگھلتے پہلے راستے پر رکاوٹ بنا پھر پل بنا اور پھر اس نے ختم ہوجانا تھا اور نیچے کھائی میں ایک راہ گزر رہ جانے والی تھی ، پتھریلی راہ گزر، شائد واپسی پر ہم نے برف کے پل کی بجائے پتھریلی کھائی والی راہ گزر سے گزرنا تھا۔ ایک گھنٹہ مزید سفر میں رہ کر اپنی منزل کے ابتدائی پڑاﺅ پر پہنچنا تھا ۔ جیپ کے ہچکولے اس خوبصورت انداز میں لگتے تھے کہ جھولے محسوس ہوتے تھے ۔ یہ سب اس موسم، بارش، برف ، ندیوں اور بادلوں کا کمال تھا کہ صرف ہم ہی نہیں ہمارے ساتھ ایک دنیا رواں تھی۔
بلندی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھی کیونکہ اب ہوا میں برف شامل تھی ۔ رفتہ رفتہ یہ ڈھلوان راستہ میدان میں بدلنے لگا اور ہم ایک کھلے پہاڑی درے میں آتے گئے جہاں رتی گلی سے آنے والی ندی بہت نیچے رہ گئی اور ہم دو پہاڑی دیواروں کے درمیان چلنے لگے ۔ اس ماحول کو ہمارے دیکھتے دیکھتے دھند نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ ابھی ابھی بارش ہوکر تھمی تھی ، سامنے خیموں کا ایک شہر آباد تھا یہی رتی گلی کی عارضی خیمہ بستی تھی ، جہاں جیپیں اور گھوڑے بڑی تعداد میں موجود تھے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker